The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبائی حکومت کے زیرانتظام ابتک تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے سولرائزیشن  کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ وزیر اعلیِ محمود خان 

Posted on

صوبائی حکومت کے زیرانتظام ابتک تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے سولرائزیشن  کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ وزیر اعلیِ محمود خان

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں ماحول دوست اورصاف توانائی کی پیداوار کیلئے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔ اب تک صوبے میں 7420 سکولوں،6657 مساجد اور 134 صحت مراکز ، ضم اضلاع کی 895 مساجد اور 5 کلیساوں کی سولرائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔اسی طرح 100 سے زائد دیہاتوں میں 6643 گھرانوں کے علاوہ متعدد سرکاری دفاتر کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے ۔ شمسی توانائی کے مذکورہ منصوبے تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں جن سے سالانہ 422 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے ۔ علاوہ ازیں 161 میگاواٹ کے 7 پن بجلی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جن سے اب تک صوبے کو 31 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہو چکی ہے جبکہ 232 میگاواٹ کے 7 مزید پن بجلی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے سالانہ 9 ارب روپے کی آمدنی ممکن ہو گی۔منگل کے روز محکمہ توانائی و بجلی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ملکی سطح پر توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کےلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ واحد صوبہ ہے جو ہر ممکن حد تک سستے ترین نرخوں پر بجلی پیدا کررہا ہے جسکا قومی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شمسی توانائی کے 20.47 میگاواٹ کے حامل مزید تین منصوبوں پر کام جاری ہے جن کے تحت ضم اضلاع میں 13 سولر منی گرڈ کی تنصیب کے علاوہ صوبہ بھر بشمول ضم اضلاع میں مزید آٹھ ہزار مساجد کی سولرائزیشن کی جائیگی۔ اجلاس کو اب تک مکمل کئے گئے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پیڈو کے تحت صوبے کے مختلف ریجنز میں سات پن بجلی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں اور اُن سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے ۔ ان منصوبوں میںسے 4.2 میگاواٹ ریشون چترال ،1.8 میگاواٹ شیشی چترال،2.6 میگاواٹ مچئی ،17 میگاواٹ رانولیا اور 36.6 میگاواٹ درال خوڑ پی ٹی آئی کی سابقہ اور موجودہ حکومت کے دور میں مکمل کئے گئے ہیں۔ 10.2 میگاواٹ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ بھی رواں ماہ افتتاح کے لئے تیار ہوگا جبکہ 11.8 میگاواٹ کروڑہ ،40.8 میگاواٹ کوٹو(دیر لوئر)، 84 میگاواٹ مٹلتان (سوات)،69 میگاواٹ لاوی (چترال)،10.5 میگاواٹ چپڑی چار خیل (کرم) اور6.5 میگاواٹ براندو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (تورغر) پر کام جاری ہے جو مجموعی طور پر 71 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔

اجلاس کو صوبے میں چھوٹے پن بجلی گھروں کے قیام کے حوالے سے پیشرفت پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت شمالی اضلاع میں 28 میگاواٹ مجموعی استعداد کے حامل 316 چھوٹے پن بجلی گھرمکمل کر لئے گئے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی آبادیوں کوفراہم کی جارہی ہے ۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت خیبرپختونخوا میں مزید 291 چھوٹے پن بجلی گھروں پر بھی پیشرفت جاری ہے جن سے مجموعی طور پر 47.4 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ پیڈو کے تحت ڈونرز کی مدد سے بھی 545 میگاواٹ کے تین مختلف پن بجلی منصوبوں پر پیشرفت جاری ہے جن کی تکمیل سے سالانہ 28 ارب روپے سے زائد کی آمدنی متوقع ہے ۔ ان منصوبوں میں بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور مدین ہائیڈرور پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔اس کے علاوہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت754 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے تین میگا منصوبوں پر بھی پیشرفت جاری ہے جبکہ 564 میگاواٹ کے تین منصوبے رواں پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے تجویز کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر مزید بتایا گیا کہ صوبے کے پانچ ہائیڈرو پاورپراجیکٹس سی پیک کیلئے بھی تجویز کئے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 378 میگاواٹ استعداد کے حامل ہیں۔

