The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 25 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دھڑکنوں کی زبان – سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑیں – محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان – سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑیں – محمد جاوید حیات

بچپن کا زمانہ یاد آتا ہے۔ ہم سکول کے بے فکر بچے ہوتے تھے اور ابو ریڈیو کان سے لگائے رکھتے۔ ریڈیو سے ’’مجاہدین‘‘ کا لفظ بار بار سنائی دیتا، ساتھ ہی بامیان، قندھار، کابل، نورستان اور قندوز جیسے نام بھی۔ احمد شاہ مسعود، حکمتیار، ملا برجان، قاضی امین وقار، غلام جیلانی، اسماعیل خان، جلال الدین حقانی، عبد الرسول سیاف، آصف محسنی، پیر احمد گیلانی—یہ سب نام ابو کی دعاؤں اور آہوں کے ساتھ جڑے ہوتے تھے۔

پھر جوانی آئی، کالج کا زمانہ آیا، افغان مہاجرین سے میل ملاپ ہوا اور بھائی چارہ بڑھا۔ روس کی شکست ہوئی تو ہم نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی، گلے ملے۔ ہم چترالی سادہ لوگ افغان بھائیوں کے لیے ہمیشہ احترام اور محبت ہی رکھتے آئے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کابل مسلسل کیوں جلتا رہا اور پسِ منظر میں کون سا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ ہمیں بس اپنے افغان بھائیوں کی تکلیف کا احساس تھا، انہی کی خوشی ہماری خوشی تھی۔

افغان سرزمین گزشتہ نصف صدی سے بے سکون ہے۔ جنگیں، آگ، تباہی… گھر اجڑتے رہے، لوگ در بدر ہوتے رہے۔ روس کے انخلا کے بعد بھی امن نہ آیا، کوئی مضبوط اور سب کی امیدوں کے مطابق حکومت قائم نہ ہو سکی۔ دو ڈھائی سال پہلے طالبان کی حکومت آئی تو عام لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ شاید اب افغان بھائیوں کو سکون ملے گا۔ مگر دشمن کو ان کی کامیابی کہاں برداشت تھی۔ اب دو بھائی آمنے سامنے کھڑے کر دیے گئے ہیں—ایک دھمکی دیتا ہے کہ کابل کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا، دوسرا کہتا ہے ہم اسلام آباد کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔ دشمن تماشا دیکھ رہا ہے۔

ایک دوسرے پر الزام تراشی کا یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ ایک کہتا ہے ہمارے مسائل کی جڑ تم ہو، دوسرا کہتا ہے اپنی پریشانیاں خود حل کرو۔ ایک کہتا ہے ہماری آگ کی بٹھی تمہارے ہاں ہے، دوسرا کہتا ہے ہم نے وہ بٹھی توڑ دی ہے۔ یہ نفرت اور غصے کا مکالمہ ہے، جس کا فائدہ صرف دشمن کو ہے۔

تخمینے کے مطابق دو افغان جنگوں میں گیارہ لاکھ کے قریب افغان جانیں گئیں۔ دوسری طرف بڑا بھائی کہتا ہے کہ اس کے ہاں دہشت گردی میں ایک لاکھ کے قریب شہری مارے گئے۔ دونوں طرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ روس اور امریکہ نے افغان سرزمین پر جو کچھ کیا، اس کے بعد دشمن اب چاہتا ہے کہ یہ قوم کبھی متحد نہ ہونے پائے، اور اس مقصد کے لیے بھائی کو بھائی کے سامنے کھڑا کرنا سب سے آسان راستہ ہے۔

دونوں ممالک کئی دہائیوں سے جنگ زدہ ہیں۔ لڑائی ان کے لیے معمول بن چکی ہے۔ نفرت کھیل کے میدانوں سے لے کر تجارت تک ہر جگہ پھیل چکی ہے، حالانکہ پڑوسی اور بھائی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں۔ دونوں فریق اپنی ضد پر قائم ہیں جبکہ فائدہ صرف دشمن کا ہو رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑے بھائی کو آزادی ملی تو چھوٹے نے آخر میں اسے تسلیم کیا، مگر جب چھوٹے بھائی نے آزادی حاصل کی تو بڑے نے سب سے پہلے اس کی حمایت کی۔ اگرچہ شکوے شکایتیں دونوں طرف موجود ہیں، مگر جب افغان مہاجرین یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں تو اپنے میزبان بھائیوں سے لپٹ کر روتے ہیں۔ یہی وہ درد اور محبت ہے جو امت کو جوڑتی ہے۔

اگر وہی اخوت زندہ ہوتی جو حضور ﷺ نے قائم کی تھی تو آج عرب، عجم، فارس، پاکستان، افغانستان اور دنیا بھر کے مسلمان ایک دل سے دھڑکتے۔ اقبالؒ نے اسی درد کو بیان کیا تھا:

یوں تو سید بھی ہو، میرزا بھی ہو، افغاں بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو؟

آج ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ پاک فوج پورے عالمِ اسلام کے لیے امید سمجھی جاتی ہے، مگر افسوس کہ اس کے اپنے ہی بھائی اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ کمزوریاں دونوں طرف ہیں، لیکن ایک دوسرے کا خون بہانا اور دشمن کو خوش کرنا عقل مندی نہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے عوام اس خونی کھیل میں پس رہے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے، مگر ہم انہی کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ اپنے بھائیوں سے بدظنی کررہے ہیں۔ ہمارا لا الہ الا اللہ کا رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انا اور ضد نے ہمیں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں طرف عقل اور بردباری سے کام لیا جائے۔ اسلام امن کا دین ہے، اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ اللہ ہمارے اختلافات دور فرمائے، ہمیں محبت، اخوت اور بھائی چارے کی وہی روش دکھائے جس کی تعلیم ہمارے نبی ﷺ نے دی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
116184