The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی محتسب کو صوبہ بھر سے2519 شکایات موصول ہوئے جس میں 1947شکایات کاازالہ کیاگیا،رپورٹ

Posted on

صوبائی محتسب کو صوبہ بھر سے2519 شکایات موصول ہوئے جس میں 1947شکایات کاازالہ کیاگیا،رپورٹ
گورنر سے صوبائی محتسب سید جمال الدین شاہ کی گورنرہاوس میں ملاقات،سالانہ رپورٹ2022 پیش کی
گورنر سے صوبہ کے بندوبستی و ضم اضلاع کے عمائدین،نوجوانوں اور منتخب بلدیاتی نمائندوں پرمشتمل 150 رکنی قومی جرگہ کی بھی ملاقات
تعلیم، صحت، انفراسٹرکچرسمیت دیگر بنیادی مسائل ومشکلات سے گورنر کو آگاہ کیا
بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد اور نچلی سطح پر عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے موثرنظام ہے، گورنر حاجی غلام علی

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے صوبائی محتسب خیبرپختونخوا سید جمال الدین شاہ نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔اس موقع پرپرنسپل سیکرٹری برائے گورنر مظہرارشاداور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون ظہیرالدین بابربھی موجود تھے۔گورنر کو صوبائی محتسب سید جمال الدین شاہ نے صوبائی محتسب خیبر پختونخوا دفتر کی سالانہ رپورٹ 2022 پیش کی جوکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی برائے سال 2022 پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں صوبائی محتسب کو صوبہ بھر سے2519 شکایات موصول ہوئے جس میں 1947شکایات کاازالہ کیاگیا۔ موصول شدہ شکایات سب سے زیادہ ضلع پشاور سے 492 شکایات موصول ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق موصول شدہ شکایات میں سب سے زیادہ492 شکایات ایلمینٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف تھی۔ اس موقع پر گورنر نے عوام کو انصاف کی فراہمی اور سرکاری اداروں سے متعلق عوامی شکایات کے ازالہ کیلئے صوبائی محتسب کی مجموعی کارکردگی کوسراہا۔

علاوہ ازیں گورنر سے گورنرہاؤس پشاور میں صوبہ کے بندوبستی و ضم اضلاع کے عمائدین،نوجوانوں اور منتخب بلدیاتی نمائندوں پرمشتمل 150 رکنی قومی جرگہ نے بھی ملاقات کی۔ قومی جرگہ میں مردان، ملاکنڈ، چارسدہ، پشاور، مہمند، باجوڑ، کرم، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ہنگو، کرک سمیت دیگر اضلاع سے مولانامحمدعارف، مفتی عبیداللہ، مولاناعمران، دانشمند، محمدالیاس، سیف اللہ خان، قاری شیرزمان، گوہرسیف اللہ، توقیر مغل، مولاناشاہین،حافظ تاج ولی سمیت علماء کرام، اساتذہ کرام، سوشل ورکرز، بلدیاتی نمائندے اور ملکان و مشران شامل تھے۔قومی جرگہ میں شامل افراد نے گورنر کو مختلف مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے حل کیلئے گورنر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ قومی جرگہ نے عوام کیلئے گورنرہاوس تک رسائی آسان بنانے اور عوامی مسائل خلوص نیت سے حل کرنے پر گورنر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ گورنر نے خود کو صحیح معنوں میں عوامی گورنر ثابت کردیا ہے۔گورنرنے اس موقع پر مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد اور نچلی سطح پر عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے موثرنظام ہے، بلدیاتی نمائندے گلی محلے کی سطح پر عوامی مسائل کوفوری حل کرکے حکومت کا بھی ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ بلدیاتی نمائندوں کواختیارات سے محروم رکھا گیا تاہم موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے بہت جلد صوبہ بھر بشمول ضم اضلاع منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ زجاری کردیاجائیگا جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی کام شروع ہوجائیں گے اورنچلی سطح پرعلاقائی مسائل حل ہوسکیں گے۔انہوں نے کہاکہ ضم اضلاع کی ترقی وفاقی وصوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ خود کو صوبے کے عوام کا وکیل سمجھتاہوں اور صوبہ بھر سمیت ضم اضلاع کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت سے بات کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے استحکام کیلئے اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ریاست کے خلاف سوچ رکھنے والوں کی بیخ کنی کیلئے مشترکہ طور پر کردار ادا کریں۔ آخر میں ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کیلئے اجتماعی دعا بھی مانگی گئی۔ دریں اثناء گورنر سے پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے ایم ڈی انجینئر اسد احمد نے بھی گورنرہاؤس میں ملاقات کی۔اس موقع پر پی ایم ڈی سی ریجنل آفس پشاور کے نورزادہ آفریدی بھی موجود تھے۔ملاقات میں گورنر کو کارپوریشن کی کارکردگی سے آگاہ کیاگیا۔

chitraltimes governor kp receiving annual report from provincial muhtasib

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78416

صوبائی محتسب  کے زیر اہتمام ہراسیت کے خلاف خواتین کا تحفظ کے موضع پر بونی میں ایک روزہ سیمنار

