The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سپریم کورٹ؛ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ کل جمعہ کے دن سنایا جائے گا

Posted on

سپریم کورٹ؛ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ کل جمعہ کے دن سنایا جائے گا

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ کل (جمعہ)سنائے گی۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنے والے فل کورٹ میں شامل تیرہ ججز نے شرکت کی۔اجلاس تقریباً چالیس منٹ تک جاری رہا جس میں کیس کے فیصلے پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ کل کیس کا فیصلہ سنائے گا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مخصوص نشستیں کیس: چیف جسٹس کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر ہونے آج ہونے والا مشاورتی اجلاس ختم ہوگیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ کا اجلاس ہوا۔ مشاورتی اجلاس میں فل کورٹ بینچ میں شامل تمام ججز موجود تھے۔ خیال رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت کیس کے فیصلے سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔مخصوص نشستوں سے متعلق گزشتہ اجلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا تھا، اجلاس میں 13 رکنی فل کورٹ میں شامل تمام ججز شریک ہوئے تھے۔جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔ذرائع نے بتایا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کے فیصلے سے متعلق غور کیا گیا۔سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس میں کب کیا ہوا؟سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں۔31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں۔سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔کْل77 متنازع نشستوں میں سے 22 قومی اور 55 صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں ہیں۔الیکشن کمیشن پاکستان نے 13مئی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ان نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختون خوا سے 8 سیٹیں شامل ہیں۔قومی اسمبلی میں معطل نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں۔قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 14، پیپلز پارٹی کو 5، جے یو ا?ئی ف کو 3 اضافی نشستیں ملی تھیں۔خیبر پختون خوا اسمبلی میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی مخصوص نشستیں معطل ہیں جن میں سے جے یو ا?ئی ف کو 10، مسلم لیگ ن کو 7، پیپلز پارٹی کو 7، اے این پی کو 1 اضافی نشست ملی تھی۔پنجاب اسمبلی میں 24 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 اقلیتی نشستیں معطل ہیں، جن میں سے ن لیگ کو 23، پیپلز پارٹی کو 2، پی ایم ایل ق اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک ایک اضافی نشست ملی تھی۔سندھ اسمبلی سے 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 1 اقلیتی نشست معطل ہیں جہاں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم کو 1 مخصوص نشست ملی تھی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
90808