The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صحت کارڈ پلس کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے  : بیرسٹر سیف

Posted on

صحت کارڈ پلس کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے  : بیرسٹر سیف

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ صحت کارڈ پلس حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے۔اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ سال عرصہ میں 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے، عوام کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی پر مجموعی طور پر 57 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں، 276 مریضوں کو ٹرانسپلانٹ اور کاکلیئر امپلانٹ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 158 ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے 700 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت دستیاب ہے، صحت کارڈ پلس کے تحت گردے اور جگر کی پیوندکاری، بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت دیگر مہنگے امراض کا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڑوندون کارڈ کے ذریعے او پی ڈی مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے، ڑوندون کارڈ کے تحت مفت او پی ڈی کا آغاز ضلع مردان سے کیا گیا ہے، جسے جلد صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔

صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا کہ صحت کارڈ پلس حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے، خیبر پختونخوا حکومت عوام کو باوقار اور معیاری صحت سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی خدمت کا نیا معیار قائم کیا ہے۔بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا کا انقلابی منصوبہ صحت کارڈ پلس عوام کی خدمت، تحفظ اور شفا کی ضمانت ہے، لاکھوں خاندان صحت کارڈ پلس کے ذریعے مفت اور معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
114582

صوبائی حکومت اپنی انشورنس کمپنی بنانے پر غور کر رہی ہے جو صوبے کی پہلی انشورنس کمپنی ہوگی جو صحت کارڈ پلس سمیت متعدد انشورنس اقدامات کیلئے کام کرے گی۔ مشیر خزانہ

Posted on

صوبائی حکومت اپنی انشورنس کمپنی بنانے پر غور کر رہی ہے جو صوبے کی پہلی انشورنس کمپنی ہوگی جو صحت کارڈ پلس سمیت متعدد انشورنس اقدامات کیلئے کام کرے گی۔ مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

صحت کارڈ پلس کے علاج میں مزید شفافیت لانے کیلئے بائیو میٹرک ویری فیکیشن کا نظام لا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا اندیشہ نہ ہو۔ مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا ایک اہم اجلاس چیئر مین و ممبر صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم، ممبران صوبائی اسمبلی شفیع اللہ، اشفاق احمد خان نے شرکت کی جبکہ خصوصی دعوت پر ممبران صوبائی اسمبلی نثار باز اور عبدالمنعیم نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری فنانس عامر سلطان ترین، سپیشل سیکرٹری فنانس بجٹ خدا بخش، سپیشل سیکرٹری فنانس ریگولیشن عابد اللہ کاکا خیل، سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی سمیت متعدد حکام نے شرکت کی اجلاس میں ایجنڈے کے مطابق صحت کارڈ پلس، شانگلہ ھائیڈرو پاور منصوبہ فنڈز، پرونشل فنانس کمیشن، محکمہ معدنیات کی رائیلٹی اور سالانہ ترقیاتی پروگرام بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی انشورنس کمپنی بنانے پر غور کر رہی ہے جو صوبے کی پہلی انشورنس کمپنی ہوگی جو صحت کارڈ پلس سمیت متعدد انشورنس اقدامات کیلئے کام کرے گی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ صحت کارڈ پلس کیلئے 30 ارب روپے سے زائد نو مہینوں میں جاری کر چکے ہیں جس سے صوبے کے غریب عوام کو مفت علاج کی سہولت جاری ہے اور یہ وہی صوبہ ہے جس سے یہ سہولت نگران حکومت کے دور میں ختم کی گئی تھی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صحت کارڈ پلس کے علاج میں مزید شفافیت لانے کیلئے بائیو میٹرک ویری فیکیشن کا نظام لا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا اندیشہ نہ ہو۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ مارچ 2024 نگران دور حکومت میں صوبائی حکومت کے ساتھ ایک مہینے کے تنخواہ کے فنڈز نہیں تھے جبکہ اب صوبائی حکومت کی بہترین انتظامی اور کفایت شعاری کے اقدامات کی بدولت صوبائی خزانہ بہترین پوزیشن پر ہے۔ سی ای او ڈاکٹر ریاض تنولی نے کہا کہ صحت کارڈ پر زیادہ ایڈمیشنز اور پروسیجر سب سے زیادہ سرکاری ہسپتالوں میں ہوتے ہیں اور صحت کارڈ پلس پر سب سے زیادہ دل کی بیماریوں کے علاج کیے جاتے ہیں جس وجہ سے سب سے زیادہ فنڈز پورے صوبے میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو جاتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
98309

