The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے کے سمر اور ونٹر زونز میں تعلیمی سال کوفال سمسٹر اور سپرنگ سمسٹر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

Posted on

صوبے کے سمر اور ونٹر زونز میں تعلیمی سال کوفال سمسٹر اور سپرنگ سمسٹر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر صوبے کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اس سلسلے میں ایک اہم اصلاحاتی اقدام کے طور پر صوبے کے سمر اور ونٹر زونز میں تعلیمی سال کوفال سمسٹر اور سپرنگ سمسٹر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر اس سسٹم کا اطلاق نرسری سے جماعت ہشتم تک کی کلاسسز پر ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق سمر زون میں تعلیمی سال کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا۔ سمر زون میں فال سمسٹر یکم ستمبر سے 31 دسمبر تک ہوگا اورسپرنگ سمسٹر 16 جنوری سے 31 مئی تک ہوگا۔ اسی طرح ونٹر زون میں تعلیمی سال کا آغاز یکم مارچ سے ہوگا۔ ونٹر زون میں سپرنگ سمسٹر یکم مارچ سے 30 جون تک ہوگا جبکہ فال سمسٹر یکم اگست سے 22 دسمبر تک ہوگا۔

ہر سمسٹر کے الگ الگ امتحانات ہونگے اور حتمی نتائج کی تیاری میں دونوں سمسٹر کے امتحانات کو برابر کی اہمیت دی جائے گی۔ نئے سسٹم کے تحت بچوں پر کتابوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے دونوں سمسٹرز کے لئے درسی کتب کو بھی دو حصوں میں چھاپنے کی تجویز ہے۔ علاوہ ازیں سمر اور ونٹر زونز میں چھٹیوں کا شیڈول معمولی ردوبدل کے ساتھ بدستور وہی رہے گا۔ تاہم ان چھٹیوں کو دونوں زونز میں مو ثر داخلہ مہم، مفت کتابوں کی تقسیم اور ترسیل، اساتذہ کرام کی تربیت، طلبہ کیلئے سمر و ونٹر کیمپس اور طلبہ کے لیے فنی تربیتی پروگرامز وغیرہ کیلئے استعمال میں لایا جائیگا۔ ونٹر اور سمر زونز کے لئے الگ الگ تعلیمی سال ان علاقوں کی موسمی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ مختلف زونز کے لئے الگ الگ تعلیمی سال مقرر کرنے سے طلبہ کو غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور فنی تربیت حاصل کرنے کے بھر پور مواقع میسر آئیں گے۔ مزید برآں الگ الگ تعلیمی سال کے نفاذ سے سرکاری وسائل کے بہتر اور موثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت   ترجیحی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بدھ کے روز ترجیحی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صحت ، تعلیم، آبنوشی، مواصلات، آبپاشی، ریلیف اور دیگر شعبہ جات کے رواں مالی سال کے دوران مکمل کرنے کے لئے پبلک سروس ڈیلیوری کے اہم منصوبوں کی نشاندھی کی گئی جبکہ صوبائی کابینہ نے ان ترجیحی اور تکمیل کے قریب منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے اضافی 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اکرام اللہ خان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا مقصد ان کو جلد مکمل کرکے فعال بنانا ہے، یہ عوامی خدمات کی فراہمی کے فوری نوعیت کے منصوبے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل اہم ترجیح ہے تاکہ لوگوں کو سروس ڈیلیوری بلاتاخیر شروع ہو۔ گذشتہ سال کے آخری تین ماہ میں تکمیل کے قریب منصوبوں کو جو اضافی فندنگ ہوئی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں،رواں سال ابتداءہی سے اس فارمولہ کہ تحت فنڈز ریلیز ہونگے تاکہ تکمیل کے قریب منصوبے رواں سال ہی مکمل ہو جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت تکمیل کے قریب منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ سروس ڈیلیوری میں تاخیرنہ ہو۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا دانشمندانہ استعمال اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں ترجیحات کا تعین انتہائی اہم ہے،جن جن منصوبوں پر 80 فیصد کام ہو چکا ہے، انہیں بھرپور فنڈنگ کر کے جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں کے لیے جو 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہیں جلد از جلد ریلیز کیا جائے اور کہا کہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز خود ان منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کریں تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی ہو۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
113409