The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس؛ 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی 

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس؛ 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) خیبر پختونخواکے تیرہویں اور چودھویں اجلاس، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز و افسران نے شرکت کی۔مذکورہ اجلاسوں میں مجموعی طور پر 52 ارب روپے سے زائد لاگت کے 32 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبے لوکل گورنمنٹ، مواصلات و تعمیرات (روڈز)، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سے متعلق ہیں، جو صوبے میں پائیدار ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق تعلیم کے شعبے میں اہم پیش رفت کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تعلیم کے شعبے میں متعدد اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کا مقصد صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔جس کے تحت مانسہرہ شہر میں لڑکوں کے لیے نئے ڈگری کالج کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو مقامی سطح پر معیاری تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ جبکہ صوابی کے علاقے یارہ خیل مرغز میں گورنمنٹ پرائمری سکول (جی پی ایس) اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول (جی جی پی ایس) کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بچوں، بالخصوص بچیوں، کے لیے تعلیم تک رسائی کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے اضلاع کرک، ہری پور، چارسدہ، ہنگو، بٹگرام اور بنوں میں 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری بھی دی گئی۔ فورم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو جلد از جلد فعال بنایا جائے تاکہ طلبہ ان کے ثمرات سے فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔

ان تعلیمی منصوبوں سے ہزاروں طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے اور یہ اقدامات صوبے کے تعلیمی شعبے میں بہتری اور انسانی سرمایہ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

مزید برآں مواصلات و انفراسٹرکچر کے شعبے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت پشاور کی مصروف ترین شاہراہ پشاور رنگ روڈ پر انڈر پاس منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ شہری ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سفر کے دورانیے میں کمی اور محفوظ و بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے دارالحکومت میں ٹریفک مسائل کے دیرپا حل کی جانب اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ڈبلیو پی کے 14ویں اجلاس میں روڈ سیکٹر کی 18 سکیموں کی منظوری بھی دی گئی، جن کی مجموعی لاگت 17 ارب روپے ہے۔ ان میں 8 فیزیبلٹی اسٹڈیز بھی شامل ہیں۔ یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر لکی سے حکلا تک 26.6 کلومیٹر طویل لنک روڈ منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کی مجموعی لاگت 6,163 ملین روپے ہے۔ اس منصوبے سے علاقے میں سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئے گی، ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور عوام کو محفوظ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔یہ منصوبہ علاقائی و بین الاضلاعی رابطوں کو مضبوط کرے گا، جس سے تجارت و صنعت کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافے اور روزگار کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ منصوبے کی تکمیل صوبے کی مجموعی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔جبکہ جامع ترقی کی جانب پیش قدمی کر تے ہوئے فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

منظور شدہ منصوبے صوبہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی بہتری، بہتر طرز حکمرانی، جدید انفراسٹرکچر اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد مضبوط کریں گے۔یہ فیصلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے وژن کی عملی تعبیر ہیں اور آنے والے وقت میں ان کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آئیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
118336

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس، ضلع اپر چترال میں ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو  1122)  کے قیام سمیت صوبے میں 58 ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

