وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیر صدارت صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں اہم اجلاس،
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیر صدارت صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں اہم اجلاس،
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں پشاور ریجن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرینز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ریجن سے منتخب اراکین سینیٹ، اراکین قومی اسمبلی اور اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشاور ریجن کیلئے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے 2026-27کی تیاری کے سلسلے میں تفصیلی مشاورت کی گئی اور ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پشاور کے لیے نئے جنرل ہسپتال کے قیام کو آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، منصوبے کی تعمیر تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کی جائے گی تاکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں صحت سہولیات کی بڑھتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ وزیر اعلی نے پشاور رنگ روڈ پر عوامی سفری سہولت کے لیے مخصوص الیکٹرک بسوں کے منصوبے کو بھی آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنانے کی ہدایت جاری کی۔ وزیر اعلیٰ نے پشاور کے لیے دوسرے رنگ روڈ کی فزبیلیٹی اسٹڈی کو بھی آئندہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور آمدورفت کے مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پارلیمنٹیرینز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے حلقوں کی ترقیاتی اسکیموں سے متعلق تجاویز 15 مارچ تک وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں جمع کرائیں تاکہ انہیں آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے پر غور کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی تجاویز دیتے وقت عوامی ضرورت اور افادیت کو اولین ترجیح دی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیا سالانہ ترقیاتی پروگرام صوبے کی مجموعی ترقیاتی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اورمعیاری تکمیل آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی بنیادی ترجیح ہوگی تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کو مرکز بنا کر نیا ترقیاتی پروگرام حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مرتب کیا جائے گا جو وسیع تر عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کا ضامن ہوگا۔
