The Voice of Chitral since 2004
Monday, 25 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سیاحتی مقامات کی نگرانی کرنے کیلئے جلد کیمرے نصب کئے جائینگے، محمدبختیار خان

Posted on

سیاحتی مقامات کی نگرانی کرنے کیلئے جلد کیمرے نصب کئے جائینگے، محمدبختیار خان
جاز مسافر کی ٹیم کی ڈی جی ٹورازم اتھارٹی سے ملاقات، صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششوں اور تعاون کو یقینی بنانے کی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی۔

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)ڈائریکٹرجنرل خیبرپختونخواکلچراینڈٹورازم اتھارٹی محمد بختیار خان نے کہاہے کہ صوبے میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کو فروغ دینے اور آگے بڑھانے میں نجی شعبے کی شمولیت اور ان کو حکومتی سطح پر ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے حکومت کوشاں ہیں۔ایسے اقدام ممکنہ طور پر مقامی افرادی قوت کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرکے خطے کی اقتصادی ترقی پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے موبی لنگ جاز کے پارٹنر جاز مسافر کی ٹیم کیساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات کا مقصد سیاحتی مقامات کی نگرانی کرنے، ویڈیوز کیمرے کے ذریعے لائیو دیکھنے اور ان تک رسائی یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ معیاری کیمرے نصب کئے جائینگے۔ جن کی ویڈیوز24/7 موبائل ایپ اور ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی اور اسے منتخب مقامات پر نصب اعلیٰ معیار کے ویڈیو کیمروں کی مدد سے براہ راست نشر کیا جائے گا۔اس موقع پر جاز مسافر کی ٹیم نے اپنی ٹریول ٹیکنالوجی پلیٹ فارم پر ڈی جی ٹورازم اتھارٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ موبی لنک جاز کا پارٹنرجاز مسافرایک ٹریول ٹیک پلیٹ فارم ہے جو ملک بھر میں اپنے فعال سبسکرائبرز کو ایپ کے ذریعے ریئل ٹائم مدد فراہم کرتا ہے۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے کئی نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں آفات کے خطرے میں کمی، ذمہ دارانہ سیاحت کی معاونت، مناسب معلومات،ٹریول ٹورازم اور مہمان نوازی کے شعبے میں تمام مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے متبادل مقامات کی نشاندہی کرنا شامل ہے۔ملاقات میں طے پایا کہ ان جاری کوششوں اورتعاون کو مثبت طور پریقینی بنانے کیلئے جلد ہی ایک باضابطہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73127

وزیراعلیِ کا سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں موجود آرکیالوجیکل سائٹس کی تزئین و آرائش پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت

Posted on

وزیراعلیِ کا سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں موجود آرکیالوجیکل سائٹس کی تزئین و آرائش پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں موجود آرکیالوجیکل سائٹس کی تزئین و آرائش پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود شعبہ سیاحت کے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ سیاحت کو ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے ضرورت کی بنیاد پر ٹریکس بھی بنائے جائیں۔ سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور صوبے میں آثار قدیمہ کے مقامات کی بحالی کے منصوبوں کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے واضح کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے سیاحت کے شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے جس کا مقصد قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کو صوبے کی جا نب راغب کرنا اور سیاحتی سرگرمیوں کو مزیدتیز کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، سیکرٹری خزانہ اکرام اللہ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شاہ محمود، سیکرٹری سیاحت طاہر اورکزئی، ایم ڈی پی کے ایچ اے ، ڈی جی کے پی سی ٹی اے اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مختلف اضلاع میں شعبہ سیاحت کی سڑکوںکے منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔

اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ کائیٹ پراجیکٹ کے تحت 22 کلومیٹر منکیال روڈ کی بحالی و اپ گریڈیشن اور 24 کلومیٹر ٹھنڈیانی روڈ پر کام جاری ہے جو اکتوبر2024 ءتک مکمل کرلیا جائے گا۔ ان منصوبوں پر بالترتیب 3.4 اور 2.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ہزار ہ ڈویژن میں18 کلومیٹر منڈی مالی روڈ پر 38 فیصدکام مکمل ہے،10 کلومیٹر شوگران روڈ پر 54 فیصد،9 کلومیٹر گھنول پاپرنگ روڈ پر30 فیصد ، 15 کلومیٹر مانور ویلی روڈ پر تقریباً41 فیصد ، 12 کلومیٹر نواز آباد تا منڈی روڈ پر 31 فیصد عملی کام مکمل کرلیا گیا ہے اور مجموعی طور پر یہ منصوبے 4.6 ارب روپے کی لاگت سے رواں سال مکمل کئے جائیں گے۔ اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک جو روڈ تعمیر کئے جارہے ہیں ان میں 14 کلومیٹر کافر بانڈہ روڈ پر 41 فیصد ، ساڑھے چار کلومیٹر برج بانڈہ روڈ پر 61 فیصد،7 کلومیٹر ڈاگ سر چرنو روڈ پر 40 فیصد،9 کلومیٹر چیل بشی گرام روڈ پر 47 فیصد ، چار کلومیٹر بیلہ بشی گرام روڈ پر 27 فیصد ،4 کلومیٹر ارین درل روڈ پر 21 فیصد، 6 کلومیٹر مدین بشی گرام پر 31 فیصد، 3 کلومیٹر گدر لیک پر 16 فیصد ، 3 کلومیٹر اناکر روڈ پر 20 فیصد اور 8 کلومیٹر مرغزار تا ایلم روڈ پر 49 فیصد عملی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ منصوبے 4.8 ارب روپے کی لاگت سے رواں سال مکمل کئے جائیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مذہبی وثقافتی سیاحت کو بھی فروغ دینے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کائیٹ پراجیکٹ کے تحت دو مساجد دو سٹوپا اور تین عجائب گھر کی بحالی اور تزئین و آرائش پر کام جاری ہے۔ بھمالہ سٹوپا پر 38 فیصد عملی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ چکدرہ میوزیم دیر پر 95 فیصد، ہنڈ میوزیم صوابی پر 93 فیصد ، شاہ پولہ سٹوپا لنڈی کوتل پر 63 فیصد اور کالام و اوڈی گرام مساجد پر 60 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے۔ یہ منصوبے مجموعی طورپر 26 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ کمراٹ مداکلشت کیبل کار منصوبے کی پری فزبیلیٹی پر بھی خاطر خواہ پیشرفت یقینی بنائی گئی ہے۔ ا ±نہوںنے کہاکہ سیاحوں اور سیاحتی مقامات کی حفاظت کیلئے ٹوارازم پولیس قائم کی گئی ہے اور حال ہی میں ٹورازم پولیس کا پہلا بیچ پاس آو ¿ٹ ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماحول دوست اورمنظم سیاحت کے فروغ کیلئے تین انٹگریٹیڈ ٹورازم زونز قائم کئے جارہے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
70266

صوبے کے سیاحتی مقامات کے لئے بننے والی ماسٹر پلاننگ کی تیاری تک ان سیاحتی مقامات میں تعمیراتی سرگرمیوں پر فی الفور پابندی عائد کرنیکا فیصلہ

Posted on

صوبے کے سیاحتی مقامات کے لئے بننے والی ماسٹر پلاننگ کی تیاری تک ان سیاحتی مقامات میں تعمیراتی سرگرمیوں پر فی الفور پابندی عائد کرنیکا فیصلہ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے سیاحتی مقامات کے لئے بننے والی ماسٹر پلاننگ کی تیاری تک ان سیاحتی مقامات میں تعمیراتی سرگرمیوں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے جبکہ مذکورہ ماسٹر پلاننگ کی تیاری کو کم سے کم ممکنہ وقت میں یقینی بنائی جائے اور ماسٹر پلاننگ پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کے سلسلے میں ان سیاحتی علاقوں کے لئے نو قائم کرہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو جلد سے جلد اور ہر لحاظ سے فعال بنایا جائے تاکہ ان سیاحتی مقامات کی قدرتی خوبصوررتی کو برقرار رکھا جا سکے اور ان علاقوں کو جدید خطوط پر ترقی دے کر صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو شعبہ سیاحت میں نئے میگا منصوبوں پر جلد عملی کام شروع کرنے جبکہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی پلان تیار کرکے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز شعبہ سیاحت میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔

وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری سیاحت محمد طاہر اورکزءاور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اعجاز انصاری کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلی نے محکمہ سیاحت کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ محکمہ سیاحت کو حوالے کی گئی سرکاری ریسٹ ہاوسز میں سے قابل عمل ریسٹ ہاوسز کو آوٹ سورس کرنے کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور ان وسائل سے ریونیو جنریشن ایک ہفتہ کے اندر جامع پلان ترتیب دے کر پیش کیا جائے۔ اجلاس کو سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 22 کلومیٹر طویل منکیال تا بڈا سیری روڈ سوات کی تعمیر اور 24 کلومیٹر طویل ٹھنڈیانی روڈ کی توسیع کے منصوبوں کا ٹینڈر ہوگیا ہے، جلد ہی ان منصوبوں پر عملی کام شروع کیا جائے گا اور یہ منصوبے مجموعی طور پر 7.8 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ان میگا منصوبوں کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھنے کے لئے اسی مہینے کے آخر تک کنٹریکٹرز موبلائزیشن سمیت دیگر تمام لوازمات اور انتظامات پوری کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 17 ارب روپے کی تخمینہ لاگت سے خیبرپختونخوا انٹگرٹیڈ ٹوارزم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد نئے سیاحتی مقامات کو ترقی دینا ، موجود سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ، سیاحتی اثاثوں میں اضافہ کرنا اوردیر پا سیاحتی ترقی کیلئے محکمے کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز کے قیام کیلئے ضروری ا ±مور کی متعلقہ فورم سے منظوری لی جا چکی ہے جبکہ مذکورہ زونز کے ماسٹر پلان بھی جلد کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔علاوہ ازیں ڈسٹنیشن انوسٹمنٹ مینجمنٹ پلان کی متعلقہ فورمز سے کلیئرنس مل چکی ہے جو رواں ماہ کے آخر تک تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو فراہم کر دیئے جائیں گے۔ اسی طرح سیاحتی مقامات پر پورٹیبل واش رومز کی فراہمی کیلئے مناسب سائٹس کی نشاندہی کیلئے سروے شروع ہے جو آئندہ دو دن کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مالم جبہ روڈ اور کالام روڈ پر تین ریسٹ ایریا زتعمیر کئے جاچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہزارہ اور ملاکنڈ میں سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے جیب ایبل ٹریکس کی تعمیر کیلئے ایک ہفتہ کے اندر فزبیلٹی مکمل کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ا نہوںنے متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کو باہمی مشاورت سے سیاحتی سڑکوں کی تعمیر کے سلسلے میں شعبہ جنگلات سے جڑے مسائل حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو محکمہ آبپاشی کے چھوٹے چھوٹے ڈیموں میں لوگوں کو تفریحی سہولیات کی فراہمی کے مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموں اور دریاو ں میں لائف جیکیٹس اور دیگر حفاظتی انتظامات کے بغیر کشتی رانی وغیرہ اور ایسے مقامات میں رات کے قیام پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے سیاحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر مختلف سرگرمیوں کو بہتر اور موثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس راہ حائل روکاوٹوں اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لئے کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی ، مقامی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز ، محکمہ آبپاشی، محکمہ سیاحت ، متعلقہ ڈویڑنل انتظامیہ اور دیگر تمام شراکت داروں کا مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
63832

سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پرکام شروع ہے۔ وزیراعلیٰ 

Posted on

سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پرکام شروع ہے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے جو مجموعی طور پر 13 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔ اسی طرح خیبرپختونخواانٹگرٹیڈ ٹوارزم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت دو اہم منصوبوں منکیال تا بڈا سہری روڈ سوات اور ٹھنڈیانی روڈ ایبٹ آباد کے منصوبوں پر ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت جاری ہے جن کا تخمینہ لاگت بالترتیب 4631 ملین اور 3182 ملین روپے ہے ۔ یہ بات گزشتہ روزوزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت شعبہ سیاحت میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف ، ایم پی اے میاں شرافت علی ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ٹوارزم روڈ پراجیکٹس پر تفصیلی بریفینگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ ہزار ہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی سڑکوں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے جو مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔

