کھوار ناول ’’انگریستانو‘‘ اور ظفراللہ پروازؔ کی شخصیت -تحریر: ذاکر محمد زخمیؔ
کھوار ناول ’’انگریستانو‘‘ اور ظفراللہ پروازؔ کی شخصیت – تحریر: ذاکر محمد زخمیؔ
اجنو تورکھو حال بونی
.
.
مختصر تعارف:
نام: ظفر اللہ (تخلص: پروازؔ)
جائے پیدائش: بونی، چترال
تاریخ پیدائش: 1957ء
کھوار رائٹر، ناول نگار، شاعر، نثر نگار و افسانہ نگار
طبع شدہ کتاب: انگریستانو (کھوار)
شاعری زیرِ طبع
مقالہ جات: مختلف موضوعات پر ادبی رسالے کھوار نامہ اور سوشل میڈیا پیجز پر مستقل شائع ہوتے رہے ہیں۔

Zafarullah Parwaz
اعزازات:
لوک ورثہ اسلام آباد سے ایوارڈ، کلچر ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا سے ’’ثقافت کے زندہ امین‘‘ ایوارڈ، لوکل تنظیم ’’کھوار اہلِ قلم‘‘ کی جانب سے خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ، انجمن ترقی کھوار چترال سے ’’بابائے کھوار کمالِ فن‘‘ ایوارڈ، یونیورسٹی آف چترال سے ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ، اور کئی نجی تنظیمات کی جانب سے مختلف اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔
کئی اہم سیمینارز میں شرکت اور نمائندگی کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ زبان، ادب اور ثقافت پر متعدد مقالے پیش کر چکے ہیں۔ پروازؔ صاحب نے 2022ء میں پشاور لٹریچر فیسٹیول ’’پشاور ادبی میلہ‘‘ میں شرکت کر کے اپنی کتاب پر مقالہ بھی پڑھا۔
نومبر 2023ء میں LUMS یونیورسٹی لاہور میں منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس میں شرکت کر کے ’’پاکستان کے شمالی علاقوں کا ادبی منظرنامہ‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔
2024ء میں سندھ لینگویج اتھارٹی کے زیرِ اہتمام دوسری بین الاقوامی لینگویج کانفرنس میں شرکت فرما کر چترال اور گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔
ظفر اللہ پروازؔ سے وابستگی اور رفاقت بہت پرانی ہے۔ میرے جگری دوست ہیں اور زندگی کے اکثر روز و شب ایک دوسرے کے ساتھ گزرے ہیں۔ پیار و محبت کا رشتہ بھی ہے اور اختلافِ رائے کی بنیاد پر جھگڑے فساد کی نوبت بھی آ جاتی ہے، مگر یہ عارضی ہوتے ہیں۔ اس تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کوئی ظفر اللہ پروازؔ کے بارے میں مجھ سے کچھ کہلوانا چاہے تو ان کے متعلق کچھ لکھتے ہوئے ایک عجیب مخمصے کا شکار ہو جاتا ہوں، کیونکہ پروازؔ کے بارے میں کچھ لکھنا اور پھر پروازؔ کو مطمئن پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
پروازؔ کی اندرونی اور بیرونی دنیا ایک تضاد کا مجموعہ ہے۔ اندرونی دنیا میں ایک کائنات آباد کیے ہوئے ہیں اور بیرونی دنیا ایک پھول ہے جو صرف خوشبو بکھیرتی ہے۔ پروازؔ ہر چیز کو باریک بینی سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ کسی چیز پر اپنی رائے ایسے قائم کرتے ہیں کہ پھر اس رائے کو بدل دینا کسی کے بس کی بات نہیں رہتی۔ وہ اپنا الگ نقطۂ نظر رکھتے ہیں اور اس میں کسی کی مداخلت کو نہ برداشت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سے مطمئن ہوتے ہیں۔ جب کسی کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں تو لاکھ کوشش کی جائے، بے سود۔ اپنی رائے مسلط کر کے ہی انہیں چین آتا ہے۔