صوبائی محتسب خیبرپختونخوا سکرٹریٹ  کے زیر اہتمام ہراسیت کے خلاف خواتین کا تحفظ کے موضع پر بونی میں ایک روزہ سمینار

اپر چترال ( محمد زاکر زخمی ) صوبائی محتسب خیبرپختونخوا سکرٹریٹ ،سوشل ویلفر ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت سے ہراسیت کے خلاف خواتین کا تحفظ۔the protection of women against harassment at the workplace کے موضوع پر بونی اپر چترال میں ایک روزہ سیمنار کا انعقاد ہوا جس میں ضلعی انتظامیہ،پولیس نمائندے،سوشل ویلفر ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ،محکمہ صحت کے زمہ دران ،کالج اور سکول کے طالبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔تلاوت کلام سے آغاز کیا گیا۔حمد پاک اور نعت شریف پیش کیے گئے ۔

ابتدامیں اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال شاہ عدنان مہمانوں کو خوش امدید کہتے ہوئے کہا کہ آج کی اس سیمنار سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اس طرح کے آگاہی کے پروگرامات سے ادارے اور ان کے کام ،کردار کے بارے عوام کو بہت مفید معلومات فراہم ہونگے ۔انھو ں نے صوبائی محتسب خیبرپختونخوا سکرٹریٹ رخشندہ ناز اور ان کی رفقا کار کا اس طرح کے مفید اور معلوماتی سیمنار منعقد کرانے پر انتظامیہ کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کی۔بعد میں گرلز ڈگری کالج بونی کے طالبات نے خواتین ہراسیت کے موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے۔
سوشل ویلفر ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئےکوارڈننٹر ضیااللہ نے خواتین کے حقوق پر قرآن اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام خواتین کو وہ حقوق دیے ہیں جو کسی مذہب میں مثال نہیں ملتی اگر اس پر عمل نہیں ہورہا ہے توہماری کوتاہیاں ہیں۔ رضوان اللہ کوارڈینٹرنیشنل کمیشن ہیومن رائٹس اورمقصود علی ڈائریکٹر لا اینڈ ہیومن رائٹس نے سیمنار سے خطاب کرکے واضح کی کہ صوبائی اسمبلی قانون سازی کے ذریعے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو پابند کیا ہے کہ ہراسیت کے سدِ باب کے لیے کمیٹی تشکیل دیں۔تاکہ ہراسیت کا شکار افراد اپنی شکایات بااسانی ان تک پہنچا کر داد رسی حاصل کرسکے شکایات کے طریقہ کار کو ہرممکن سہل بنایا گیاہے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی معاونت اس میں شامل ہے ۔

اخر میں صوبائی محتسب خیبرپختونخوا سکرٹریٹ رخشندہ ناز سیمنار کےشراکاسے خطاب کرتے ہوئے تفصیلی اور جامع انداز میں موضوع پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ادارۂ خواتین کو ہراسیت سے تحفظ فراہم کرنے کے علاوه ہر اس معاملے میں خواتین کو مدد فراہم کررہی ہے جہاں کہیں بھی انہیں کسی بھی قانونی حق سے محروم رکھنے کی کوشش ہو رہی ہو۔اس میں حقِ ملکیت یا جائیداد سے محروم رکھا جانا بھی شامل ہے ۔شکایات موصول ہونے کی صورت میں ادارہ شکایت کنیدہ تک مروجہ طریقہ کار کے تحت رابطہ کرکے انصاف دلانے میں کردار ادا کرہی ہے۔ادارے تک رسائی کے طریقہ کارکو ممکن اور آسان بنا دی گئی ہے تاکہ رابطے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ادارۂ ہرقسم کی قانونی معاونت مفت فراہم کرتی ہے ۔اور دوسرے متعلقہ اداروں سے رابطہ روا رکھ کر انصاف کے حصول کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔صوبائی محتسب شرکا پر زور دیا کہ اس آگاہی مہم کو پھیلانےمیں بھر پور کردار ادا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے مستفید ہو سکے۔ بعد میں سوال و جواب کے مرحلے صوبائی خاتون محتسب رخشندہ ناز تمام سوالوں کا تسلی بخش اور تفصیلی جواب بھی دیا۔

chitraltimes Rukhshanda naz addressing at seminar on women harrasement booni

chitraltimes ac adnan addressing at seminar on women harrasement booni chitraltimes seminar on women harrasement booni

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
62468