اہم منصوبوں میں 15 کلومیٹر طویل ماہ نور ویلی روڈ مانسہرہ،10 کلومیٹر طویل شوگران روڈ مانسہرہ ، گھنول پاپڑانگ روڈ مانسہرہ، 5 کلومیٹر طویل منڈی مالی روڈ مانسہرہ اور 12 کلومیٹر طویل نواز آبادتا منڈی روڈ مانسہرہ شامل ہیں۔ اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں 11 مختلف سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر پیشرفت جاری ہے جو مجموعی طو ر پر 4.8 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔ اہم منصوبوں میں 7.8 کلومیٹر طویل مرغزار تا ایلم روڈ سوات، 6 کلومیٹر طویل مدین۔ بشی گرام روڈسوات، ارین درال روڈ ، بیلا بشی گرام روڈ، چھیل بشی گرام روڈ، فضل بانڈہ تا جاروگو واٹر فال روڈاور کافر بانڈہ روڈشانگلہ شامل ہیں۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ شیخ بدین ٹورسٹ سائٹ تک اپروچ روڈ کی تعمیر پر بھی کام شروع ہے جس کا تخمینہ لاگت تین ارب روپے ہے ۔ اجلاس کو کائیٹ پراجیکٹ کے تحت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 22 کلومیٹر طویل منکیال تا بڈاسہری روڈ کی تعمیر اور 24 کلومیٹر طویل ٹھنڈیانی روڈ کی توسیع کے منصوبوں کی بڈ ایوالویشن رپورٹ متعلقہ فورم کو پیش کر دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد رواں ماہ منصوبوں کا کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کائیٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں چار انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز قائم کئے جارہے ہیں جن میں ٹھنڈیانی (ایبٹ آباد)، منکیال (سوات)، گھنول (مانسہرہ) اور مداکلشت (چترال) شامل ہیں۔ منصوبوں کیلئے مینجمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پلان کا حتمی مسودہ منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو پیش کر دیا گیا ہے ۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں ٹورسٹ فیسلٹیشن مرکز قائم کیا گیا ہے جس میں پہلی دفعہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ہیلپ لائن 1422 فراہم کی گئی ہے جو مارچ2021 سے مکمل طور پر فعال ہے ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر 150 پری فیبریکٹیڈواش رومزنصب کئے جارہے ہیں جن میں سے اب تک 35 یونٹس نصب کئے جا چکے ہیں۔ مزید برآں سیاحتی مراکز میں ریسکیو1122 سروس کی سہولت کی فراہمی کے منصوبے کے تحت فی سنٹر دو ایمولینسز اور ایک فائر فائٹنگ وہیکل فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سیاحت کے فروغ کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رسائی سڑکوں کی تعمیر کے قابل عمل منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان سیاحتی علاقوں کا قدرتی ماحول متاثر نہ ہو۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات کیلئے قائم کردہ اسپیشل ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو جلد سے جلد ہر لحاظ سے فعال بنایا جائے اور اُنہیں درکار انسانی اور مالی وسائل کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ ان اتھارٹیز کے قیام کے مقاصد بلاتاخیر حاصل کئے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ڈیموں اور دریاﺅں پر چلنے والی کشتیوں میں حفاظتی تدابیر کو سختی سے یقینی بنایا جائے اور بغیر لائف جیکٹس کے کشتی رانی پر پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
63059

وزیر اعلیِ کا  ملاکنڈ ڈویژن کے  سیاحتی مقامات پر دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کو فوری ہٹانےکی ہدایت

Posted on

وزیر اعلیِ کا  ملاکنڈ ڈویژن کے  سیاحتی مقامات پر دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کو فوری ہٹانےکی ہدایت

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ملاکنڈ ڈویژن کے بعض سیاحتی مقامات پر دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ان تجاوزات کو فوری ہٹانے اور غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے فوری طور پر بلا تفریق کارروائی عمل میں لانے اور آئندہ اس طرح کے تجاوزات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی مستقل بنیادوں پر روک تھام کے لئے موثر حکمت عملی تشکیل دے کر اس پر عملدرآمد کے لئے نتیجہ خیز اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

