The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولیات کو وسعت دینے کے لیے مزید سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ

Posted on

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولیات کو وسعت دینے کے لیے مزید سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولیات کو وسعت دینے کے لیے مزید سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے پالیسی بورڈ کا اجلاس جلد منعقد کرکے صحت کارڈ اسکیم کے معیار پر پورا اترنے والے مزید ہسپتالوں کو پینل میں شامل کرنے کی حتمی منظوری دینے کی ہدایت کی ہے اورتاکید کی ہے کہ صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کے لئے طے شدہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ صحت کارڈ کے پینل میں ہسپتالوں کی شمولیت کے لئے آبادی اور ہسپتالوں کے درمیان فاصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور کوشش کی جائے کہ ہر تحصیل کی سطح پر صحت کارڈ کے پینل پر کم سے کم ایک ہسپتال موجود ہو۔ وہ پیر کے روز محکمہ صحت کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام علی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان، سیکرٹری صحت سید عدیل شاہ کے علاوہ محکمہ صحت اور اس کے ذیلی ادارے خیبرپختونخوا ہیلتھ فاونڈیشن اور صحت کارڈ پلس کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صحت کارڈ اسکیم میں نئے ہسپتالوں کی شمولیت اور دور افتادہ اضلاع میں ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ سمیت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور دیگر امور پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کے بعض اضلاع میں پہلے سے آوٹ سورس سرکاری ہسپتالوں کے بقایاجات کی ادائیگیوں اور دیگر متعلقہ اُمور کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ وزیر اعلی نے محکمہ خزانہ کو ان ہسپتالوں کے بقایاجات فوری طور پر ادا کرنے اور ان ہسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ہیلتھ فاونڈیشن کے ذریعے مزید ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور محکمہ صحت کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مزید ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ کے لئے اگلے مہینے تک تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کیگئی ہے۔اجلاس میں ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ کے موجودہ پیچیدہ عمل کو آسان بنانے کے لیے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کا اُصولی فیصلہ بھی ہوا ہے۔

اسی طرح مزید ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ کے عمل کو بہتر بنانے کیلئے اسٹیرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، وزیر اعلی خود مذکورہ اسٹیرنگ کمیٹی کے چیئرمین ہونگے۔ اجلاس میں روش فارماسیوٹیکل کمپنی کے اشتراک سے صوبے میں ہیموفیلیا کا شکار بچوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہیموفیلیا کے شکار بچوں کو مفت ادویات کی فراہمی پر آنے والی لاگت کا آدھا حصہ صوبائی حکومت اور آدھا روش کمپنی برداشت کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات مقامی سطح پر فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کے لئے نچلی سطح کے طبی مراکز کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں، دور دراز علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے آوٹ سورسنگ کے عمل کو بہتر بنایا جائے گا۔ نچلی سطح کے ہسپتالوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ صحت کارڈ اسکیم اور تدریسی ہسپتالوں کے نظام میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔صوبائی حکومت کے ان اقدامات سے صحت کے شعبے میں بہت جلد واضح تبدیلی نظر آئے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
95399

صحت کارڈ اسکیم کو مزید بہتر بنانے، اس میں پائی جانے والی کمی خامیوں کو دور کرنے اور اس کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں. وزیراعلیٰ 

Posted on

صحت کارڈ اسکیم کو مزید بہتر بنانے، اس میں پائی جانے والی کمی خامیوں کو دور کرنے اور اس کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں. وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صحت کے شعبے کو اپنی حکومت کی ترجیحاتی شعبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نچلی سطح کے مراکز صحت کو مستحکم کرنے اور ان ہسپتالوں میں دستیاب طبی آلات اور دیگر وسائل کے بہتر اور نتیجہ خیز استعمال یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کئے جا سکیں اور تدریسی ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرکاری ہسپتالوں کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں، صحت کارڈ اسکیم کو مزید بہتر بنانے، اس میں پائی جانے والی کمی خامیوں کو دور کرنے اور اس کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اور صوبائی حکومت کے ان اقدامات سے صحت کارڈ کے تحت مفت علاج معالجے کے عمل میں کافی بہتری آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انصاف ڈاکٹر فورم کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور صوبے میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات، ہسپتالوں میں ہیلتھ کئیر سروس ڈیلیوری کی بہتری اور ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ صحت کارڈ اسکیم میں لائف انشورنس اسکیم کو بھی شامل کیا جارہا ہے، یہ اسکیم سماجی تحفظ کا ایک منفرد منصوبہ ہے اور صوبائی حکومت سماجی تحفظ کے منصوبوں کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لئے اپنی انشورنس کمپنی کا قیام بھی عمل میں لا رہی ہے جبکہ صوبے میں پہلی دفعہ بون میرو اور لیور ٹرانسپلانٹ کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کے لئے ڈاکٹر کمیونٹی کے مشاورت سے اقدامات کئے جائیں گے اس مقصد کے لئے ڈاکٹرز ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور آئی سی یو سروسز کو اینٹگریٹڈ کرنے سمیت دیگر اصلاحات کے لئے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر قابل عمل تجاویز پیش کریں۔ وفد میں ڈاکٹر سجاد انور، ڈاکٹر نبی جان، ڈاکٹر آفریدی، ڈاکٹر سمیرا شمس، ڈاکٹر انیلہ شاہ، ڈاکٹر لیاقت علی خان اور دیگر شامل تھے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
95019

صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی سہولیات بلاتعطل جاری رکھنا نگران صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اعظم خان

Posted on

 صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی سہولیات بلاتعطل جاری رکھنا نگران صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اعظم خان

نگران صوبائی حکومت صحت کارڈ اسکیم کو پائیدار اور مستقل بنیادوں پر چلانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے
اسکیم کو جاری رکھنے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کا تعاون قابل تعریف ہے،
مالی مسائل کے باوجود مفت علاج کی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی اہم ترجیح ہے، محمد اعظم خان

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صحت کارڈ اسکیم سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا جس میں صحت کارڈ سکیم کو دیرپا بنیادوں پر چلانے کے لیے نئی اصلاحات پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ اسکیم کے تحت متعلقہ انشورنس کمپنی کو بقایا جات کی ادائیگی سے متعلق معاملات پر غور و خوض کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی طرف سے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو آئندہ کی ادائیگیوں کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں صحت کارڈ اسکیم میں صوبائی کابینہ کے منظور کردہ اصلاحات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور محکمہ صحت کو اُن اصلاحات پر عملدرآمد کم سے کم وقت میں یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت صحت کارڈ اسکیم کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات بھی اٹھا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا خیبر پختونخوا پر سب سے زیادہ اثر پڑ رہا ہے کیونکہ صوبے کی زیادہ تر آمدن کا دارومدار وفاق کی طرف سے ادائیگیوں پر ہے،وفاق سے صوبے کے شیئرز بروقت نہ ملنے کی وجہ سے صوبائی حکومت کو معاشی مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسٹیٹ لائف کے بقایاجات کی ادائیگی میں وقتی طورپر مشکلات کا سامنا ہے۔

اعظم خان کا کہنا تھاکہ معاشی مسائل کے باوجود صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی سہولیات بلاتعطل جاری رکھنا نگران صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسکیم کو پائیداربنیادوں پر چلانے اور مفت علاج کی سہولیات بلاتعطل جاری رکھنے کےلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور اس مقصد کے لئے نئی اصلاحات متعارف کی جارہی ہیں تاکہ اسکیم کا زیادہ سے زیادہ فائدہ غریب لوگوں کو مل سکے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پرصحت کارڈ اسکیم کو جاری رکھنے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے تعاون کو بھی قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کمپنی کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ اجلاس میں صحت کارڈ کے تحت ایمرجنسی سروسز کو کسی صورت معطل نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ جنوری 2023 میں صوبائی حکومت کے ذمے اسٹیٹ لائف انشورنس کے 44 ارب روپے کے بقایا جات تھے جو اب کم ہو کر 16 ارب روپے رہ گئے ہیں جنہیں بھی ادا کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
79895

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی بندش کا نوٹس، متعلقہ حکام کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت 

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی بندش کا نوٹس، متعلقہ حکام کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صحت کارڈ اسکیم کے تحت علاج معالجے کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو بقایا جات کی فوری ادائیگی کا انتظام کیا جائے۔ وزیر اعلی کی ہدایت پر متعلقہ حکام نے اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی حکام سے فوری رابطہ کرکے ایک ہفتے کے اندر بقایا جات ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے پینل پر موجود ہسپتالوں کو صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کی سہولیات فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے صحت کارڈ اسکیم کے حکام کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78213

صوبائی کابینہ نے وفاق کی جانب سے آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کااختیار وزیر اعلی محمود خان کو دیدیا۔