صحت کارڈ پلس کے تحت مفت علاج کی سہولیات صوبے کی تمام آبادی کے لئے بلا امتیاز جاری ہیں۔ سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا محمود اسلم وزیر۔

صحت کارڈ پلس کے تحت مفت علاج کی سہولیات صوبے کی تمام آبادی کے لئے بلا امتیاز جاری ہیں۔ سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا محمود اسلم وزیر۔

پشاور (چترال ٹائمزر پورٹ) سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ صحت کارڈ کے تحت علاج کی سہولیات خیبرپختونخوا کی تمام آبادی کے لئے بلا امتیاز جاری ہیں جب کہ مزید بہتری اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کے لئے تجاویز تیار کی گئی ہیں جن کی کابینہ نے منظوری دی ہے، تجاویز کا مقصد صحت سہولت پروگرام میں شفافیت لانا ہے. نئی اصلاحات کے نتیجے میں تمام آبادی کے لئے ثانوی علاج بالکل مفت اور 65 فیصدغریب طبقہ کو ترجیحی علاج بھی مفت فراہم کیا جائے گا جبکہ صوبے کی 35 فیصد وہ آبادی جو استطاعت رکھتی ہے وہ ترجیحی علاج کے اخراجات میں اپناحصہ ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کو متعارف کرانے سے صحت کارڈ پلس منصوبے کو پائیداری ملے گی اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جاسکے گا. ہسپتالوں کے چناؤکے طریقہ کار کو سخت کردیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور معیاری علاج کو یقینی بنایا جائے، اس تناظر میں چند مخصوص پروسیجر ز (آپریشن) کو سرکاری ہسپتالوں تک محدود کیا جائے گا. انہوں نے کہا کہ شکایات کے ازالے کے لئے بھی ایک جامع طریقہ کار وضع کیا گیا ہے تاکہ عوامی شکایات کی بروقت شنوائی ہو۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78946

وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں صحت کارڈ پلس کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس، صحت کارڈ پلس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اسکیم کو مزید منظم اور دیرپا بنانے پر اتفاق

Posted on

وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں صحت کارڈ پلس کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس، صحت کارڈ پلس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اسکیم کو مزید منظم اور دیرپا بنانے پر اتفاق

پشاور( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے صوبے کے غریب عوام کے لیے صحت کارڈ پلس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اسکیم کو مزید منظم اور دیرپا بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل مقصد صوبے کے نادار اور غریب خاندانوں کو علاج معالجے کی مفت اور معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اسکیم کو دیرپا بنانے اور اسے مزید موثر انداز میں چلانے کے لیے قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے حقیقت پسندانہ طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں صحت کارڈ پلس کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ حمایت اﷲ ، مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور کے علاوہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری خزانہ ایاز خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر صحت کارڈ پلس ڈاکٹر ریاض تنولی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں شعبہ صحت خیبرپختونخوا کے تحت اٹھائے گئے اہم اقدامات خصوصاً فلاحی پروگرام صحت کارڈ پلس کی افادیت و ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صحت کارڈ اسکیم کو مزید بہتر، مو ¿ثر ،منظم اور دیرپا بنیادوں پر چلانے کے لیے مختلف پہلووں پر غور و خوص کیا گیا۔ وزیرا علیٰ نے کہا کہ ہم نے اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا وہ مقصد پورا ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں موجود خامیوں، کمزوریوں اور پیچیدگیوں کو دور کر کے اسے مزید اچھے انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے حقیقت پسندانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلی نے متعلقہ احکام کو ہدایت کی کہ صحت کارڈ کے تحت عوام علاج معالجے کی سہولیات کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ جب حکومت سالانہ اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تو اس کے پورے پورے مثبت نتائج عوام تک پہنچنے چاہیئں۔

محمد اعظم خان نے اس موقع پر دور دراز اضلاع میں صحت کی مقامی سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس طرح عوام کو ان کی دہلیزپر صحت کی ضروری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں جس کی وجہ سے شہروں میں بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ محدود ہے اور مالی مسائل کا بھی سامنا ہے تاہم عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے دائرہ اختیار کے مطابق جس قدر ممکن ہو اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی خدمات کے شعبوں میں صحت کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس شعبے سے وابستہ عوامی توقعات کو پورا کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت درست سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77221