وہ گزشتہ روز صوبے کے سیاحتی مقامات پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سوات سے ایم پی اے میاں شرافت علی اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ محکمہ ہائے سیاحت، آبپاشی، ماحولیات، آبپاشی کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنر ملاکنڈ، آر پی او ملاکنڈ، ڈپٹی کمشنر سوات اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلی نے سوات کے سیاحتی مقام کالام میں دریا کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر متعلقہ حکام اور اہلکاروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کالام میں دریا کے کنارے تمام تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے اور جلد سے جلد آبی گزرگاہ کو ہر قسم کے تجاوزات سے پاک کرکے رپورٹ پیش کی جائے بصورت دیگر چھوٹے بڑے تمام ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور کوئی بھی اہلکار اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو سیاحتی مقامات پر ایسی غیر قانونی تعمیرات کے لئے این او سی جاری کرنے اور تجاوزات پر چپ سادھنے والے اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت سے سخت تادیبی کارروائیاں عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کی وجہ سے ایک طرف سیاحتی مقامات کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے تو دوسری طرف سیلاب کے آنے کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں اور مال و املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے جس کی ماضی قریب میں کئی مثالیں موجود ہیں لہذا ان تجاوزات کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور سب کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی کہ دریاوں کے کنارے تعمیراتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اورایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے شروع ہوتے ہی ان کا تدارک کیا جائے اور اس سلسلے میں مروجہ قوانین اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ سیاحتی مقامات میں دریاؤں اور دیگر قدرتی وسائل کو قومی آثاثہ اور آنے والی نسلوں کی امانت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحتی مقامات کے قدرتی حسن اور آبی وسائل کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور چاہئے کوئی کتنا بھی با اثر ہو سب کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بعض مقامات پر دریاؤں میں کوڑا کرکٹ ڈالے جانے کے واقعات کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی نے ایسے واقعات کے موثر تدارک کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے اور ملوث لوگوں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دینے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات پر دریاؤں کے کنارے تمام تجاوزات کی نشاندہی کرنے، ان تجاوزات کو ہٹانے اور دریاؤں کو ہر قسم کی گندگی سے محفوظ بنانے کے سلسلے میں فوری کارروائیاں عمل میں لانے کے لئے کمشنر ملاکنڈ کی سربراہی میں ایک آپریشنل کمیٹی تشکیل دینے جبکہ صوبائی سطح پر ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے موثر تدارک کے لئے سیکرٹری آبپاشی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو اس سلسلے میں موجود قوانین اور قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنانے اور ان پر موثر عملدرآمد کے لئے تجاویز پیش کرے گی۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز کرک میں منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے دوراں فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہید کانسٹیبل نے قوم کے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ہے، ان کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور قوم ان کی قربانی کو یاد رکھے گی۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت شہید کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62846

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں پر قیام و طعام بنانے کیلئے وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں پر قیام و طعام بنانے کیلئے وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعظم پاکستان عمران خان کے شعبہ سیاحت سے متعلق خصوصی وژن کے تحت سیاحتی مقامات تک رسائی کے شاہراہوں پرسہولیات سے آراستہ قیام و طعام کے قیام کویقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومت نے وفاق کو مراسلہ ارسال کر دیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی تمام حسین وادیاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں اور سیاحوں کی آمد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاحوں کی کثیر تعداد گلیات، ناران، کاغان، کمراٹ اور سوات سمیت دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کر رہی ہے۔نجی شعبہ کے اشتراک سے بلخصوص سوات ایکسپریس وے، گلیات، ناران، کاغان، کمراٹ، اور ملاکنڈ دویژن کو جانے والے شاہراوں پر موجود پٹرول پمپس و دیگر مناسب مقامات پر جدید سہولیات سے آراستہ قیام و طعام /آرام گاہوں کا قیام عمل میں لائے جائیں جس میں نماز، وضو، کینٹین و ٹک شاپ، صاف پینے کے پانی کی سہولت اور مرد و خواتین کیلئے الگ الگ واش رومز کی سہولت میسر ہوگی۔ محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کے زیر انتظام کائیٹ پراجیکٹ کے تحت ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں 150 پری فیبریکیٹڈ ٹوائلٹ نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ سفر کے دوران سیاحوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوں۔

سیاحوں کو سہولیات دینے اور جدیدقیام و طعام کے قیام کے سلسلے میں صوبائی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ مراسلہ میں قومی شاہراہوں پر سیاحوں کی آمدورفت کا جائزہ لینے کیلئے مختلف داخلی راستوں پر مناسب مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کا بھی کہا گیا ہے۔مراسلہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نتھیاگلی کے مقام موچی درہ پر داخلہ گاڑیوں کی تعداد معلوم کرنے کا مانیٹرنگ نظام کامیابی سے کام کر رہا ہے جسے دیگر تمام داخلی راستوں پر قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مراسلہ میں مزید کہا گیاہے کہ وہ پٹرول پمپس جو سیاحوں و مسافروں کو درکار سہولیات نہ دیں ان کو این او سی جاری نہ کیا جائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , ,
51107

