چرون اویر کا فرزندِ ارجمند ریٹائرڈ صوبیدار شیر غضب شاہ – تحریر : سردار علی سردارؔ
چرون اویر کا فرزندِ ارجمند ریٹائرڈ صوبیدار شیر غضب شاہ – تحریر : سردار علی سردارؔ
بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک ریٹائرڈ صوبیدار شیر غضب شاہ والد میر اعظم خان لال 20 اگست 1936 ء کو اپر چترال کے خوبصورت گاؤں چرون اویر کے خوش احمدقبیلے میں پیدا ہوئے۔اپنے زمانے کے دستور یا تحصیلِ علم کا کوئی بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی تعلیم سے بھی نا آشنا رہے لیکن اپنی خداداد صلاحیتوں اور زیرک ذہنیت کی وجہ سے اپنے ہی گاؤں کے ایک بزرگ شخصیت گل محمد شاہ لال کے سائیہ عاطفت میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔آپ بچپن ہی سے اپنے والدین کے بہت تابعدار تھے اور عاجزی و انکساری سے پیش آتے تھے ۔ اور والدین کی حیات تک آپ نے اسی اصول کو برقرار رکھا اور دل و جان سے اُن کی خدمت کی ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ اپنی پوری زندگی میں اپنے والدین کی نیک دعاؤں کے طفیل کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے۔
پندرہ نومبر 1951 ء کو چترال سکاوٹس میں بھرتی ہوئے اور سگنل ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اپنی کرئیر کا آغاز کیا۔ اپنے پیشے سے دیانت داری اور فرض شناسی کی وجہ سے اپنے اسٹاف اور افسرانِ اعلیٰ میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران ہمیشہ دل لگا کر اور صداقت کے ساتھ کام کیا اور دادو تحسین کے مستحق رہے۔ وقت گزرتا رہا اور کئی چیلنجیز اور مشکلات کا بھی خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور اپنی بہترین صلاحیت اور قابیلیت کے بل بوتے پر مختلف عہدوں پر فیض یاب ہوتے رہے۔ 1973 ء میں آپ کو نائب صوبیدار کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آپ اپنی زمہ داریوں کو صداقت اور خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے رہے۔اپنے ماتحت سپاہیوں اور ہم پیشہ لوگوں کے ساتھ آپ کا رویہ دوستانہ اور مشفقانہ تھا ۔جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ سے گفتگو کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے تھے۔
آپ کو انہیں خوبیوں اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر 1975ء میں صوبیدار کے اعلیٰ عہدے پر ترقی ملی جس سے آپ کو پہلے سے زیادہ عسکری قیادت میں ذمہ داریاں اٹھانے اور کام کرنے کا بہترین موقع مل گیا جس سے آپ اپنے قوتِ ارادی اور استقامت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔اپنی منکسرالمزاجی اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے نام پیدا کیا ۔ اس دوران چترال کے دور افتادہ علاقوں اور چترال سے باہر پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی سروس دینے کا زۤرین موقع آپ کو مل گیا ۔ آپ جہاں بھی جاتے کامیابی آپ کے قدم چومتی اور افسرانِ اعلیٰ کی دعائیں اور قدردانی کے خوبصورت الفاظ اپنے ساتھ لیکر واپس لوٹتے۔
ایک سوال کے جواب میں آپ نے بتایا کہ میرے لئے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے کہ میں اپنے کرئیر کے دوسرے عشرے میں جنرل ایوب خان صدرِ پاکستان کی قیادت میں 1965 ء کی جنگ کا حصہ رہ چکا ہوں جبکہ 1971 ء کی جنگ میں فرنتئیر کور درگئی میں حوالدار میجر کی حیثیت سے تعینات تھا اور اسطرح میران شاہ کے کئی آپریشنز میں حصہ لے چکا ہوں۔میری ہی کوشش سے ٹوچی 5 ونگ میں کئی چترالی سپاہیوں کی بھرتی میں اضافہ ہوا۔
نائب صوبیدار کی حیثیت سے جب میں راولپنڈی میں تعینات تھا تو سکندر مرزا اپنی بیگم کی معیت میں GHQ آئے ۔ میں چترالی ٹوپی زیب تن کیا ہوا تھا مجھے دیکھ کر انگریزی میں یوں گویا ہوئی Where you come from?