وہ ربط و بے ربطگی کا بھی مجموعہ ہیں۔ وہ خوددار اور پُراعتماد شخصیت کے مالک ہیں۔ کسی کے زیرِ اثر رہنے کے عادی نہیں۔ وہ آزاد پرندہ ہیں، جب چاہیں جہاں چاہیں، وہاں چہچہاتے ہیں۔
ملازمت کے لیے لوگ جتن کرتے ہیں، مگر سب سے قابل ہوتے ہوئے بھی ایک معتبر ملازمت کو اس لیے خیرآباد کہہ دیا کہ اس میں شاید کسی کے حکم کے تابع ہونا پڑتا۔ اصول پرستی کو مقدم جانا تو کسی بھی ادارے کے ساتھ نبھانا دشوار ہو گیا۔ ٹھیکیدار بننے کی کوشش کی تو یہ ان کے دسترس سے کوسوں دور کا سفر نکلا۔ سیاست کرنے کا سوچا تو یہ ان کے بس کی بات نہ تھی، کیونکہ وہاں جھوٹ، فریب اور دھوکے کے بغیر کامیابی ناممکن تھی، جو پروازؔ کے مزاج کے خلاف تھے۔ یہاں بھی اصول پسندی اور صداقت رکاوٹ بنی۔ آپ ایک آزاد خیال پرندہ ہیں؛ قفس میں خود کو قید کرنا اور کسی دوسرے کے حکم کی تابعداری پروازؔ کی فطرت میں شامل نہیں۔
بالآخر جب کسی بھی ماحول کو اپنے مزاج اور طبیعت کے مطابق اور موافق نہ پایا تو حیران و سرگرداں بھٹکتے ہوئے ادب کے گلستان میں خود کو پا لیا۔ آپ کی عادت میں ایک بات شامل ہے کہ وہ دنیا کی کسی بھی چیز کو سنجیدہ لینے میں دیر کرتے ہیں اور اکثر سنجیدہ لیتے بھی نہیں۔ دنیاۓ ادب میں آپ کی آمد بھی محض دل بہلاوے اور خود کو مختصر مدت تک محظوظ رکھنے کی نیت سے ہوئی۔ مشاعرے میں بیٹھنے کو بھی صرف تفریحِ طبع کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ یہ ان کی خام خیالی تھی، کیونکہ وہ ایک ایسے جال میں پھنس چکے تھے جہاں سے نکلنا ان کے لیے مشکل تھا۔
آپ انتہائی کاہل، سست اور ترتیب سے عاری شخصیت ہیں۔ دنیا کی کسی بھی چیز کو نہ سنجیدہ لیا اور نہ سنجیدہ لینے کی کوشش کی۔ اگر آپ کو بونی سے کراچی تک سفر کرنا پڑے تو فکر نہیں کہ جیب بھری ہے یا خالی۔ اپنی جائیداد کی باؤنڈری کا شاید علم ہو، مجھے یقین نہیں۔ ہر غریب آپ کا دوست، ہر مظلوم آپ کا ساتھی اور ہر جابر و غاصب آپ کا دشمن ہے۔ جابروں اور غاصبوں کو دیکھ کر آپ کی گردن خم نہیں ہوتی اور غریب و مظلوموں کے سامنے خود کو بے بس پاتے ہیں۔
بے ترتیبی اور کاہلی کی بات کی جائے تو بازار آتے ہوئے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک پاؤں میں چپل ہے اور دوسرے میں بوٹ، یا اپنا بوٹ پہنا ہے یا کسی اور کا۔ کاہلی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جائے نماز سادہ رکھتے ہیں تاکہ کہیں الٹا بچھانے کے بعد دوبارہ سیدھا نہ کرنا پڑے۔ ایسے شخص سے یہ توقع کرنا کہ وہ کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دے گا جو کسی اور کے بس کی بات نہ ہو، محض توقع ہی ہو سکتی ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، پروازؔ کے اندر ایک کائنات آباد ہے۔ جب چاہیں، اس کائنات سے تھوڑا بہت یکجا کر کے، چن کر ایک نئی دنیا بسا سکتے ہیں۔
