The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخواہ میں سکولوں کی آوٹ سورسنگ ۔ ہمایوں سروری 

Posted on

خیبرپختونخواہ میں سکولوں کی آوٹ سورسنگ ۔ ہمایوں سروری

پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبرپختونخوا میں برسرِ اقتدار آکر بڑے زور و شور سے یہ اعلان کیا تھا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کیئے جائیں گے مگر آج مسلسل تیرہ سالہ حکومت کے بعد صورتحال یہ ہے کہ حکومت تعلیم کو مزید مستحکم بنانے کے بجائے اسے اپنی سرپرستی سے نکال کر نجی اداروں کے حوالے کرنے جا رہی ہے۔ یعنی وہی شعبہ جسے آئینی طور پر ریاست کی ذمہ داری کہا گیا ہے اب ٹھیکیداروں اور پرائیویٹ اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ حکومت کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے اگر سرکاری سرپرستی میں مفت تعلیم بغیر فیس داخلہ اور کتابوں کی فراہمی کے باوجود تعلیمی معیار بہتر نہ ہو سکا تو پرائیویٹ اداروں سے بہتری کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ یہ پالیسی حقیقت میں تعلیم کو منافع کمانے کے کاروبار میں بدلنے کے مترادف ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر سرکاری اساتذہ ہوں گے وہ اساتذہ جو برسوں سے بچوں کو پڑھاتے رہے اپنی جوانی اور صلاحیتیں نظامِ تعلیم کے لیے وقف کیں اب ملازمت اور پنشن کے بنیادی حق سے محروم کر دیے جائیں گے۔ ان کی جگہ ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ افراد کو معمولی اجرت پر تدریس کے لیے رکھا جائے گا جو محض وقتی روزگار کے لیے آئیں گےاگر انھیں اور کسی شعبے میں زیادہ اجرت ملنے کا امکان ہو تو وہ تدریس کے کام کو چھوڑ دیں گے یوں وہ عارضی ٹیچرز اس تدریس کے پیشے کو وقتی ایکسپیرئینس سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے

اس سے نہ صرف تعلیم کا معیار متاثر ہوگا بلکہ اساتذہ کا سماجی وقار بھی بری طرح مجروح ہوگا۔ استاد جو کبھی معمارِ قوم کہلاتا تھا اب ایک عارضی مزدور کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ یہ فیصلہ دراصل اساتذہ کی محنت اور قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔یہ اقدام نہ صرف طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلواڑ ہے بلکہ اسکی وجہ سے تعلیمی معیار بھی شدید متاثر ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت تقریباً 47 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں جبکہ ڈراپ آؤٹ یعنی سکول چھوڑنے والے بچے بچیون کی شرح 39 فیصد سے زائد ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب مفت تعلیم اور فری کتب کے باوجود لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں تو پرائیویٹ اداروں کی نگرانی میں جہاں فیس بھی دینے ہونگے اور کتب بھی خریدنے ہوں گے غریب والدین اپنے بچوں کو کیسے تعلیم دلاپائینگے؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ صورت حال غریبون کے بچون اور بچیون کو تعلیم کے بنیادی حق سے یکسر محروم کرنے کی سازش ہے۔

پہاڑی علاقوں جیسے چترال دیر اور کوہستان کے مسائل الگ ہیں کچے اور طویل راستے برفانی طوفان اور شدید موسمی حالات کے باوجود سرکاری اساتذہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ لیکن پرائیویٹ اداروں کے نمائندے جن کا مقصد محض منافع خوری ہوگی ایسے دور افتادہ علاقوں میں تعلیم کی خدمت کیسے کر سکیں گے؟ یہاں بھی خدشہ ہے کہ یہ آؤٹ سورسنگ تعلیمی معیار کو مزید پستی میں دھکیل دے گی۔ سب سے سنگین مسئلہ پرائمری سکولوں کا انفراسٹرکچر ہے۔ حقیقت ممکن ہو سکے.

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113153