بزمِ درویش ۔ طوائف زادی – حصہ دوئم ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
بزمِ درویش ۔ طوائف زادی – حصہ دوئم ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
طاہرہ بیٹی کے منہ سے نکلے الفاظ آتش فشاں کی طرح پھٹ کر میری سماعتوں میں چھید کر رہے تھے الفاظ کیا بم کے گولے تھے جن سے میرے قلب و روح میں زلزلے کی سی کیفیت تھی میرا رواں رواں لرز رہا تھا میں یہ یقین کر نے کو تیار نہیں تھا کہ حافظہ طاہرہ ناز ایک طوائف کی بیٹی ہے جس نے طوائف کی کوکھ سے جنم لیا جو قرآنی آیات کی حافظہ جس کا ہر سانس یاد ِ الٰہی عشق الٰہی میں سلگتا ہو ایک جسم فروش طوائف کی بیٹی کیسے ہو سکتی ہے میری طبیعت میں ہیجان فشار برپا سا تھا میں بے قراری کی حالت میں کھڑا ہو گیا اور اضطراری حالت میں اِدھر اُدھر چلنا شروع کر دیا میرے اعصاب بری طرح بکھر بلکہ منتشر ہو چکے تھے میں اپنے بکھرے اعصاب اکٹھا اور بحال کر نے کے لیے آسمان کی طرف منہ کر کے لمبے لمبے سانس لینے لگا اِس طرح میں زیادی سے زیادہ آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں بھر کر گردش ِ خون سے اپنے دماغ تک صحت مند آکسیجن اور خون پہنچا کر نارمل ہو نا چاہتا تھا
اِسی چلنے پھرنے میں طاہرہ بیٹی کی طرف بے یقینی سے دیکھا میرے چہرے پر سوالیہ تاثرات تھے کہ تم کہہ دو تم جھوٹ بو ل رہی ہو تم طوائف زادی نہیں بلکہ نیک والدین کی ایک پارسہ بیٹی ہو کسی عالم دین یا کسی مذہبی سکالر قاری صاحب دانشور یا پروفیسر کی بیٹی ہو میرے بے قراری دیکھ کر طاہرہ لرزتے قدموں سے آہستہ آہستہ چلتی میرے پاس آئی آنکھوں میں آنسو بھر کر سرگوشی میں بولی سر آپ میری والدہ کی وجہ سے مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے اپنی شاگردی سے نکال تو نہیں دیں گے سر اِس میں میرا کوئی بلکل بھی قصور نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے جہاں جس گھر میں جس والدہ کی کوکھ سے جنم دیا میں اُس پر شاکر ہوں۔ ہاں اگر اب ہوش سنبھالنے کے بعد میں کوئی غلطی کروں تو میں ذمہ دار ہوں میری پیدائش اور ماں کے انتخاب میں میں مکمل طور پر بے اختیار اور بے بس ہوں سر میرے ساتھ اِس طرح نہ کریں مجھے اِس طرح نہ دھتکاریں کہ میں شرم سے ڈوب مروں سر خدا کے لیے اِس طرح نہ کریں وہ التجا یہ لہجے میں بار بار درخواست کر رہی تھی
اُس کی یہ حالت دیکھ کر میں تیزی سے ہوش میں آنے لگا اور عرق ندامت میں ڈوبنے لگا کہ یہ میں کیا کررہا تھا میرے اندر یہ مولوی کیوں انگڑائیاں لے رہا ہے تم تو صوفی ازم انسان دوستی کے دعوے دار ہو تم یہ کیا کر رہے ہو تو میں بیٹی کو ساتھ لے کر بینچ پر آگیا اور بولا سوری بیٹی تم آج بھی پہلے کی طرح میرے لیے قابل احترام ہو میں آج بھی پہلے کی طرح تمہارا مرشد استاد ہوں میں ناراض نہیں بلکہ جبلی کمزوری سے تھوڑی دیر کے لیے لرز گیا تھا اب میں نارمل ہوں تو وہ بولی شکر ہے سر ورنہ میں تو ڈرہی گئی تھی کہ میرا روحانی سفر یہیں پر ختم ہو جائے گا اور آپ مجھے اپنے شاگردوں کی لسٹ سے نکال دیں گے سر اگر آپ میری سرپرستی چھوڑ دیں گے تو میں تو کسی کام کی نہیں رہوں گی میں تو پھر اندھیروں کا شکار ہو جاؤں گی وہ رو رہی تھی اور مجھے بھی شرمندہ کر رہی تھی میں نے باپ بن کر اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور گلو گیر لہجے میں کہا میں اپنے رویے پر شرمندہ ہو ں اور وعدہ کر تا ہو اب تم میری پہلے سے زیادہ عزیز لاڈلی بیٹی ہوگی وہ مسکرا دی اُس کے چہرے پر اطمینان کی لالی پھیل گئی اور بولی سر آپ کے مثبت رویے سے مجھے حوصلہ ہوا ہے آپ کو اپنی والدہ کے بارے میں بتاتی ہوں سر میں اُن کی سگی اولاد نہیں ہوں
