سونے کی چڑیا – از: کلثوم رضا
سونے کی چڑیا – از: کلثوم رضا

چڑے چڑیوں کی کہانیاں سب کو بھلی لگتی ہیں۔ لیکن جب کہانی سونے کی چڑیوں کی ہو تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ۔۔ آپ قارئین میں سے بھی سب نے اگر نہیں تو اکثر نے یقیناً سونے کی چڑیا کی کہانی سنی ہو گی۔۔۔ اگر پھر بھی کسی نے نہیں سنی ہے تو آج ہم سناتے ہیں۔۔۔ چلیں جی شروع کرتے ہیں ۔۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایران کے قدیم شہر نیشا پور جو کے خراسان کا صدر مقام ہے اس میں ایک سوداگر رہتا تھا ۔۔۔وہ شہر شہر گھوم کر اپنا مال تجارت فروخت کرتا ۔۔وہ دوسرے ملکوں سے مال تجارت کی صورت میں نادر، نایاب ایشیا لاتا تو دیکھنے والے ان چیزوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے اور منہ مانگی قیمت پر سوداگر سے خرید لیتے۔۔۔ اور سوداگر اپنے کاروبار میں زیادہ نفع کمانے کی وجہ سے خود کو عاقل سمجھتا اور کہلواتا اور اسی نام سے مشہور تھا۔ حالانکہ اس کا اصل نام نصیرالدین تھا۔
ایک دن عاقل اپنے دوست کے دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک چڑی مار گاتا ہوا قریب سے گذرا ۔۔۔سونے کی چڑیا ،جادو کی پڑیا، بجتا ہے گھنٹہ، دیتی ہے انڈا۔۔۔ عاقل نے سنا تو اس کے کان کھڑے ہو گئے وہ تب سے سونے کی چڑیا پانے کا خواہش مند تھا جب بچپن میں اس کی دادی اس کی امی سے کہتی
“تم کیا سونے کی چڑیا ہو جو میکے جاؤ گی تو میرا بیٹا غریب ہو جائے گا”۔۔۔
اس وقت سے اب تک عاقل کو یہی غم کھائے جا رہا تھا کہ کہیں سے سونے کی چڑیا ہاتھ آ جائے تو اسے یوں محنت نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔ وہ بیٹھے بٹھائے مالدار ہو جائے گا۔۔۔ وہ دوست کو خیرباد کہہ کر جلدی جلدی چڑی مار کے پیچھے گیا، قریب پہنچا اور دیکھا چڑی مار کے سارے پنجرے خالی ہیں صرف ایک میں ایک خاکی رنگ کی چڑیا یے۔ اس نے چڑی مار سے پوچھا “بھائی یہ تو عام چڑیا دکھ رہی ہے اور آپ اسے سونے کی چڑیا کہہ رہے ہیں”
چڑی مار نے سر سے پاؤں تک عاقل کو دیکھا اور سمجھ گیا کہ یہ کوئی بے وقوف ہے جو بیٹھے بٹھائے مالدار بننا چاہتا ہے فورا کہا
“یہ چڑیا نہیں جادو کی پڑیا ہے۔ جب چاند رات کو کہیں سے گھنٹی بجنے کی آواز آتی ہے تو یہ سونے کا انڈا دیتی ہے۔میرے گھر میں دس انڈے دے چکی ہے۔اگر آپ میرے ساتھ میرے گھر آجائیں تو دکھاؤں آپ کو اپنی شاہانہ زندگی اور ٹھاٹھ باٹ۔۔۔ میں اسے کبھی نہ بیجتا لیکن یہ اپنے مالک کو دس انڈے ہی دیتی ہے اور مذید انڈے دوسرے مالک کو دے گی۔”
