The Voice of Chitral since 2004
Friday, 22 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آغا خان یونیورسٹی اور لیگل ایڈ پروگرام فار ہیومن رائٹس کی باہمی اشتراک سے صنفی تشدد کی روک تھام کے لئے اسٹیک ہولڈروں کی باہمی اتفاق رائے سے ریفرل ڈائرکٹر ی اور میکینرم ترتیب دینے کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ

آغا خان یونیورسٹی اور لیگل ایڈ پروگرام فار ہیومن رائٹس کی باہمی اشتراک سے صنفی تشدد کی روک تھام کے لئے اسٹیک ہولڈروں کی باہمی اتفاق رائے سے ریفرل ڈائرکٹر ی اور میکینرم ترتیب دینے کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ

چترال ( نمائندہ چترال ٹایمز ) آغا خان یونیورسٹی اور لیگل ایڈ پروگرام فار ہیومن رائٹس کی باہمی اشتراک سے صنفی تشدد کی روک تھام کے لئے اسٹیک ہولڈروں کی باہمی اتفاق رائے سے ریفرل ڈائرکٹر ی اور میکینرم ترتیب دینے کے حوالے سے یک روزہ ورکشاپ مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں سول سوسائٹی تنظیموں، پولیس، محکمہ سوشل ویلفئیر اور دوسرے اداروں کے نمائندوں نے صنفی تشدد کے شکار افراد کے لئے متعلقہ اداروں اور تنظیموں سے رابطے کے بارے میں تفصیلی گفتگوکرتے ہوئے ایک پاتھ وے کا تعین کیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال محمد علی خان نے صنفی تشدد کے تدارک کے لئے خاندان کی سطح پر برابری اور خوشگوار ماحول قائم کرنے اور برقرار رکھنے کی ضرورت پر زورر دیتے ہوئے کہاکہ مرد اور عورت میں گھر کی سطح پرہی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی قوت اور کلچر فروع پائے تو پورا معاشرہ پر اس کا مثبت اثر مرتب ہوگا کیونکہ خاندان سوسائٹی کی اکائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کی اہمیت کی بنا پر ہی صنفی تشدد کے خاتمے کو 17سوشل ڈیویلپمنٹ گولزمیں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی کی اشتراک سے اس پراجیکٹ کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افیسر لویر چترال اکرام اللہ خان نے معاشرے میں صنفی مساوات قائم کرنے اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے خاتمے کے لئے معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے کی سوشل اور نفسیاتی رکاوٹوں کا خاص خیال رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ جس انسان میں قوت برداشت کم ہو تو وہ طاقت کا استعمال کرکے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے اور یہی صنفی تشدد کی بنیاد بنتا ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیاکہ ماں کا کردار نبھاتے ہوئے بچوں میں قوت برداشت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ آغاخان ہیلتھ سروس کے جنرل منیجر معراج الدین، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے شازیہ سلطان، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے انجینئر اسد اللہ، ایل اے پی ایچ کا نمائندہ قاضی عرفان،سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے صنفی تشدد کی مختلف صورتوں اور ان کی روک تھام کے لئے تجاویز پیش کی۔

chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 1 chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 6 chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 5 chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 4 chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 3 chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 2

chitraltimes legal awarness program and aku organized workshop 8

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74833

ایس آئی ایف کے زیراہتمام صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ایکٹیوزم کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

ایس آئی ایف کے زیراہتمام صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ایکٹیوزم کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

چترال ( چترا ل ٹایمز رپورٹ ) صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں سکیوراسلامیک فرانس( ایس آئی ایف)چترال نے ادارہ ولڈفوڈ پروگرام کے اشتراک سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس پر پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

پروگرام کا موضوع “صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ایکٹیوزم” پروگرام میں حیدر علی پروجیکٹ مینجر ایس آئی ایف نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ پروگرام میں شائستہ مینجر سویل سوسائٹی اے کے آر ایس پی، نفیسہ بی بی کلینکل سائیکالوجسٹ پاپولیشن ویلفیئر چترال، آسیہ اجمل پروجیکٹ مینجر دارلامان چترال , شازیہ سلطان جنڈر اسپشلسٹ اے کے ار ایس پی اور سول سو سائٹی کی نمائندگی کرنے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تا ہم شراکاء کا کہنا تھا کہ چترال کی خواتین کو اپنی کلچرل اور مذہبی روایات میں رہتے ہوئے صنفی بنیاد پر تشدد سے بچنے کے لیے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خود معاشی طور بااختیار کرنا ہوگا۔ اس موقعے پر ایس آئی ایف نے اپنے حالیہ کاموں پر ایک ڈاکومنٹری فلم بھی حاضرین کے ساتھ شیر کی۔ پروگرام کے آخر میں سیماب گل پروجیکٹ مینجر ایس آئی ایف نے پروگرام میں شرکت پر حاضریں کا شکریہ ادا کیا۔

یادرہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 دن کی سرگرمی ایک سالانہ بین الاقوامی مہم ہے جو 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے شروع ہوتی ہے اور 10 دسمبر تک انسانی حقوق کے دن تک جاری رہتی ہے.یہ پروگرام بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی تھی ۔

chitraltimes sif organizes seminar on gender harrasment 6

chitraltimes sif organizes seminar on gender harrasment 3 chitraltimes sif organizes seminar on gender harrasment 5

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
68947