میں نے کہا I come from Chitral. سکندر مرزا کی بیگم نے حیران ہوکر مجھ سے دوبارہ پوچھنے لگی ۔
Where is Chitral? اس سوال پر جواب دینے کی کوشش کررہا تھا کہ سکندر مرزا نے پہل کرتے ہوئے اس کو سمجھایا کہ چترال NWFP میں ہے۔
1975ء کی بات ہے کرنل معمر قزافی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کیلئے جب پاکستان آئے تو موصوف نے تین دن تک اسلام آباد میں اُن کے ساتھ ڈیوٹی انجام دی۔اسطرح 23 مارچ کی سلامی میں حصہ لیا دورانِ سلامی ذولفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان جب ان کے پاس سے گزرے تو موصوف کی چترالی ٹوپی دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور کہا” اپنی چترالی ٹوپی کبھی بھی نہیں چھوڑنا یہ بہت اچھی لگتی ہے”۔ اسطرح جنرل محمد ضیاالحق کے ساتھ دورانِ ملازمت اور ایک دفعہ ریٹائرڈ منٹ کے بعد جب وہ چترال آئے ملاقات کا شرف مجھے حاصل ہوا ۔ اس دوران ضیاالحق نے مجھ سے پوچھا کیا کام کرتے ہو؟ میں نے کہا ” سر میں کاروبار کررہا ہوں”۔ اس پر جنرل ضیاالحق خوش ہوئے اور مذید محنت کرنے کو کہا۔
28 ستمبر 1978 ء کو اپنی اٹھائیس سالہ خدمات انجام دے کر چترال سکاوٹس کے اپنے ہمعصر دوستوں اور افسرانِ اعلیٰ کے ساتھ زندگی کے حسین لمحات گزارتے ہوئے عزت اور وقار کے ساتھ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ تین عشروں کی اس عسکری وردی میں رہتے ہوئے نہ صرف فوجی افسران سے میری دوستی ہوگئی تھی بلکہ ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی چترال کے اندر مشہورو معروف شخصیات جیسے شہزادہ محی الدین، شہزادہ شہاب الدین، خوش وخت الملک گورنر مستوج اور شہزادہ اسدالرحمن تورکہو سے میرے خوشگوار تعلقات تھے اور گہری دوستی تھی۔ اسطرح ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کئی سیاسی ، مذہبی،علمی اور سماجی شخصیات کے ساتھ میری جان پہچان ہے اور اب بھی میرے گھر میں مجھے سلام دینے کے لئے کبھی کھبار تشریف لاتے رہتے ہیں اور اپنی دعاؤں میں مجھے ہر وقت شامل کرتے رہتے ہیں۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس رحیم و کریم نے اس پچھاسی سالہ ضعیف العمری میں بھی مجھے صحت دی ہے اور میں طمانیتِ قلبی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں۔ اللہ کا مجھ پر یہ بھی احسان ہے کہ میری تمام اولاد اور میری ساری فیملی میرا خاص خیال رکھتے ہیں اور مجھے کسی چیز کی بھی شکایت نہیں ہے۔میں اس لئے بھی خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے سات بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا ہے ۔ ان میں سے بڑا بیٹا ظاہر شاہ ہیں جو چترال سکاوٹس سے صوبیدار کے عہدے پر ریٹائرڈمنٹ لے چکے ہیں جبکہ دوسرا بیٹا نصر من اللہ ہیں جو چترال سکاوٹس میں حوالدار ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو میری طرح صحت اور تندرستی عطا فرمائیں اور تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جزبہ ان میں اجاگر کریں۔