عاقل کو اور کیا چاہیے تھا۔۔ بغیر مشقت کے بیٹھے بٹھائے ٹھاٹھ باٹ کی زندگی گزارنے اور دس انڈے حاصل کرنے کے بعد اس عجوبے کو منہ مانگے داموں فروخت کرنے کے تصور نے اپنی دولت اور گھر بار دے کر چڑیا خریدنے پر مجبور کیا۔۔۔ہمدردوں نے بہت سمجھایا لیکن اس کو تو چڑیا سے سونے کے انڈوں کی توقع تھی وہ کیا سمجھتا۔۔۔۔ جب چودھویں کی رات آئی تو عاقل ساری رات جاگتا رہا چڑیا کے انڈے کے انتظار میں۔۔۔۔ جب کہیں سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی تو اس کی بے چینی مزید بڑھ گئی لیکن گھنٹی کی آواز بھی تھمی ،صبح کی روشنی بھی پھیل گئی اور چڑیا صرف پنجرے میں پھڑپھڑانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی۔
اب اسے سمجھ میں آ گیا کہ میں عاقل نہیں کم عقل تھا جو یوں چڑی مار کے دھوکے میں آ گیا۔ لیکن اب اس کا کیا فائدہ “جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”۔
یہ تو تھی پرانے زمانے کی کہانی۔۔۔ اب نیا زمانہ نئے لوگ۔۔۔ تو کہانی بھی نئی ۔۔۔ آج کل کے سوداگر واقع میں عاقل ہیں۔ یہ سونے کی چڑیا کی اصل کہانی اور اصل معانی سے خوب واقف ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ مالدار، دولتمند، دھن وان، امیر، موٹی اسامی، اہم شے، نایاب، نادر چیز،انوکھی اچھوتی شے، مال و دولت کے کان، سر سبز و شاداب زرخیز خطہ زمین، جہاں سے بہت آمدنی ہو، جہاں مال و دولت کی فراوانی ہو، زیادہ آمدن کے وسائل و ذرائع ہوں سونے کی چڑیا کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
آج کل کے عاقلوں (لڑکا اور لڑکے والے) کو کہیں سے یہ گانا سنائی دیتا ہے کہ”سونے کی چڑیا، جادو کی پڑیا، فلاں گھر کی بٹیا، بنی ہے ڈاکٹریا ۔۔۔تو تکمیل ایمان کی خاطر پہنچ جاتے ہیں موٹی چھلنی لے کے۔۔۔۔ تاکہ اس میں سے چڑیا میں اگر بدمزاجی، ترش زبانی، کم صورتی اور بے سگھڑی بھی ہے تو آسانی سے گزر سکے ۔۔۔۔۔
تو دوسری طرف چڑی مار (لڑکی کے گھر والے) اتنی باریک چھلنی لے کے بیٹھ جاتے ہیں تاکہ اس میں سے صرف موٹے عہدے، بھاری جیپ، کثیر جائیداد ،نامی گرامی خاندان کے علاوہ کچھ بھی نہ گزر سکے۔۔۔۔۔
دونوں کے نزدیک وضع دار گھرانے، ذہین ،فطین ،سگھڑ اور پارسا لڑکیاں ،شریف، خوددار درمیانہ آمدن والے لڑکے گاجر مولیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔۔
چڑے چڑیوں میں جب دونوں طرف سے مطلوبہ سودے طے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو تکمیل ایمان کی مبارکباد دیتے نہیں تھکتے جو اب تک خود تکمیل سٹیٹس میں خود کو ہلکان کیے بیٹھے تھے۔
ہم نے یہ گانا سن کے ایسے ایسوں کے بھی قدم تھراتے دیکھے جن کے متعلق سنا تھا کہ انھیں عارضی نہیں، دائمی بہتریں متاع یعنی نیک اور پارسا زوج اور زوجہ کی تلاش تھی۔ لیکن متاع آخر متاع ہے اپنے پیچھے لگا ہی دیتا ہے سوائے چند کے ۔
یہ تو تھی اج کی کہانی جسے ہم نے اپنے قارئین کی نذر کی۔۔۔
جس طرح حفیظ جالندھری نے کہا ہے۔۔۔
تم ہی نہ سن سکے اگر ، قصئہ غم سنے گا کون
کس کی زبان کھلے گی پھر، ہم نہ اگر سنا سکے۔
