صدرڈاکٹرعلوی نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی
صدرڈاکٹرعلوی نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی
اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)صدر مملکت نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی۔اس سلسلے میں ایوان صدر کی جانب سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو خط لکھ کر کہا گیا کہ صدرمملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی مزید خدمات درکار نہیں۔ایوان صدر نے گریڈ 22 کی افسر حمیرہ احمد کو صدر مملکت کی سیکرٹری مقرر کرنے کی سفارش کردی۔ایوان صدر کے مطابق کل کے واضح بیان کے پیشِ نظر ایوانِ صدر نے سیکرٹری کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو واپس کردیں۔ایوانِ صدر نے وزیر ِاعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط میں کہا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں، لہذا اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو واپس کی جاتی ہیں۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی 22 گریڈ کی افسر، حمیرا احمد ، کو بطورصدر مملکت کی سیکرٹری تعینات کیا جائے۔ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اس وقت جڑنوالہ میں ہیں۔ ان کی واپسی پر انہیں خط سے آگاہ کیاجائے گا اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیاجائے گا۔ صدرمملکت کاخط وزیراعظم آفس کو موصول ہونے کے بعد کوئی رائے دی جائے گی۔صدر مملکت کے سیکرٹری وقاراحمد کی گزشتہ سال گریڈ 22میں ترقی ہوئی تھی۔ وہ اس سے قبل ایوان صدر میں ہی بطور ایڈیشنل سیکرٹری خدمات سرانجام دے رہے تھے اور صدر مملکت کی خواہش پر ہی انہیں ایوان صدر میں سیکرٹری تعینات کیاگیاتھا۔
الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیوں کیلئے کمیٹیوں کی تشکیل کا آغاز کر دیا
اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیوں کیلئیکمیٹیوں کی تشکیل کے کام کا آغاز پیر سے ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023کے اعدادوشمار کی منظوری کے بعد ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس مقصد کیلئے ملک کے تمام انتظامی یونٹس کی حدود کو منجمد کردیا گیا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کیلئے انتظامی انتظامات آج 22 سے 31 اگست تک مکمل کئے جائیں گے۔کمیٹیوں کیلئے ٹریننگ یکم سے 4 ستمبر تک ہوگی۔ان کمیٹیوں کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے ضلعی کوٹے کی تفصیلات 5 سے 7 ستمبر تک مہیا کی جائیں گی جبکہ ان کمیٹیوں کی جانب سے ابتدائی حلقہ بندیوں کی تکمیل 7 اکتوبر تک ہوگی۔حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست ان کمیٹیوں کی جانب سے 9 اکتوبر کو جاری کی جائے گی جن پر اعتراضات 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک جبکہ ان اعتراضات کو 10 نومبر سے 9 دسمبر تک نمٹایا جائے گا۔ حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی۔