Posted on

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس، ضلع اپر چترال میں ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو  1122)  کے قیام سمیت صوبے میں 58 ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا 17ویں اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا،جس میں نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے ڈیجیٹل سکل کا منصوبہ 1.3 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا، 27 ہزار سے زائد نوجوان منصوبے سے مستفید ہونگے۔ ان میں سے تقریبا 2800 نوجوانوں کو اگلے مرحلے میں گلوبل سرٹیفیکییشن کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے جس سے نوجوان اپنے سٹارٹ اپ کاروبار سمیت مقامی معیشت کے لیے بھی سود مند ثابت ہونگے۔مزید برآں حکومت خیبرپختونخوا نے بچوں کو پیٹ کے کیڑوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے جس کے تحت صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس میں محکمہ صحت کے 18.6 کروڑ کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے ایس ٹی آئی ٹی، لائیو سٹاک، کھیل، زراعت، سیاحت،صحت، ریلیف اور تعلیم سے متعلق 60 اہم منصوبوں کی منظوری دی۔اجلاس میں مختلف شعبوں کے ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے۔اجلاس میں سب ڈویژن درازندہ (فیز I) میں نسکورہ سے کرہا تک 4 کلومیٹر بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر، وادی براول، بیبیوڑ، داروڑہ، ہٹن، چکیاتن، اور روخان (15 کلومیٹر) میں دیہی سڑکوں تک رسائی،مین گبر شادی خیل روڈ سے کوٹکہ گل نواز واڑہ (5-کلومیٹر) ٹی ایس ڈی لکی تک لنک روڈ کی بحالی،تھل میرالی نارتھ وزیرستان روڈ (54-Km) کی بہتری،خیبر پختونخوا میں گاڑیوں کی فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹنگ سرٹیفیکیشن سسٹم کا قیام اور فزیبلٹی اسٹڈی، ڈی آئی خان کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج،ٹی ایس ڈی وزیر جانی خیل کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج،ریسرچ اسٹڈیز، کنسلٹنسیز، سروے، تفصیلی ڈیزائن، فزیبلٹی اسٹڈیز (فضائی اور جیو فزیکل سروے)، ایچ ٹی و ایل ٹی لائنوں کی گیس کی ترقی اور توسیع، ٹرانسفارمرز کی فراہمی،ایچ ٹی و ایل ٹی لائنوں کی بحالی اور 11kv فیڈز کی تقسیم، خیبرپختونخوا،خیبرپختونخوا کے 7 قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی ریسکیو سروسز ریسکیو 1122 کا قیام،ضلع اپر چترال میں ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) خیبرپختونخوا کا قیام،خیبرپختونخوا میں بنیادی تعلیم کے کمیونٹی سکولز اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے مراکز کا تسلسل،

گرلز کیڈٹ کالج موجودہ آر پی ڈی سی بلڈنگ کی رینوویشن،خیبرپختونخوا میں 67 سیکنڈری سکولوں کا قیام،خیبر پختونخوا میں ضرورت کی بنیاد پر 300 سرکاری سکولوں (100 پرائمری، 100 مڈل اور 100 ہائی) (بوائز و گرلز) کی تعمیر نوپختونخوا،ضرورت کی بنیاد پر اسکولوں میں امتحانی ہالوں کی تعمیر،32 مڈل سکولوں کی اپ گریڈیشن ہائی لیول تک (گرلز اور بوائز) ضم شدہ علاقوں، 60 پرائمری سکولوں کی اپ گریڈیشن ضم شدہ اضلاع میں مڈل لیول (گرلز اور بوائز) تک اضلاع،یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات، خیبرپختونخوا میں پبلک لائبریریوں کی اسٹرینتنگ،گورنمنٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسز انسٹی ٹیوٹ آف پولی ٹیکنیکل کالج ڈی آئی خان،خیبرپختونخوا میں سٹیم کے لیے سینٹر آف ایکسیلینسی،ضم شدہ علاقوں کے دینی مدارس کے طلباء کی اسکلز ڈویلپمنٹ،دینی مدارس کے طلباء کی اسکلز ڈویلپمنٹ اور کیپیسٹی بلڈنگ، سپیشل برانچ فیز II کی ای اینیبلمنٹ،موجودہ جگہ (فیز-II) پر سینٹرل جیل ڈی آئی خان کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر،

