شندور قتل کیس کے ملزمان کی گرفتاری کیلے 19 سال بعد پشاور ہائی کورٹ سے رجوع
شندور قتل کیس کے ملزمان کی گرفتاری کیلے 19 سال بعد پشاور ہائی کورٹ سے رجوع
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) شندور قتل کیس کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 19 سال بعد عدالت عالیہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے ۔
درخواست گزار نے شیر حیدر خان ایڈوکیٹ ہای کورٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر کے موقف اپنایا ہے کہ درخواست گزار کے والد چترال چیوڈوک کے رہائشی عظمت خدا (مرحوم) ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا جو کہ اپنے ساتھی/ کنڈکٹر کے ساتھ مورخہ 16.10.2002 کو گلگت جاتے ہوئے شندور مس جنالی کے قریب حملہ آوروں/ ملزمان نے قتل کر دیے تھے۔
مقدمے کی ایف آئی آر مقامی پولیس نے پولیس اسٹیشن مستوج میں درج کیے تھے جہان گلگت سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور بعد ازان ایک ملزم جہان زیب ولد منصور خان ساکنہ سگور گلگت بلتستان کو گرفتار کیاگیا تھا۔
جہان ٹرائل کورٹ سیشن جج چترال نے ملزم کو سزا کا مرتکب پا کر مجرم قرار دیا تھا
جہان بقیہ (4) چار مفرور ملزمان / مدعا علیہ نمبر 8 تا 11 ابھی تک مفرور ہیں۔ فاضل عدالت کی جانب سے NBWs جاری کرنے کے باوجود متعلقہ SHO ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ معلومات کے مطابق ملزم/مدعا علیہ نمبر 8 شاہ زیب ولد منصور خان ساکنہ سگور گلگت بلتستان ، اینٹی نارکوٹکس فورس گلگت بلتستان میں ملازم ہے اور حکام کو اچھی طرح معلومات ہونے کے باوجود گرفتار کرنے کو تیار نہیں۔۔
درخواست گزار نے حکام کو متعدد درخواستیں/اپیل جمع کروائیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
گلگت بلتستان کی مقامی پولیس/انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے سوائے اس کے کہ پچھلے 19 سالوں سےصرف تعمیل کی یقین دہانی دیتی آرہی ہے ۔
درخواست گزار اپنے رٹ میں وفاقی حکومت کے ساتھ حکومت گلگت بلتستان اور حکومت خیبر پختونخوا اور دونوں صوبوں کے IGPs کو نامزد کرکے انصاف کی طلب کی ہے۔۔۔
