The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

رواں سال صحت کارڈ پلس منصوبے کیلئے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں 30 ارب روپے بندوبستی علاقوں کے ہیں جبکہ 7 ارب ضم اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ 

Posted on

رواں سال صحت کارڈ پلس منصوبے کیلئے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں 30 ارب روپے بندوبستی علاقوں کے ہیں جبکہ 7 ارب ضم اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا پہلا تعارفی اجلاس چئیرمین و ممبر صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم، ممبران صوبائی اسمبلی شفیع اللہ، مختیار احمد خان، محمد خورشید، راشاد خان، سپشپل سیکرٹری عابد اللہ کاکا خیل سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کے تعارفی اجلاس میں محکمہ کے کردار اور فنکشنز کے بارے تفصیلی طور پر فورم کو آگاہ کیا۔ چئیرمین و ممبر اسمبلی قائمہ کمیٹی ارباب محمد عثمان خان نے اگلے اجلاس کیلئے محکمہ خزانہ سے مختلف کاموں کے تفصیلات اور ڈاکومنٹس طلب کر لئے تاکہ محکمہ کے افعال اور کردار کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کو 93 فیصد فنڈز وفاقی حکومت سے ملتے ہیں جبکہ سات فیصد صوبے کی اپنے ذرائع کی آمدن ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بتایا کہ رواں سال صحت کارڈ پلس منصوبے کیلئے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں 30 ارب روپے بندوبستی علاقوں کے ہیں جبکہ 7 ارب ضم اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں اور اب تک 15 ارب ریلیز کر چکے ہیں اور 4 ارب روپے مزید اسی ہفتے ریلیز کر لیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سرکاری سکول میں پڑھنے والے ہر بچے پر حکومت کا 7000 روپے خرچہ آتا ہے جس پر چئیرمن قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ ارباب محمد عثمان خان نے کہا کہ اتنی ماہانہ فیس تو پرائیویٹ کے ٹاپ سکولز کی بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی سرکاری سکولوں کی کارکردگی مایوس کن کیوں ہے۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے فورم کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس محصولات کیلئے جو ہدف مقرر کیا تھا صرف اگست کے مہینے میں 100 ارب کم محصولات کیے جمع کیے گئے ہیں جس سے صوبے کو ساڑھے آٹھ ارب روپے کم ملیں گے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ ضم اضلاع انتظامی طور پر ضم کیے گئے ہیں لیکن مالی طور پر اسی طرح سے ضم نہیں کیے گئے اور ان کے فنڈز وفاقی حکومت سے آتے ہیں۔ انہوں نے فورم کو بتایا کہ ضم اضلاع کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے وفاقی حکومت صرف 66 ارب روپے دے تی ہے جبکہ سیلری کے اخراجات 104 ارب روپے ہیں جو صوبے کو ضم اضلاع کے سرکاری ملازمین کے تنخواہوں کی مد میں ملنے والے فنڈز کا شارٹ فال ہے

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
94138