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس سے متعلق اجلاس

Posted on

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس سے متعلق اجلاس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس سے متعلق ایک اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میںوزیراعلیٰ کو صحت کارڈ سکیم سے متعلق مختلف اُمور پرتفصیلی بریفنگ دی گئی اور صحت کارڈ سکیم کے معاملات کو مزید بہتر اور منظم انداز میں چلانے سے متعلق اُمور پر غور و خوض کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر عابد جمیل ، سیکرٹری خزانہ آیاز خان ، سپیشل سیکرٹری صحت عبید اللہ کاکاخیل پراجیکٹ ڈائریکٹر صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صحت کارڈ سکیم کے تحت صوبے کے 97 لاکھ خاندان علاج معالجے کی مفت سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ صحت کارڈ سکیم پر سالانہ 28 ارب روپے لاگت آرہی ہے ۔

اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ صحت کارڈ کے تحت علاج معالجے کی سہولیات ملک بھر کے مختلف نجی اور سرکاری دونوں ہسپتالوں میں فراہم کی جارہی ہیںاور اس مقصد کیلئے نجی اور سرکاری شعبے کی 1139 ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کیا گیا ہے ۔ اجلاس میں شعبہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو صحت کارڈ سکیم کے اُمور کو مزید بہتر انداز میں چلانے اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کرے گی ۔ مذکورہ کمیٹی قلیل المدتی اقدامات کیلئے وہ تجاویز پیش کرے گی جو صرف نگران حکومت کے مینڈیٹ میں ہوں گی جبکہ طویل المدتی اقدامات اگلی حکومت کیلئے بطور تجاویز پیش کئے جائیں گے ۔ مزید برآں یہ کمیٹی دیہی علاقوں کے ہسپتالوں میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے سے متعلق بھی تجاویز پیش کرے گی ۔ وزیراعلیٰ محمد اعظم خان نے صحت کارڈ سکیم کو عوامی فلاح و بہبود کا ایک اچھا پروگرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پروگرام میں موجود خامیوں کو دور کرکے اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ اس فلاحی منصوبے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام تک پہنچے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے کے مختلف ہسپتالوں کی مرمت کیلئے مختص شدہ فنڈز کے استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
72548

صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے۔وزیراعلیِ

صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست کے قیام کے وژن کے تحت عوام کی فلاح وبہبود کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن سے عوام بلاتفریق مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکز شہریوں کے طرز زندگی کو بہتر بنانا اور انہیں دور جدید کی تمام سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہفتہ کے روز صوبائی حکومت کی اصلاحی اور فلاحی حکمت عملی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ محمودخان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا پہلا اور حتمی ہدف ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال کر دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور خدمات کی فراہمی کے نظام تک عوام کی یکساں رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کے حقوق کے لیے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پلس اسکیم، یکساں نصاب تعلیم کا اجرائ، ہسپتالوں اور صحت مراکز کی ریویمپنگ، دور افتادہ علاقوں میں صحت سہولیات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر چلانا، سروسز ڈیلیوری سنٹرز کا قیام، آئمہ مساجد اور اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماوں کو اعزازیہ کی فراہمی، پبلک کمپلینٹ سیلز کا قیام، پٹوار سسٹم میں اصلاحات، مساجد کی سولرائزیشن اور ای گورننس پالیسی کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت کی فلاحی کاوشوں اور اقدامات کا آزادانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کے لیے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات اٹھائے ہیں اور اس نے بے شمار چیلنجز اور مسائل کے باوجود فلاح انسانیت کے منشور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے منفی پروپیگنڈہ کے باوجود عوام کے پی ٹی آئی کے طرز حکومت پر اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ آئے دن پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ واضح رہے خیبر پختونخوا حکومت کے قابل ذکر منصوبوں میں صحت کارڈ سمیت دیگر بڑے منصوبے شامل ہیں جن سے بڑے پیمانے پر لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے جو عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ صحت کارڈ اسکیم سے اب تک لاکھوں افراد مفت علاج کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔ صحت کارڈ میں لیور ٹرانسپلانٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے علاج کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ صوبے کے غریب یا متوسط طبقے کو ان بیماریوں کے علاج کیلئے اپنی کوئی جائیدا د نہ بیچنی پڑے۔ اس کے علاوہ عوام کو شہری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے سروس ڈیلیوری سنٹرز اور سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر لوگوں کو زمینوں کے فرد کا اجراءاور ڈومیسائل سر ٹیفیکیٹ سمیت دیگر خدمات آسان اور آن لائن فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کے ای۔ گورننس منصوبے کا ایک اہم جز ہے۔

