The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی وزیر تعلیم کا دورہ چترال اور ہماری زمہ داری – تحریر: خلیل الرحمن بونی

صوبائی وزیر تعلیم کا دورہ چترال اور ہماری زمہ داری – تحریر: خلیل الرحمن بونی

صوبائی وزیر تعلیم برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا فیصل خان ترکئی کاآئندہ ہفتے اپر چترال کا دورہ متوقع ہے۔یہ ایک شاندار اور مثبت قدم ہے جس کے تحت وہ مختلف سرکاری اسکولوں کا دورہ کریں گے اور اب تک پڑھائے گئے نصاب کا جائزہ لیں گے۔ یہ موقع اپر چترال کے عوام کے لیے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا سنہری موقع ہے۔

ہم چترال والے تعلیم میں جتنے آگے ہیں اتنے ہی ہمارے بچے بچیاں شختی و مشقت جھیل کر تعلیم حاصل کرتے ہیں- پچھلے سال کھوژ یارخون کے بچوں کو پہاڑوں سی گرتے ہوئے پتھروں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے زندگی کے لیے بھاگتے دیکھا۔ اسی طرح وادی یارخون کی ایک بچی کی دھایاں سنی جو روزانہ آٹھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے پترنگز سے بانگ سکول آتی تھی- ہمیں اب تعلیم کو ہماری جہدوجہد اور سیاست کا محور بنانا چاہیے ۔

ہماری قیادت، منتخب نمائندگان جیسے کہ محترمہ ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی، ایم این اے عبد اللطیف صاحب، مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان، اور تعلیمی کارکنان کو چاہیے کہ وہ وزیر موصوف کے سامنے اپر چترال میں ہر گاؤں میں سرکاری اسکولز کے قیام اور دیگر مسائل کے حل کی تجویز رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ اسکولوں کو اپگریڈ کرنے کی تجاویز بھی پیش کی جائیں۔

chitraltimes female students primary students on tat school

اسی طرح گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بونی، مستوج ، ریشن، کوشٹ، شاگرام، نشکو، تریچ، پرواک، ورکوپ، بریپ، لاسپور اور یارخون کے علاقوں کے ہائی اسکولز کو ہائیر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ اپر چترال میں اس وقت صرف ایک گرلز کالج اور ایک بوائز کالج موجود ہیں، جو طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ مزید یہ کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے کالجز صرف بی ایس سسٹم پر توجہ دے رہے ہیں اور انٹرمیڈیٹ تعلیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح اپر چترال کے مختلف گاؤں کے مڈل اسکولز کو ہائی اسکول کا درجہ دینے اور پرائمری اسکولز کو مڈل اسکولز میں اپگریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اپر چترال کے کئی اسکولوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ چند دن قبل فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی گئی جس میں لوٹ اویر کے بچے سرد موسم میں خیمے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کیونکہ اسکول کی عمارت موجود نہیں ہے۔ سیلاب زدہ سوررییچ تورکھو کا بھی یہی حال ہے۔ اسی طرح اپر چترال کے پرائمری سکولوں میں فرنیچر دستیاب نہیں ہوتا۔ جسکی وجہ سے بچے سخت سردی میں فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

میں ہمارے منتخب نمائندگان، سیاسی لیڈراں اور تعلیمی کارکنان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ منفی سیاست سے ہٹ کر تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جامع اور مؤثر تجویز وزیر موصوف کے سامنے پیش کریں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
96720