The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی جسٹس کمیٹی کے اجلاس کا پشاور ہائیکورٹ پشاور میں انعقاد

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ پشاور جسٹس قیصر رشید خان کی صدارت میں صوبائی جسٹس کمیٹیPJC کا آٹھواں اجلاس پشاور ہائیکورٹ میں منعقد ہوا جس میں رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ انعام اللہ خان، ایڈو وکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل احمد بٹ، سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عاصم امام، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان مس رفعت انعام بٹ، آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایس ایم بی آر سید ظفر علی شاہ، سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری صحت، سیکرٹری قانون، ڈی جی پراسیکیوشن، آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر اجلاس کے ایجنڈا کی روشنی میں انصاف کے شعبے میں درپیش مسائل پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں جیلوں میں صحت کی سہولیات پر پیشرفت، پشاور ہائیکورٹ کی انفراسٹرکچر ضروریات، صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں صوبائی کورٹس کمپلیکس کے قیام، اینڈیپندنٹ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام،تمام اضلاع میں ہوم اینڈ جوئینال بحالی مراکز کے قیام، سابقہ فاٹا کے انضمام کے چیلنجز، جیل حکام کی جانب سے قیدیوں کی فلاح کے لئے اصلاحات پر پیش رفت، معاشرے کے کمزور طبقات کے لئے جہاں پناہ گاہ نہ ہو، وہاں پناہ گاہوں کے لئے حکمت عملی پر تفصیلی بحث کی گئی جبکہ اجلاس میں مال خانوں کے قیام، ملزموں کی بین الصوبائی منتقلی، شعبہ انصاف کے سٹیک ہولڈرز کو درپیش مسائل کی نشاندہی، شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقائی دائرہ اختیار میں کورٹس کی منتقلی، ضلع ملاکنڈ میں جیل کی تعمیر، ضلع کرم میں جوڈیشل افسران کے لئے رہائشی سہولیات، ڈسپویٹ ریزلوشن کمیٹی کے دائرہ اختیار، پشاور ہائیکورٹ کے لئے مختص بجٹ میں اضافے اور تفتیشی افسران کے لئے تربیت اور استعداد کار میں اضافے پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا.

اجلاس میں متعلقہ اراکین نے کمیٹی کے چیئرمین کو گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پریزن، پروبیشن اینڈ پیرول کو درپیش مسائل اور تفتیشی افسران کی تربیت کا مسئلہ حل ہوا ہے اور اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پولیس ٹریننگ سکول کا دورہ کرتے ہوئے تفتیشی افسران کو باقاعدہ لیکچر دیا ہے چیئرمین کمیٹی نے اس عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت کی،ا جلاس کو ملزمان کے بین الصوبائی منتقلی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں ایس او پیز بنائے گئے ہیں جسکو NJPMC کے سامنے رکھنے کے لئے جلد لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو جمع کیا جائے گا سیکرٹری داخلہ نے فرانزک سائنس لیبارٹری کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ اس سلسلے میں اراضی کی فراہمی کے لئے پی ڈی اے سے رابطہ کیا گیا ہے جس پر کمیٹی کے چیئرمین جسٹس قیصر رشید خان نے عوامی مفاد میں پی ڈی اے کو جلد اراضی کی فراہمی کی ہدایت کی، انھوں نے اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو پی ڈی اے کیساتھ کوآرڈینیشن رکھنے کی بھی ہدایت کی اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین نے دہشت گردی کے کیسز میں سائینسی طریقہ کے تحت تفتیش پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سائینسی تفتیش وقت کی ضرورت ہے تاکہ ملزمان ناقص تفتیش کا فائدہ حاصل نہ کرسکیں اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو معیاری اور تیز تر انصاف کی فراہمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔

اجلاس میں تفصیلی غور و خوض اور سیکورٹی اور عدلیہ کے لئے بنیادی انفرا سٹرکچر کی فراہمی کے لئے یقین دہانی کے حصول کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج اور ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان تعاون کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے اندر عدلیہ کی جزوی منتقلی کے لئے ایک پروپوزل پیش کریں گے تا کہ وہاں کے رہائشیوں کی مشکلات کم سے کم ہو سکیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی ججز شمالی وزیرستان کے اندر کام شروع کریں گے، جہاں تک عدالتوں کی جنوبی وزیرستان کو منتقلی کا تعلق ہے جنوبی وزیرستان کے اندر ججز کے بیٹھنے کے مقام کا ابھی اعلان نہیں ہوا یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایک دفعہ ججز کے بیٹھنے کی جگہ کا فیصلہ ہو جائے تو عدالتوں کی منتقلی کے ممکنہ امور کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مناسب مشاورت سے طے کیا جائیگا۔ اجلاس میں ضلعی عدلیہ کے انفرا سٹرکچر کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قابل احترام چئیر مین نے ہدایت کی کہ محکمہ ہائے صحت، معدنیات اور معدنی ترقی، اعلیٰ تعلیم اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے خالی کردہ دفاتر فوری طورپر ضلعی عدلیہ کو الاٹ کئے جائیں گے۔ تا کہ 23 دیگر عدالتوں کے قیام کے لئے ضروری بہتری فراہم کی جا سکے اور جوڈیشل افسران کی مطلوبہ تعداد پشاور میں تعینات کی جا سکے تا کہ دیگر ضلعوں میں جہاں بھی ضلعی عدلیہ کے لئے انفرا سٹرکچر کی کمی ہو، متعلقہ ڈپٹی کمشنرنئی عدالتوں کے قیام کے لئے مناسب جگہ، عمارت فراہم کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے تعاون کریں۔

ایڈوکیٹ جنرل نے خیبر پختونخوا کو ڈ آف سول پراسیجر (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے نفاذ کے بعد سول کیسز میں عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ متعلقہ ڈیٹا محکمہ قانون کو بھیج دیا جائے تا کہ مذکورہ کامیابی کو مناسب طور پر وفاقی حکومت کو پیش کیا جائے کیونکہ اس کی دوسرے صوبے بھی پیروی کریں گے۔ عزت مآب چیئر مین نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں، آخر میں چیف جسٹس نے انصاف کے شعبے سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے خدمات کی معیاری فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی سسٹم کی بہتری کے لئے اس ضمن مسائل کو حل کرنے کے لئے پی جے سی کے اجلاس باقائدگی سے ہونے چاہیے تا کہ عام لوگ خصوصاً غریب اور نادار لوگ اس سے استفادہ کر سکیں اور قانون کی حکمرانی بھی یقینی بنائی جا سکے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
58058