مزید برآں صوبائی حکومت تمام شہریوں کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے دوررس اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں پہلے سے موجود سکولوں کی بحالی و اپگریڈیشن ، ضرورت کی بنیاد پر نئے سکولوں کا قیام ، سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی،طلبہ کو تعلیمی وظائف کی فراہمی اور اساتذہ کی بھرتی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت مختلف اضلاع میں ماڈل سکولز بھی قائم کر رہی ہے جن میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے گی۔خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ مقرر کیا جبکہ خطیبوں کیلئے مختص تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح اقلیتی مذہبی پیشواو¿ں کو بھی اعزازیہ دیا جارہا ہے اور صوبہ بھر میں مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے۔ اب تک تقریباً آٹھ ہزار مساجد کوشمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید نو ہزار مساجد کی سولرائزیشن پر کام جاری ہے۔صوبائی حکومت کے مذکورہ اقدامات بلاشبہ ایک فلاحی معاشرے کے قیام کی طرف اہم پیشرفت ہیںاس کے علاوہ مختلف شعبوں میں مزید اصلاحات اور اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
69874

صحت کارڈ پلس کے تحت جنوری 2022 سے30 نومبر2022 ءتک 10 لاکھ 58 ہزار797 مریضوں پر 25 ارب 83 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئی ۔ وزیراعلیِ

صحت کارڈ پلس کے تحت جنوری 2022 سے30 نومبر2022 ءتک 10 لاکھ 58 ہزار797 مریضوں پر 25 ارب 83 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئی ۔ وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صحت کارڈ پلس کو غریب پرور اور عوام دوست منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کارڈ پلس سکیم نہ صرف مفت علاج معالجے کی سہولیات کا ایک جامع پیکج ہے بلکہ یہ سماجی تحفظ کا ایک پروگرام ہے جو غربت کی شرح کو کم کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میںبھی مدد فراہم کر رہا ہے ۔ پیر کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ صحت کارڈ پلس پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا ایک انقلابی قدم ہے جس سے خیبرپختونخوا کے لاکھوں افراد بلا امتیازمستفید ہورہے ہیں ۔ صحت کار ڈ پلس کو نہ صرف قومی سطح پر پذیرائی ملی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق صحت کارڈ پلس کے تحت جنوری 2022 سے30 نومبر2022 ءتک 10 لاکھ 58 ہزار797 مریضوں کے ایڈمشنز کئے گئے ہیں جن پر 25 ارب 83 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئی ہے ۔ اسی عرصے کے دوران 73 کڈنی ٹرانسپلانٹ اور 49 لیور ٹرانسپلانٹ کئے گئے ہیں جن پر بالترتیب 10 کروڑ 20 لاکھ روپے اور19 کروڑ90 لاکھ روپے لاگت آئی ہے ۔اس کے علاوہ 47 ہزار 679 کارڈیالوجی ، ایک لاکھ46 ہزار840 جنرل سرجری، ایک لاکھ 24 ہزار328 گائنی، ایک لاکھ42 ہزار615 میڈیکل، 16 ہزار340 نیورو سرجری،52 ہزار 481 آرتھو پیڈک،37 ہزار384 انکالوجی ، 42 ہزار914 یورالوجی،3 ہزار388 کارڈیک سرجری ، ایک لاکھ 71 ہزار195 ڈائیلاسز،48 ہزار386 تھروٹ اور55 ہزار 229 اپتھمالوجی کے مریضوں کے ایڈمشن کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ سے زائد خاندان صحت کارڈ کے تحت رجسٹرڈ ہیں جوسالانہ 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت صحت کارڈ منصوبے کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید بیماریوں کے علاج کو بھی شامل کر نے کیلئے اقدامات کر رہی ہے جس کا مقصد شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ شہری علاج کی مد میں خرچ ہونے والی رقم تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں خرچ کریں ۔ اُنہوںنے صحت کارڈ منصوبے کو چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس منصوبے کو قانونی تحفظ دینے کیلئے خیبرپختونخوا یونیورسل ہیلتھ کوریج ایکٹ2022 منظور کرایا گیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
69386