صوبائی کابینہ نے وفاق کی جانب سے آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کااختیار وزیر اعلی محمود خان کو دیدیا۔

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی کابینہ نے وفاق کی جانب سے آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کااختیار وزیر اعلی محمود خان کو دیدیا۔ کابینہ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنے صوبے کے حقوق کا تحفظ ہر صورت میں کریں گے۔ کابینہ کا 76 واں اجلاس وزیر اعلی محمود خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان کے علاوہ چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد وزیرخزانہ و صحت خیبرپختونخوا تیمورسلیم جھگڑا، معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف اور وزیر سماجی بہبود و زکوٰۃ انور زیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع کے لوگوں سے صحت کارڈ کی سہولت چھینتے ہوئے صوبے کے ساتھ ضم قبائلی اضلاع کے عوام کو صحت کارڈ کے تحت علاج کی سہولت سے محروم کر دیا ہے۔صوبائی وزراء نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپریل سے پن بجلی منافع کی مد میں ماہانہ ادائیگی روک دی ہے۔ ہم نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کو 29 جون کو خط لکھا جس کا وفاقی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن صوبے کے مفاد کا تحفظ بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ابھی تک ایم او یو پر دستخط کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جب وفاق کے ساتھ ہمارے معاملات حل ہوں گے تو ایم او یو پر دستخط بھی کر دیں گے۔ ہم اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان نے قبائلی اضلاع کیلئے اپنے وسائل سے دوبارہ صحت کارڈ پروگرام شروع کرنے کی منظوری دی۔وزیر اعلی محمود خان نے قبائلی اضلاع کے عوام کے لئے صحت کارڈ سکیم کو جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر وفاقی حکومت کے ساتھ قبائلی اضلاع کے صحت کارڈ سکیم کے فنڈز کی منتقلی سے متعلق معاملات حل ہونے تک اس سکیم کو جاری رکھنے کے لئے مناسب انتظامات کئے جا رہے ہیں۔قبائلی اضلاع کے عوام ہمارے اپنے بھائی ہیں ان کو مفت علاج کی سہولت سے کسی صورت محروم نہیں کریں گے۔

صوبائی حکومت اپنے وسائل سے اس اسکیم کو جاری رکھے گی لیکن وفاق سے اس کیلئے فنڈز کی منتقلی کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے۔قبائلی عوام وفاق سے اپنے حقوق لینے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود انور زیب نے کہا کہ ضرورت پڑی تو قبائلی عوام پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی فنڈز سے قبائلی عوام کے لیے صحت کارڈ کی سہولت جاری رکھنے پر وزیر اعلی محمود خان کے مشکور ہیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں کہا کہ صوبائی کابینہ نے محکمہ جنگلات کے مطالبے پر جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کے 59489 ایکڑویٹ لینڈ کومختلف اقسام کے جانوروں اور پرندوں (مائیگریٹری برڈز) کے تحفظ اور افزائش کے لئے کنزروینسی ایریا قرار دینے کی منظوری دیدی۔اسی طرح صوبائی کابینہ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کو اناج کی فصلوں کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ پیر سباق نوشہرہ کی لیز اراضی کے واجب الادارقم کی ادائیگی کے لئے389. 29 ملین روپے بطور سپلیمنٹری گرانٹ دینے کی بھی منظوری دیدی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع کے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش کے بعد پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے عوام کے لئے  فی الحال اپنے وسائل سے اس اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ

پشاور ( چترال ٹایمز رپوٹ ) وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع کے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش کے بعد پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے عوام کے لئے ایک اہم اقدام طور پر فی الحال اپنے وسائل سے اس اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قبائلی اضلاع کے عوام کو مفت علاج معالجے کی یہ سہولت بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 76 ویں اجلاس میں کیا گیا۔ ضم اضلاع کے صحت کارڈ کو بلا تعطل جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلی محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وفاق سے اس اسکیم کے فنڈز کی منتقلی کا معاملہ حل ہونے تک اس سکیم کو جاری رکھنے کے لئے فوری طور ضروری انتظامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کا صحت کارڈ اسکیم کسی بھی حال میں معطل نہیں ہونا چاہیے، قبائلی اضلاع کے عوام ہمارے اپنے بھائی ہیں انہیں مفت علاج کی سہولت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق سے اس اسکیم کے فنڈز کی منتقلی کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائے گی اور ضم اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
<><><><><><><>

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے لئے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش کے معاملے پرشدید رد عمل کا اظہار

