گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 20 جولائی کو طلب کر لیا،اجلاس مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان سے حلف لینے کیلئے بلایا گیا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 20 جولائی کو طلب کر لیا،اجلاس مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان سے حلف لینے کیلئے بلایا گیا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 20 جولائی بروز اتوار صبح 9 بجے طلب کر لیا۔گورنر نے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کیجانب سے اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری کی منظوری دیدی۔صوبائی اسمبلی کا اجلاس مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان سے حلف لینے کیلئے بلایا گیا۔گورنر سیکرٹریٹ کیجانب سے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو سپریم کورٹ کے احکامات اور الیکشن کمیشن کے خط کی روشنی میں اسمبلی اجلاس بلانے کیلئے سمری بجھوانے کا کہا گیا تھا۔
پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے جڑا ہے، قومی یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ نوجوان اپنا مثبت کردار ادا کریں،، گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے جڑا ہے، قومی یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ نوجوان اپنا مثبت کردار ادا کریں، نوجوانوں کی مکمل سرپرستی اور انکی بہترین معاشرتی تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں ہمارے نوجوانوں کو اپنے اقدار، ملکی سالمیت اور وقار کیلئے کام کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کے روزپشاور میں ملکی،قومی یکجہتی، ترقی و خوشحالی میں نوجوانوں کے کردار سے متعلق سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں ایڈیشنل آئی جی خیبرپختونخوا محمدعلی بابا خیل،سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرقبلہ آیاز، UNODC،نیکٹا،شیف انٹرنیشنل اور SSTD کے نمائندوں اورضم اضلاع سمیت صوبہ بھر کے نو جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
گورنرنے اس موقع پر سیمینار میں شریک قبائلی نوجوانوں میں شیلڈزبھی تقسیم کئے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے نیکٹا، شیف انٹرنیشنل اور SSTD کو اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد پر مبارکباددی اور کہاکہ ضم اضلاع کیلئے وعدوں کے مطابق فنڈز کا اجراء ہونا چاہئے،افسوس ہے کہ انضمام تو ہو گیا لیکن وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا،ضم اضلاع اس وقت صوبہ اور مرکز کے درمیان لٹک گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں،جب بھی صوبہ کی بات ہو تو ہمیں متحد یو کر دلیل کیساتھ وفاق سے مقدمہ لڑنا ہو گا، فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ جرگہ نظام بحالی سمیت قبائلی اضلاع کے تمام معاملات میں قبائلی عوام کی نمائندگی ضروری ہونی چاہئے،قبائلی نوجوان ملک کے دیگر علاقوں کی ترقی دیکھ کر اپنے قبائلی اضلاع سے متعلق مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔
گورنرنے کہاکہ ضم اضلاع کو ترقی کے دھارے میں لانا ہو گا تاکہ قبائلی نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔گورنرنے کہاکہ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان مذہبی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر پاکستانیت کو اپنا نصب العین بنائیں۔ امن، برداشت اور بھائی چارے کا پیغام پھیلائیں، تاکہ معاشرے میں نفرت اور انتشار کی جگہ محبت اور ہم آہنگی لے سکے۔ نوجوانوں کو ہنر مند بن کر خود انحصاری کی راہ اپنانی ہوگی۔ کاروبار، تعلیم، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں جدید مہارتیں حاصل کر کے وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔گورنرنے کہاکہ یوتھ انگیجمنٹ اُن کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ نوجوان نسل صرف مستقبل کے لیڈر نہیں بلکہ آج کے معمار بھی ہیں،نوجوانوں کی مثبت سوچ، توانائی اور جذبہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