مزید برآں پن بجلی کے تین پرائیوٹ سیکٹر پراجیکٹس گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ موڈ کے تحت بیرونی سرمایہ کار کمپنی کو ایوارڈ کئے گئے ہیں جن میں 470 میگاواٹ لوئر سپاٹ گاہ،238 میگاواٹ کالام اسریت اور 229 میگاواٹ اسریت کیدام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 911 میگاواٹ کی مجموعی استعداد کے حامل سات ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی فزبلیٹی اسٹڈیز پر کام جاری ہے۔ دریں اثناءاجلاس کو محکمہ توانائی میں کی گئی اصلاحات کے بارے میں بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ میں ای بڈنگ متعارف کر ا دیا گیا ہے ۔ ویلنگ آف انرجی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پاور پالیسی 2016 بمعہ گائیڈ لائنز ، پیڈو ایکٹ 2020 ، پیڈو سروسز رولز 2020 اور پیڈو کیلئے 10 سالہ بزنس پلان کی منظوری یقینی بنائی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر اہم اصلاحات میں آن لائن فائل ٹریکنگ سسٹم، آن لائن ایسٹس مینجمنٹ سسٹم ، آن لائن ٹاسک مینجمنٹ سسٹم، آن لائن وہیکل ٹریکنگ سسٹم اور پیڈو ملازمین کی ٹریننگ وغیرہ شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پیڈو کے تحت مکمل کئے گئے منصوبوں خصوصاً شمسی توانائی کے پراجیکٹس پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صوبے میں پن بجلی کے مکمل شدہ منصوبوں کے باضابطہ افتتاح اور نئے منصوبوں کے سنگ بنیاد کیلئے تیاریاں مکمل کی جائیں ۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کو فعال بنانے کیلئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی سمیت دیگر سٹاف کی ہائرنگ تیز رفتاری سے مکمل کی جائے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کسی تاخیر کی گنجائش موجود نہیںہے۔ اجلاس میں سیکرٹری انرجی اینڈ پاور ، سی ای او پیڈو، پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67573

سکولوں میں سولرائزیشن اور آئی ٹی لیبز کی تعمیرکیلئے فوراً ڈیٹا بھیج دیا جائے۔ وزیرتعلیم

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے تعلیم شہرام خان ترکئی نے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع کے باقی ماندہ سکولوں میں سولرائزیشن کے لئے جلدازجلد اقدامات کئے جائیں جبکہ اپ گریڈ کئے گئے سکولوں میں آئی ٹی لیبز کی تعمیر کے لئے فوراً ڈیٹا بھیج دیں انہوں نے کہا کہ آئی ٹی لیبز وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں طلبہ کو کوڈنگ بشمول آئی ٹی کی جدید تربیت دی جائے گی۔ شہرام خان ترکئی نے حکام کو یہ بھی ہدایت جاری کی کہ ارلی ایج چائلڈ ایجو کیشن کلاس رومز کی تعمیر کیلئے مختص ہدف اس سال ضرور مکمل کیا جائے تاکہ پرائمری سکولوں میں مزید 6500 ای سی ای رومز اگلے سال کے جون تک بن سکیں۔ وزیر تعلیم نے سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور تمام ضلعی دفاتر کو آٹومیٹ کرنے اور سافٹ ویئر بشمول دیگر اقدامات کے لیے ڈائریکٹر آئی ٹی کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہر سکول اور ہر ملازم کا تمام ڈیٹا مکمل ڈیجیٹائز ہوناچاہیے۔ جس میں ٹیبلیٹ ان اسکول پروگرام کے تحت سکولوں طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی تمام معلومات روزانہ کی بنیاد پر دستیاب ہوگی۔

یہ ہدایات انہوں نے محکمہ تعلیم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن شہباز طاہر ندیم، ایڈیشنل سیکرٹری ریفامز اشفاق احمد اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام بشمول یونیسف کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو پیرنٹس ٹیچرز کونسل کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان ممبران کی تربیت کا جلد از جلد آغاز کریں۔ انہوں نے اسپیشل سیکرٹری ایجوکیشن کو جلد از جلد نئے ضم شدہ اضلاع کے سکولوں میں فرنیچرز ڈیمانڈ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے تمام سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی بھی اولین ترجیح ہے جو کہ جلد منظور کرلی جائے گی اور جون کے مہینے تک صوبے کے ہر طالب علم کو فرنیچر کی سہولت میسر ہوگی۔ شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ ڈائریکٹریٹ آف پروفیشنل ڈیویلپمنٹ کے رولز ریگولیشن اور آرگینوگرام کی بہت جلد منظوری دی جائے گی جس میں منیجمنٹ کیڈر بشمول گریڈ 18سے گریڈ 20 کے پرنسپلز کو تربیت دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔جو کہ ان کی ترقیوں اور تعیناتیوں کے لئے ضروری ہوگی جب کے ان کے ماتحتRPDCs میں تدریسی کیڈر کے گریڈ 12 سے گریڈ16 تک کے اساتذہ کوانڈکشن پروگرام بشمول دیگر تربیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام کے تحت بچوں کو قریبی اضلاع میں بہترین تعلیمی سہولیات مل رہی ہے انہوں نے کہا کہ سکولوں میں کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے عنقریب 2500 سکول لیڈرز تعینات کئے جائیں گے جو کہ تحصیل لیول پر 9سکولوں میں تعلیمی معیار کی مانیٹرنگ کریں گے جبکہ ضلعی سطح پر بھی 28ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کوالٹی تعینات کئے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
56707