خیبرپختونخوا میں پولیس اسٹیشن کی تعمیر،تعمیر نو اور بحالی و فزیبلٹی سٹڈی،خیبرپختونخوا کے سلیکٹڈ اضلاع میں رہائشی ضروریات، ماسٹر پلاننگ اور جوڈیشل کمپلیکس کی ڈیزائننگ کے لیے فزیبلٹی سٹڈی،ضلع شانگلہ تحصیل جوڈیشل کمپلیکس پورن کی تعمیر کے لیے 30 کنال اراضی کا حصول، سرزوئی ڈیم پروجیکٹ کی تعمیر ضلع ہنگو، عبدالشکور ڈیم ضلع مہمند،کینال پیٹرول سڑکوں کی تعمیر یو سی درائی، لکپانی، شموزئی، قاسمی، خرکی، میاں عیسیٰ، کٹی گڑھی ضلع مردان، دریائے توچی ڈی/ایس بویا پل تا درپہ خیل تحصیل میرانشاہ ضلع شمالی وزیرستان پر فلڈ پروٹیکشن وال کی تعمیر، بنوں ایس ایچ کی بنی گل ہاؤسنگ سکیم کے تحت باؤنڈری وال کی تعمیر، مین گیٹ اور دیگرمتعلقہ کام، ڈسٹرکٹ وتحصیل ڈی آئی خان کے چار بازار کی سیوریج، نکاسی آب اور بہتری، اُٹلا ڈیم پروجیکٹ کے ایریا کے لیے پینے کے پانی کے متبادل ذرائع کے لیے تحقیقی مطالعات، کانسسلٹنسیز،سروے،ڈیٹیل ڈیزائن،فزیبلٹی سٹڈی،خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے تفریحی ایریاز کی ترقی اور تفریحی سہولیات کا قیام،

نئے ضم شدہ اضلاع میں ٹورازم ریزوٹ کی تعمیر،خیبرپختونخوا میں ثقافت اور سیاحت کے شعبوں کا انتظام،ضم شدہ علاقوں کے لیے ٹورازم ونگ کا قیام،کے پی میں ٹورازم پولیس کا قیام،ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی سڑکوں کی تعمیر،ضلع ایبٹ آباد میں بین الاقوامی معیار کے ملٹی پرپز جمنازیم کا قیام، ہری پور اور بنوں کے اضلاع میں انڈور جمنازیم کی تعمیر، توانائی اور پاور سیکٹر کے لیے کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام،خیبرپختونخوا اسکول جانے والے بچے کیکے لیے ڈیوارمنگ انیشیٹیو، ڈی ٹاک اور انسولین کی توسیع، اپر کوہستان اور کلائی پالاس میں موبائل سروس یونٹ کا قیام، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ضرورت کی بنیاد پر کیتھ لیبز کے قیام کے تحت مفتی محمود ہاسپٹل ڈی آئی خان میں کیتھ لیب،مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال ڈی آئی خان میں برن سنٹر کا قیام اور سٹرینتنگ،اولڈ ڈی ایچ کیو ہسپتال صوابی کی تعمیر نو،

خیبرپختونخوا میں نیشنل پارک، وائلڈ لائف سینٹوریز بائیو اسفیئر ریزرو اور کنزرونسیز کی سٹرینتنگ اور حد بندی،خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے قابل روزگار ڈیجیٹل سکلزکے اقدامات،اضاخیل ضلع نوشہرہ میں ان ار سی گوداموں کی بحالی،ڈی آئی خان ریجن میں بھاگ ناری (مویشیوں کی نسل) کے موافقت اور اس کے بیف کی صلاحیتوں کی کھوج پر تحقیقی مطالعات،ایس ڈی ڈبلیو اور شمالی وزیرستان میں ماڈل ڈیری فارمز کا قیام، جنوبی خیبر پختونخواہ میں گھوڑوں کی صحت اور افزائش نسل کی سہولیات کا قیام،ایف آر بنوں میں فارم فشریز کا فروغ، قبائلی اضلاع میں ٹراؤٹ فشریز کی ترقی،ڈی آئی خان، کرک اور ماڈل فارم سنگ بھٹی صوابی میں موجودہ زرعی تحقیقی اسٹیشن، انسٹی ٹیوٹ کو سٹرینتن کرنا،خیبرپختونخوا میں معاش کی بہتری کے لیے شہد کی پیداوار کو فروغ دینا منصوبہ اجلاس میں منظور ہوا۔
 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
102743