The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 3 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

معروف ماہر تعلیم شیر ولی خان اسیرؔ کا دورہ آغا خان ہائیر سکینڈری سکول ہنزہ

ہنزہ کریم آباد  ( چترال ٹائمزرپورٹ) نامور ماہرتعلیم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر (ر) شیر ولی خان اسیرؔ   نے آغاخان ہائیر سکینڈری سکول ہنزہ کا دورہ کیا  ، سکول کی فیکلٹی اور پرنسپل سے ملاقات کی ،  طالبات کے ساتھ  ایک مختصر نشست میں تعلیم نسواں  کی اہمیت پر گفتگو کی۔

تفصیلات کے مطابق معروف ماہر تعلیم ، شاعر ، دانشور،محقق  اور مصنف  شیر ولی خان اسیرؔ  نے خصوصی طور پر آغا خان ہائیرسیکڈری سکول ہنزہ کا دورہ کیا ۔ موصوف ضلع چترال میں تعلیم نسواں کی حامیوں کے وہ   علمبردار ہیں کہ جنہوں  نے بچیوں کی شخصیت ، اہمیت ، اُن کے وقار اور اُن کی تعلیم و تربیت پر  ایک منظوم کتاب ” ژور نامہ ”   تصنیف کی ہے   ۔

ہائیرسکینڈری سکول ہنزہ کی بچیوں کے ساتھ ایک مختصرنشست میں انہوں نے اپنے زمانے کی تعلم اورخاص طور پر تعلیم  نسواں پر روشنی ڈالی اور اپنے زمانے میں بچیوں کی تعلیم کو معیوب  سمجھنے کی  جاہلانہ  رویے کا  ذکر کر تے ہوئے  گلگت بلتسان میں بچیوں  کو زیور تعلیم  سے آراستہ  کر نے کے  ضمن میں ہز ہائی نس پرنس کریم آغاخان کی بصیرت اور ڈائمنڈ جوبلی سکولوں  کے  مثالی کردار  کو   دنیا کے لیے  علم و دانش  کا  مینار  قرار دیا   اور کہا کہ آغا خان  ایجوکیشن  سروس  کی بدولت   گلگت  بلتستان  اور چترال کے انتہائی دورافتادہ علاقوں  تک تعلیم کے نور کو پھیلانے  میں    ادراے  کے دور اندیش  قائدین  کی خدمات قابل   تحسین ہیں  ۔

اُنہوں نے پرنسپل کے ایما پرایک کمرہ جماعت میں طالبات کے سیکھنے کےعمل کا مشاہد کیا اور طالبات سے مختصرسوالات کرنے کے بعد ادارے   میں رائج طریقہ ٔ  تدریس اور تعلیم و تربیت دیکھ کر اپنے ، کم و بیش،  چار عشروں پر محیط  پیشہ وارانہ زندگی کے دوران مشاہدے میں آنے والے درسگاہوں میں سے آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول ہنزہ  کو ایک مثالی  درسگاہ  قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو قومیں  اپنی   خواتین   کو   جدید معیار تعلیم سے  مستفید  کرتی  ہیں  اُن کےلئے  ترقی کی راہیں  کھل جاتی ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ   اس سکول  کے اندر  داخل ہوتے ہی  اس مادر   علمی کی علمی خوشبو ، علمی  ماحول ،نظم ضبط اور  طالبات     محنت  کو  دیکھ   مجھے  اُمید واثق ہوئی ہے  کہ  یہ بچیاں جب  عملی  زندگی میں قدم  رکھیں گی  تو ہمارا ملک  دنیا  میں تہذیب یافتہ  قوموں  کی  بہترین مثال  بن کر اُبھرے گا  ۔  انہوں نے طالبات پر  زور دیتے ہوئے  کہا کہ دنیا میں  جہالت    کا قلع  قمع   اُس وقت ممکن ہے  جب  ہماری  قوم  کا  ہر فرد   جدید اور معیاری تعلیم سے  آراستہ  ہو    اور  ایسی ہی  جدید طرز تعلیم    آغا خان ہائیر سکینڈری  سکول میں   عملی طور پر رائج ہے    ۔ 

صاحب موصوف نے  اس بات پر خصوصی  طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ  آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ  کے پاس معیاری کتابوں  سے مزئین   بہترین لائبریری  موجود ہے   میرا آپ کےلیے پیغام یہ ہے کہ  اچھی کتاب  کسی بھی وقت ہاتھ آجائے    اُن کی طرف اپنی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں  کیوں کہ جس انسان  کی کتاب کے ساتھ دوستی ہوگی    وہ نہ صرف ایک اچھا انسان بنے گا بلکہ  دنیا پر حکمرانی   کے گُر بھی سیکھے گا  ۔ انہوں نے طالبات کو  اپنی  تصنیفات کے تحائف  بھیجنے کا وعدہ بھی  کیا ۔  اس کے بعد  اساتذہ سے ملاقات کرتے ہوئے    پیشہ  تدریس کو   ذریعہ  معاش سے زیادہ ذریعہ  عزت  افتخار  قرار دیا  اور   مثالی  خدمات پر  اُنہیں   شاندار  الفاظ میں خراج تحیس بھی  پیش کی  ۔  

  نشست  کے اختتام پر  سکول ہذا کی پرنسپل   زہرہ  علی داد   نے مہمان کا شکریہ ادا کیا اور سکول تشریف لانے اور   طلبات   کی ہمت افزائی پر   پورے سکول کی جانب سے  مہمان کا شکریہ ادا کیا ۔

chitraltimes inayatullah aseer visit hunza aks school 2
chitraltimes inayatullah aseer visit hunza aks school 1
Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged ,
52255