سیاحتی مقامات کے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے جاری اور نئے منصوبوں پر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے جاری اور نئے منصوبوں پر ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے ان سڑکوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں شعبہ سیاحت کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر اشتیاق ارمڑ کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈائریکٹر انٹگریٹڈ ٹوارزم پراجیکٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے سڑکوں کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف ریجنز خصوصی طور پر ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی آسان رسائی کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں 11 مختلف سیاحتی سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے جن کا نظر ثانی شدہ تخمینہ لاگت4812 ملین روپے ہے۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت چھ مختلف سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے ، جن کانظر ثانی شدہ تخمینہ لاگت4655 ملین روپے ہے۔

علاوہ ازیں جنوبی اضلاع کے سیاحتی مقام شیخ بدین تک اپروچ روڈ کی تعمیر بھی رواں ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے ، جس کا تخمینہ لاگت 3 ارب روپے سے زائد ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انٹگریٹڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت بھی دو سکیموں پر پیشرفت جاری ہے جن میں 24.4 کلومیٹر طویل ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ کی بہتری و بحالی اور 23 کلومیٹر منکیال سے بڈا سرائے روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ ان سکیموں کا تخمینہ لاگت بالترتیب2584 ملین روپے اور 3480 ملین روپے ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تیار شدہ نئی سکیموں کے ٹینڈرز جلد جاری کئے جائیں تاکہ ان سکیموں پر بلا تاخیر عملی کام کا اجراءممکن ہو سکے۔ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کے لئے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے طرز پر ای ٹینڈرنگ اور ای بڈنگ کا طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کا تیز رفتار فروغ موجودہ حکومت کے چند بڑے اہداف میں شامل ہے۔ اس مقصد کیلئے تمام ترجاری ترقیاتی منصوبوں خصوصاً اپروچ روڈز کی تعمیر و بحالی کی اسکیموں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے محکمہ سیاحت سمیت دیگر تمام متعلقہ محکموں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
50631

سیاحتی مقامات پر معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانےکیلئے خصوصی ٹیمیں تعینات کردی گئی، وزیر خوراک

سیاحتی مقامات میاندم، بحرین اور کالام میں خوراک سے وابستہ کاروباروں کا معائنہ، وارننگ نوٹسز جاری


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک اور سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ٹورسٹ سیزن کے دوران سیاحوں کو معیاری خوراک کی فراہمی کے لئے مختلف مقامات پر خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، تاکہ ان مقامات پر آنے والے سیاحوں کو معیاری و محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ صوبائی وزیر کی ہدایت پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سوات کے سیاحتی مقام میاندم میں کاروائی کرتے ہوئے خوراک سے وابستہ مختلف کاروباروں کے معائنے کئے۔ کاروائی کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر دو ہوٹلز پر جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ ایک کباب شاپ سے 7 کلو سے زائد ملاوٹ شدہ قیمہ برآمد کرکے ضائع کر دیا گیا۔

میاندم میں انسپکشن کے دوران کئی دکانداروں کو بہتری اور لائسنس نوٹسزبھی جاری کئے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی شاہ رخ علی خان کے مطابق سوات کے سیاحتی مقام بحرین اور کالام بازار میں بھی اشیاء خوردنوش سے منسلک کاروباروں کے معائنے کئے گئے۔ انسپکشن کے دوران مختلف ہوٹلز کے کچن کا جائزہ لیا گیا، اور مزید بہتری کے لئے نوٹسز جاری کئے گئے۔ وزیر خوراک عاطف خان کا کہنا تھا کہ سیاح حضرات خوراک کے معیار کے حوالے سے کسی بھی شکایت کی صورت میں اتھارٹی کے ٹال فری نمبر 37432-0800 پر اپنی شکایات درج کرائیں، جس پر فوری طور پر ایکشن لیا جائیگا۔

سیاحتی مقامات
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
50067