زندگی میں اگر میں نے پروازؔ میں سنجیدگی دیکھی ہے تو وہ کھوار ناول ’’انگریستانو‘‘ پر کام کرتے ہوئے۔ ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے آپ نے جو محنت کی، وہ کسی کے بس کی بات نہیں۔ ناول ’’انگریستانو‘‘ کھوار زبان کا پہلا ناول ہے، جو اشاعت کے بعد جس قدر پذیرائی اور شہرت حاصل کر چکا ہے، وہ بہت کم لکھاریوں کے نصیب میں آتی ہے۔ ’’انگریستانو‘‘ اس وقت دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں کی زینت ہے۔ اس پر لاتعداد مقالے اور مضامین لکھے جا چکے ہیں اور روز بروز اس کی اہمیت اور مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
پروفیسر شفیق احمد نے کھوار ناول ’’انگریستانو‘‘ کو ایم فل ڈگری کے لیے منتخب کیا۔ انجام تک پہنچانے کے لیے سخت محنت کرنی پڑی۔ انہوں نے ’’انگریستانو‘‘ کو اردو ترجمہ اور حواشی و تعلیقات کے عنوان کے تحت ممتحن ڈاکٹر سید زبیر شاہ اور بیرونی ممتحن ڈاکٹر شیدا محمد کاکا خیلؔ کی نگرانی میں مکمل کیا اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی، جو ایک بڑا اعزاز ہے۔ پروفیسر شفیق احمد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مشکل ترین راہ پر چلتے ہوئے منزل تک رسائی حاصل کی۔
’’انگریستانو‘‘ کھوار زبان کا پہلا ناول ہے جو چترال کے سماج و تہذیب، رسم و رواج اور رہن سہن کا بھرپور احاطہ کرتا ہے۔ چترال کی معدومیت کے خطرے سے دوچار رسومات، تہوار، کھیل کود اور مشغلوں کو کما حقہ محفوظ کرنے میں پروازؔ کامیاب ہوئے ہیں۔ ’’انگریستانو‘‘ میں سینکڑوں متروک الفاظ اپنی اصل معنویت کے ساتھ محفوظ ہو چکے ہیں۔
غذر کے معروف شاعر، دو شعری مجموعوں ’’گرزین‘‘ اور ’’حیاتو‘‘ آرزو کے مصنف جاوید حیات کاکا خیلؔ کے فرزندِ ارجمند کیپٹن خسرو حیات کاکا خیلؔ نے تقریباً چالیس سے زائد اقساط میں آڈیو ریکارڈنگ کر کے ’’انگریستانو‘‘ کو یوٹیوب اور فیس بک پیج ’’بزمِ ترقی کھوار غذر‘‘ پر اپ لوڈ کیا ہے۔ خسروؔ کی ادب پروری، کھوار زبان و ادب اور ثقافت کے ساتھ دلی لگاؤ قابلِ تحسین ہے۔
’’انگریستانو‘‘ کے متعلق نامور قلم کار تبصرے کر چکے ہیں۔
ممتاز کالم نویس فرنود عالم لکھتے ہیں:
’’پروازؔ صاحب کھوار کے پہلے ناول نگار ہیں۔ پہلے ناول پر ہی قلم توڑ دیا ہے۔ اس ناول میں انہوں نے گئے وقتوں کا ایک گاؤں بسایا ہے، جہاں سے چترال کی تہذیب و ثقافت کی دو صدیوں کو گزرتے ہوئے دکھایا ہے۔‘‘
احسان شہابیؔ لکھتے ہیں:
’’پروازؔ چاہیں تو اپنا قلم توڑ دیں، MIER اپنا دفتر مقفل کر دے، ان کا کام مکمل ہو چکا ہے، کیونکہ انہوں نے کھوار اور کھو ثقافت کو جو کچھ دینا تھا، وہ ’’انگریستانو‘‘ کی صورت میں دے چکے ہیں۔ میرے نزدیک ’’انگریستانو‘‘ ناول سے زیادہ ایک مقدس تہذیبی صحیفہ ہے۔‘‘
نوجوان لکھاری مطیع پاشا کہتے ہیں:
’’انگریستانو‘‘ میں بیسویں صدی کے اوائل میں چترال کے جغرافیائی و سماجی حالات کو ٹھیٹ کھوار زبان میں حُسنِ بیان کے تمام حربوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ناول کھوار کے متروک الفاظ سمیت مختلف دیسی کہانیوں کا مرقع ہے، جس کے کردار اور مکالمے بھی چترال کی مخصوص تہذیب کے بھرپور عکاس ہیں۔‘‘
پروازؔ صاحب اس وقت چترال میں علاقائی ناپ تول کے اصول، پیمانہ و پیمائش اور علاقائی رواجی قانون پر کام کر رہے ہیں، جو نسلِ نو کو کھوار کی طرف راغب کرنے کی ایک اور قابلِ تعریف کوشش ہوگی۔ اللہ کرے کہ پروازؔ صاحب یہ کارنامہ بھی اہلِ کھوار کے لیے انجام دیں۔