انہوں نے مجھے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا یا تھا کوئی مجھے پیدا کر کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک گیا تھا میری والدہ جو اپنے وقت کی بہت بڑی خوبرو ہزاروں دلوں کی دھڑکن طوائف جس کے ابروئے چشم پر اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آجاتا تھا اُس نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا یا پھر پال کر جوان کیا قاری صاحب کو گھر بلا کر قرآن مجید حفظ کرایا اچھی تربیت کی میری طرح اور بہت ساری ایسی لڑکیاں جو کوڑے کے ڈھیروں سے ملیں اُن کو بیٹی بنا کرپالا بڑا کیا سر میری ماں ہیرا منڈی کی آن شان تھی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دیوانے گھنٹوں انتظار کرتے تھے لاتعداد دولت مندوں نے اپنی ساری کمائی اُن کے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دی ماں کے منہ سے جو نکلتا وہ اُس کو پورا کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے والدہ کی ماں اور خاندان صدیوں سے جسم فروشی کے دھندے سے منسلک تھا اِس لیے والدہ بھی اداؤں کے تیروں سے پروانوں کو گھائل کر تیں پھر اُن کی جیبیں خالی کروا تیں وہ جس گھر ماحول میں پیدا ہوئیں بے قصور تھیں جو بچپن سے دیکھا والدین نے سکھایا وہ کیا والدین نے یہی سمجھایا کہ جسم فروشی اداؤں کے زور پر اتنی دولت اکٹھی کرلو کہ بڑھاپا آسانی سے گز ر سکے
خدا رسول مذہب اللہ ماں جی ان چیزوں سے بہت دور تھیں میں اپنی ماں کے ساتھ بی بی پاک دامن کثرت سے جایا کرتی تھی ایک دن والدہ کو کوئی نیک بزرگ مل گیا اُس نے سر پر ہاتھ پھرا اور کہا بیٹی یہ خوبصورت جسم دوزخ کی آگ میں جلے گا خود کو گندے ماحول سے نکالو اِس کے بعد پھر بھی وہاں پر اس بزرگ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں آخر کار بزرگ کی باتیں ماں کے دل پر اُتر گئیں تو یہ ایک پرستار بوڑھا شخص جو بہت دولت مند تھا اُس کے ساتھ شادی کی اور ہمیشہ کے لیے ہیرا منڈی چھوڑ دی پکی توبہ کر لی لیکن ایک کام ساری زندگی کرتی اِس کے اپنے خاندان والوں سے کہا کہ اگر کوئی بچی کوڑے کے ڈھیر سے ملے تو اُس کو جسم فروشی کے لیے نہیں میرے پاس چھوڑ جاتا پھر میری ماں نے میرے جیسی بہت ساری بچیوں کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کیا
اِس طرح میری ماں نے بہت ساری معصوم لڑکیوں کو جسم فروشی کے دھندے دے بچایا یہ سر میری ماں اہل بیعت ؑ کی محبت اور عقیدت میں سر سے پاؤں تک ڈوبی ہوئی ہے زیارتوں پر اربعین واک میں لگاتار جاتی ہیں بی بی پاک دامن لنگر کا اہتمام کر تی ہیں خاوند بہت ساری دولت چھوڑ گیا میری ماں کو کرائے کے بہت سارے پیسے آتے ہیں ان کو کسی قسم کی محتاجی نہیں ہے اب وہ اہل بیعت کی محبت عقیدت اور میرے جیسی لاوارث بچیوں کی تربیت میں گزارتی ہیں جس دن سے توبہ کی ہے اُس کے بعد آج تک ایسا نہیں کہ توبہ توڑی توبہ پر قائم رہی ہیں عام لوگ تو توبہ کر کہ پھر گناہ کر تے ہیں لیکن میری ماں نے توبہ کے بعد ایسا نہیں کیا طاہرہ اپنی ماں کی بہت باتیں کر کے جانے لگی تومیں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہاماں سے کہنا جو پکی تو بہ ان کو نصیب ہو ئی ہے وہ ہم سب کو بھی مل جائے۔آمین۔