The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صدر مملکت نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ پر دستخط کردیے، دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی, رجسٹریشن کے بغیر مدرسہ بند کردیا جائے گا

صدر مملکت نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ پر دستخط کردیے، دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی, رجسٹریشن کے بغیر مدرسہ بند کردیا جائے گا

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 پر دستخط کردیے، صدر کے دستخط کے بعد دینی مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا۔ صدر پاکستان کے دستخط کے بعد قانون کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی۔صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 پر دستخط کرنے کے بعد یہ بل قانون بن گیا۔اس حوالے سے قومی اسمبلی جلد سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد سومرو نے لاڑکانہ میں صدر آصف زرداری سے ملاقات کی تھی، اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔پیپلزپارٹی کی قیادت اور جمعیت علمائے اسلام سندھ کے رہنماؤں کے درمیان سیاسی صورت حال کے علاوہ مدارس رجسٹریشن بل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

آصف علی زرداری نے مدارس بل کے معاملے پر مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات دور کرنے اور معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔اس سے قبل، 12 دسمبر کو جے یو آئی (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالواسع نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مدارس بل منظور نہ کیے جانے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا عندیہ دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مدارس کے حوالے سے یہی سلسلہ جاری رہا تو ہم اسلام آباد آئیں گے، آپ گولیاں چلائیں گے اور آپ کی گولیاں ختم ہوجائیں گی، ہم واپس نہیں جائیں گے۔13 دسمبر کو مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت آصف زرداری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات سامنے آئے تھے۔صدر مملکت نے کہا تھا کہ دونوں قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی ممکن نہیں ہو سکتی، سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہے۔انہو ں نے کہا تھا کہ نئے بل میں مدرسہ کی تعلیم کی شمولیت سے 1860 کے ایکٹ کے ابتدائیہ کے ساتھ تضاد پیدا ہو گا، اس قانون کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن سے فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خدشہ ہو گا۔۔۔

مدارس بل کیا ہے؟۔۔۔20 اکتوبر 2024 کو مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک بل سینیٹ میں پیش کیا گیا جس میں ذیل میں درج شقیں شامل کی گئی ہیں۔بل کو ’سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024‘ کا نام دیا گیا ہے، بل میں متعدد شقیں شامل ہیں۔بل میں 1860 کے ایکٹ کی شق 21 کو تبدیل کرکے ’دینی مدارس کی رجسٹریشن‘ کے نام سے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے۔اس شق میں کہا گیا ہے کہ ہر دینی مدرسہ چاہے اسے جس نام سے پکارا جائے اس کی رجسٹریشن لازم ہوگی، رجسٹریشن کے بغیر مدرسہ بند کردیا جائے گا۔شق 21۔اے میں کہا گہا ہے کہ وہ دینی مدارس جو ’سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024‘ کے نافذ ہونے سے قبل قائم کیے گئے ہیں، اگر رجسٹرڈ نہیں تو انہیں 6 ماہ کے اندر اپنی رجسٹریشن کرانی ہوگی۔

شق بی میں کہا گیا ہے کہ وہ مدارس جو اس بل کے نافذ ہونے کے بعد قائم کیے جائیں گے انہیں ایک سال کے اندر اپنی رجسٹریشن کرانی ہوگی، بل میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک سے زائد کیمپس پر مشتمل دینی مدارس کو ایک بار ہی رجسٹریشن کرانی ہوگی۔بل کی شق 2 میں کہا گیا ہے کہ ہر مدرسے کو اپنی سالانہ تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانی ہوگی۔بل کی شق 3 کے مطابق کہ ہر مدرسہ کسی آڈیٹر سے اپنے مالی حساب کا آڈٹ کروانے کا پابند ہوگا، آڈٹ کے بعد مدرسہ رپورٹ کی کاپی رجسٹرار کو جمع کرانے کا بھی مجاز ہوگا۔بل کی شق 4 کے تحت کسی دینی مدرسے کو ایسا لٹریچر پڑھانے یا شائع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جو عسکریت پسندی، فرقہ واریت یا مذہبی منافرت کو فروغ دے۔تاہم مذکورہ شق میں مختلف مذاہب یا مکاتب فکر کے تقابلی مطالعے، قران و سنت یا اسلامی فقہ سے متعلق کسی بھی موضوع کے مطالعے کی ممانعت نہیں ہے۔

بل کی شق 5 کے مطابق ہر مدرسہ اپنے وسائل کے حساب سے مرحلہ وار اپنے نصاب میں عصری مضامین شامل کرنے کا پابند ہوگا۔بل کی شق 6 میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے کسی بھی مدرسے کو اس وقت نافذالعمل کسی دوسرے قانون کے تحت رجسٹریشن درکار نہیں ہوگی۔بل کی شق نمبر 7 کے مطابق ایک بار اس ایکٹ کے تحت رجسٹر ہونے کے بعد کسی بھی دینی مدرسے کو کسی دوسرے قانون کے تحت رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔مذکورہ شق میں دینی مدرسے سے مراد مذہبی ادارہ یا جامعہ دارالعلوم شامل ہے یا کسی بھی دوسرے نام سے پکارے جانے والا ادارہ جس کو دینی تعلیم کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہو۔

صدر مملکت کی جے یو آئی وفد سے ملاقات، مدارس بل رجسٹریشن کا معاملہ جلد حل کرنے کی یقین دہانی

لاڑکانہ(سی ایم لنکس)صدر مملکت آصف علی زرداری نے مدارس بل کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے اور معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ جے یوآئی کے وفد نے لاڑکانہ میں مولانا راشد محمود سومرو کی قیادت میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کی۔جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کی نیو ڈیرو ہاؤس لاڑکانہ میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات کی جس میں مدارس بل، سندھ کے امن امان، ملکی و علاقائی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں جمعیت علماء اسلام ضلع لاڑکانہ کے امیر مولانا ناصر محمود سومرو، پاکستان پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی صدر محترمہ فریال تالپور بھی موجود تھیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے مدارس بل پر مولانا فضل الرحمان کے خدشات کو جلد ختم کرکے وعدے کے مطابق مدارس رجسٹریشن بل کا معاملہ جلد از جلد حل ہونے کی یقین دہانی کروائی۔جے یو آئی وفد کے سربراہ مولانا راشد محمود سومرو نے سندھ میں امن و امان کی بدترین امن امان کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے بھر میں عوام کے جان، مال عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے موقع پر امن وامان کی بحالی کیلئے سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی فوری ہدایات جاری کی۔

ملاقات میں اراکین سندھ اسمبلی جمیل احمد سومرو، سہیل انور خان سیال، مولانا طاہر محمود سومرو، مولانا طارق محمود سومرو، عطاء الرحمن سومرو اور ڈاکٹر شفیق الرحمان سومرو بھی موجود تھے۔جے یو آئی وفد نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قاتلوں کو سزا ملنے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کے فرزندان کو مبارکباد پیش کی اور تمام ورثاء کے صبر پر انکو خراج تحسین پیش کیا۔علامہ راشد محمود سومرو نے اپنے شہید والد کے قاتلوں کی گرفتاری میں سندھ حکومت کے تعاون اور سندھ پولیس کے کردار کو سراہا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
97418