پشاور ( چترال ٹایمز رپوٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے لئے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش کے معاملے پرشدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے احتجاج کیاہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر صحت کوباقاعدہ مراسلہ ارسال کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش  ملک کی خاطر قبائلی عوام کی قربانیوں کی صریحاً توہین ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام بری طرح متاثر ہوئے ہیں،صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش موجودہ وفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے سے انحراف ہے جبکہ صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش اور قبائلی اضلاع کے دیگر ترقیاتی فنڈز میں کمی جیسے اقدامات قبائلی عوام میں سخت احساس محرومی کو جنم دے گا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے منظور کردہ سمری کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کررہی ہے،سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے منظور کردہ سمری میں صحت کارڈ اسکیم کو صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے پی ایس ڈی پی سے فنڈز کے بندوبست کرنے کا بھی واضح ذکر موجود ہے اور سابق وزیر اعظم نے بغیر فنڈز  کے صحت کارڈ اسکیم صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کی منظوری نہیں دی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس اسکیم کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنے کی بجائے یکطرفہ طور پر قبائلی اضلاع کے 50 لاکھ سے زائد شہریوں کو مفت علاج کی سہولت ختم کردی جبکہ انضمام کے وقت کئے گئے وعدے کے مطابق پختونخوا کو ضم اضلاع کے لئے این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل میں پورا حصہ بھی نہیں مل رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاق نے رواں بجٹ میں ضم اضلاع کے فنڈز 85 ارب روپے سے کم کرکے 60 ارب کردیئے جس سے صوبائی حکومت کو 25 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے اور اس خسارے کو پورا کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وفاقی حکومت سے صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کی بندش کے اپنے فیصلے پر فی الفور نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
63196

صحت کارڈ اسکیم کے تحت اب تک 12لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا گیا۔وزیراعلیِ 

خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ اسکیم کے تحت اب تک 12لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا گیا۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ اسکیم کے تحت اب تک 12لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا گیا ہے جس پر مجموعی طور پر29 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اسکیم کے تحت مریضوں کو خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے پینل میں شامل 1115 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت میسر ہے جن میں 254 سرکاری اور861 پرائیویٹ ہسپتال شامل ہیں ۔ صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے پر سالانہ تقریباً 23 ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں۔یہ بات جمعرات کے روز وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صحت کارڈ اسکیم سے متعلق ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے۔سیکرٹری صحت عامر ترین، وزیراعلیٰ کے سپیشل سیکرٹری مسعود یونس، وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن محمد خالق، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹرریاض تنولی و دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اسکیم کے تحت مفت علاج معالجے اور اخراجات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک دل کے ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔اسی طرح گائنی کے ایک لاکھ 86 ہزار اور کینسر کے 58 ہزارمریضوں کا مفت علاج کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے 85 کیسزاور لیور ٹرانسپلانٹ کے نو کیسز کئے جاچکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اسکیم کے تحت علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مفت بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی اسکیم میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں جلد سے جلد پروپوزل تیار کرکے منظوری کے لئے پیش کی جائے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ بون میرو ٹرانسپلانٹ مہنگا علاج ہے جو عام آدمی کے بس میں نہیں،ہمارا مقصد عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہیں۔ محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صحت کارڈ پروگرام کو مزید جامع بنانے کے لئے پر عزم ہے اور ہرقسم کے علاج معالجے کو صحت کارڈ اسکیم میں شامل کرنے پر کام کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کیلئے معیار پر پورا اُترنے والے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں اور ہسپتالوں کے انتخاب میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔
<><><><><><>

وزیراعلیِ کا شانگلہ میں  ریسکیو 1122 کے اہلکار  کی شہادت پر تعزیت کا اظہار

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ضلع شانگلہ میں جنگلات کو لگی آگ کوبجھاتے ہوئے ریسکیو 1122 کے اہلکار کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر وزیر اعلی نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ انہوں نے شہید اہلکار کی فرض شناسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید نظام اللہ نے فرائض منصبی کی ادائیگی میں جان کی قربانی دی اور اس کی فرض شناسی دیگر اہلکاروں کے لئے قابل تقلید مثال ہے۔وزیر اعلی نے یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت شہید اہلکار کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

وزیراعلیِ کا ایم این اے امیر لیاقت کے انتقال پر اظہار تعزیت

دریں آثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے مرحوم کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
62157