شیر ولی خان اسیرؔ کے ساتھ مختصر نشست اور بھولی یادیں ۔تحریر : شمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے (سر شیر ولی خان اسیرؔ صاحب کے ساتھ مختصر نشست اور بھولی یادیں )

تحریر : شمس الحق قمر

استاد کتنی پیاری اور سب پہ بھاری  شخصیت ہوتی ہے آپ کو اس کا اندازہ تب ہوگا جب سکول ، کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد زندگی کے بکھیڑوں میں اُلجھے ہوں اور کہیں اتفاق سے  بچپن کا کوئی استاد آپ کو ملے ۔ یہ وہ عظیم  لمحہ ہوتا ہے کہ جب عشروں کے اُس پار کی زندگی اور سکول میں بیتے تمام لمحات زندہ  ہوتے ہیں ۔

        آج سر شیر والی خان اسیرؔ صاحب  سے گلگت میں ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے پچھلے دنوں  ٹٰیلی فون پر اپنے گلگت آمد اور مجھے شرف ملاقات سے نوازنے کےلیے میرے گھر تشریف لانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا  جو کہ ناچیز پر آپ کا بڑا احسان تھا ۔ مجھے معلوم ہے انہوں  نے اپنی زندگی میں بے شمار لوگوں کو علم کے نور سے منوّر کیا ہوگا اور یوں اُن بہت سوں کی قطار میں اُن کے دل میں اپنا مقام دیکھ کر اپنے آپ پر فخرمحسوس ہونے لگا کہ دیکھ بھائی تو کتنا عظیم  آدمی  ہے کہ  تیرے استاد نے تجھے یاد فرمایا ہے ۔ میں نے آداب بجا لانے کے بعد سر سے درخواست کی کہ  وہ تکلّف نہ فرمائیں بلکہ میں اُن کی رہائش گاہ حاضر ہو کر دست بوسی کا شرف حاصل کروں گا۔

chitraltimes sher wali khan aseer 3

         شیر ولی خان اسیر صاحب کے ساتھ  ایک استاد اور شاگرد کے رشتے کے علاوہ بھی  بے شمار خاندانی  رشتے ہیں  لیکن مجھ پر بھاری رشتہ اولذکر ہی رہا ہے کیوں کہ ہم نے آپ کا  وہ پیشہ وارانہ کھرا پن دیکھا ہےکہ  سچائی اور حق  کے سامنے سر تا پا سر تسلیم خم کیے رکھتے تھے  اور باطل کو جوتی کی نوک پر رکھتے ۔ پیشے کے اعتبار سے اُن سے زیادہ پابند نظم و ضبط آدمی میں نے آج تک نہیں دیکھا  ۔ اپنے زمانے کا کیا شاندار اور جاذب نظر آدمی تھے۔ بعض خاص موقعوں پر صبح کی اسمبلی میں تشریف لاتے تو طویل قد کاٹھ پر کوٹ ، پتلوں اور ٹائی کی سجاوٹ صبح کی اسمبلی پر قامیت بر پا کیا کرتی ۔

میں نے بہت بعد میں جب خود ٹیچنگ شروع کی تو پیشہ وارانہ کتابوں کی ورق گرانی سے معلوم ہوا کہ ایک پیشہ وارانہ مُدرس کےلئے لباس کتنی اہمیت کا حامل ہے ۔ میں یہاں پر 1980 کی دہائی کا ذکر کر رہا ہوں جب شیر ولی خان اسیرؔ صاحب ہائی سکول بونی میں  ہیڈ ماسٹر تھے ۔آج جب آپ سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی  تو وہ ہی پرانے میلے یاد آئے جو آج سے 30 سال قبل گزرے تھے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ سربڑی اچھی صحت سے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہم جب ملے تو ہماری گفتگو کا آغاز پرانے زمانے کی دیسی خوراک اور پوشاک کے علاوہ حال ہی میں جیو ٹیلی وژن پر گلگت میں پینے کے پانی کے اندر زہریلے اثرات کے انکشاف  سے ہوا اور مثبت سوچ کے انسانی زندگی اورانسانی  روح پر مثب اثرات پر ہم نے گفتگو سمیٹی ۔

سوال یہ ہے کہGEO ٹیلی وژن کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان کے کئی ایک شہروں  کےعلاوہ گلگت کے پانی میں زہریلے اثرات اگر موجود ہیں تو ورلڈ ہیلتھ ارگینائزیشن اور صحت کے  دیگر سرکاری و نجی ادارے تحقیق کیوں نہیں کرتے ؟ یہ سوال بہت معنی خیز تھا لیکن  اپنے سوال  کا خود جواب دیتے ہوئے  شیر ولی خان اسیرؔ  نے فرمایا کہ شاید یہ مختلف تجارتی  کمپنیوں کی آپس کی معاشی سرگوشیوں کا نتیجہ ہو بصورت دیگر اگر گلگت کے پانی میں  زہریلے اثرات موجود ہوتے تو آج گلگت کا نقشہ کچھ اور ہوتا  ۔ اس وقت گلگت کے اندر شرح اموات یا شرح امراض اتنی کم ہے کہ  یہاں کے لوگ دنیا کے صحت مند لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ باتوں سے باتیں نکلتی گئیں اور  ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ انسان کی سوچ مثبت ہو تو انسان کی زندگی اور روح دونوں ترو تازہ  رہتی ہیں ۔ جسے ہم مثبت سوچ کہتے ہیں اُسے علامہ اقبالرح نے خودی کہا ہے ۔ فرماتے ہیں

؎   ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی         بہت ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

chitraltimes sher wali khan aseer 2
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51496