سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا: حقیقت کو جھوٹ سے کیسے بچائیں؟ – تحریر: علی عمران خان
سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا: حقیقت کو جھوٹ سے کیسے بچائیں؟ – تحریر: علی عمران خان
پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات کسی بھی معاشرے کے لیے سنگین مسئلہ ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب یہ ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے تیز رفتار دور میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جہاں یہ پلیٹ فارم معلومات کے تبادلے کو آسان بناتے ہیں، وہیں یہ جھوٹے بیانیے اور غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ تاہم، پروپیگنڈے کے مسئلے کو جذباتی رجحانات کے بجائے متوازن اور معروضی نظر سے دیکھنا ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد اور قومی اداروں کی ساکھ کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کی ترسیل میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں یہ پلیٹ فارم جھوٹے بیانیوں کو پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ ہر تنقید یا سوال پروپیگنڈا ہے،
کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عوام اور نوجوانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے کردار اور اقدامات پر سوال اٹھائیں، بشرطیکہ یہ سوالات حقائق اور معروضیت پر مبنی ہوں۔ریاستی ادارے، چاہے وہ کوئی بھی ادارہ ہو عوام کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں اور ان کی کارکردگی عوام کے سامنے جوابدہ ہونی چاہیے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں تنقید اور مکالمے کے بغیر شفافیت ممکن نہیں۔ اگر عوام یا نوجوان اداروں کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرنا مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ یہ کہنا کہ پاکستانی نوجوان جھوٹے بیانیوں کی مذمت کرتے ہیں، ہر نوجوان کی سوچ یا عمل کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ جائز سوالات اور تنقید کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتا ہے، جس کا مقصد اداروں کو کمزور کرنا نہیں بلکہ شفافیت، انصاف اور غیرجانبداری کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
سوالات اٹھانا کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کے لیے ضروری ہے، اور یہ رجحان شعوری اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور ادارے دونوں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی معلومات کو بغیر تصدیق کے نہ پھیلائیں اور معتبر ذرائع سے حقائق کو پرکھیں۔ دوسری طرف، اداروں کو بھی شفافیت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ کسی قسم کا ابہام یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ جھوٹے بیانیوں اور پروپیگنڈے کے مسئلے کو جذباتی سطح پر نہیں بلکہ عقلی اور معروضی طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اداروں کو چاہیے کہ وہ عوام کے سوالات کا کھلے دل سے جواب دیں اور اپنی کارکردگی کے حوالے سے وضاحت فراہم کریں۔ ایک مضبوط اور جمہوری معاشرے میں سوالات اور تنقید کو دبانے کے بجائے ان کا سامنا کرنا ترقی اور اعتماد کا راستہ ہے۔آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پروپیگنڈے اور جائز تنقید کے درمیان فرق کو سمجھنا اور اس کا ادراک کرنا کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ ادارے اور عوام دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ایک مضبوط، شفاف اور مستحکم ریاست کے قیام میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