صفیرہ کائے ’’ وہ لڑکی اب روشنیاں بانٹ رہی ہے‘‘ ۔ تحریر : رودابہ عیسی خان !
صفیرہ کائے ’’ وہ لڑکی اب روشنیاں بانٹ رہی ہے‘‘ ۔ تحریر : رودابہ عیسی خان !
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے بارے میں لکھتے ہوئے اپ کو الفاظ کا ذخیرہ کم لگنے لگتا ہے ۔۔۔اپ بہت کچھ لکھنا چاہتے ہیں بہت کچھ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی ذات کو ڈیفائن کرنے کے لیے دل اور دماغ دونوں کشمکش میں ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے ۔۔۔
آج میں جس لڑکی کے بارے میں لکھنا چاہ رہی ہوں وہ میری بہت خوبصورت دوست ہے ۔مگر اج پہلی بار جب میں نے اس کے بارے میں لکھنے کی کوشش کی تو تب مجھے احساس ہوا کہ یہ لڑکی نہیں بلکہ “لال قلندر” ہے ۔
یہ لڑکی جس کے قدموں میں مٹی نہیں،خواب تھے۔ اس نے چترال کے سرد ترین علاقے کی دھوپ میں چھاؤں جیسا مزاج لے کر جنم لیا۔اس کے گھر کی دیواروں پر امید کے چھوٹے چھوٹے نقش تھے ۔۔کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ان پہاڑوں کے بیچ انکھیں کھولنے والی لڑکی ایک دن سب کی شعور کی انکھیں کھول دے گی ۔
اس کے والد کے پاس کوئی بیش بہہ دولت نہ تھی بس تھوڑی سی زمین تھی جہاں سے اناج نہیں بلکہ زندگی اگتی تھی۔ لیکن جب اس لڑکی نے خواب مانگے، تو اس کے دادا نے پوتی کے لۓ اپنا اکلوتا بیل بیچ ڈالا،ان کی یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ اس لڑکی نے اپنی تعلیم کے ابتدائی دور میں ہی ثابت کر دیا کہ ان کے دادا کا فیصلہ غلط نہیں تھا ۔۔پھر کیا تھا اعلی تعلیم کے حصول کے لیے باپ نے زمین بیچ ڈالی ۔۔۔ایک بیٹی کے خواب کی قیمت اس نے مٹی سے ادا کی، اور بیٹی نے مٹی کو گوندھ کر اس سے مستقبل بنا لیا۔

وہ لڑکی صرف کتابوں کی دوست نہ تھی، وہ قربانیوں کی امانت دار تھی۔ ہر دن جب وہ میلوں پیدل چل کر سکول جاتی، تو اس کے پاؤں میں چھالے نہیں آتے تھے، بلکہ ہر قدم پر وہ اپنے باپ کی قربانی کو یاد رکھتی تھی۔ لوگ کہتے تھے، “بیٹیوں کو پڑھانے سے کیا ملے گا؟”—اس لڑکی نے ثابت کیا کہ اگر ایک بیٹی پڑھ جائے، تو وہ پورے قبیلے کی سوچ بدل سکتی ہے۔
“وہ لڑکی اب روشنیاں بانٹ رہی ہے ۔۔
کہتے ہیں کچھ لوگ زمین پر خدا کے بھیجے ہوئے وہ سائے ہوتے ہیں، جن کا وجود زخموں پر مرہم کی طرح اترتا ہے۔ صفیرہ سیف ایک ایسی ہی لڑکی ہے، جسے نہ کسی تمغے کی چاہ ہے، نہ واہ واہ کی طلب۔ جب وقت کا پہیہ چترال کے کسی باسی کے خلاف گھومنے لگتا ہے، جب کسی کے گھر اندھیری رات اترتی ہے، تو یہی لڑکی! نہایت خاموشی سے، بنا کسی شہرت کے، اس اندھیرے کو اپنے جذبوں کی روشنی سے کم کرتی ہے۔
حال ہی میں چترال کے معروف مزاحیہ فنکار کو جب مختلف امراض نے آ گھیرا اور پورا گاؤں بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، تو سب سے پہلے یہی لڑکی آگے بڑھی۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ اس لڑکی کی روح کی کہانی ہے — ایک ایسی روح جو دوسروں کا درد اپنے دل پر محسوس کرتی ہے۔40 سے زائد کینسر پیشنٹس کراچی کے مہنگے ترین ہسپتال میں زیر علاج ہر لمحہ دن رات صفیرہ سیف کو اپنی دعاؤں کا حصہ بنائے ہوئے ہیں ۔
اس سب کے علاوہ ابھی حال ہی میں لواری ٹاپ کی سرد ہواؤں میں ایک دن ایسی خبر گونجی جس نے سب کو چونکا دیا — ایک کم سن لڑکی، چھے زبانوں پر عبور رکھنے والی ذہین و فطین بچی، جس کے خواب آسمان سے بھی بلند تھے۔ سوشل میڈیا پر دھوم مچا گئی۔ ہر طرف ویڈیوز، انٹرویوز، وعدے، دعوے۔ سیاسی رہنما، سوشل ورکرز، یوٹیوبرز — سب اس کے گرد جمع ہو گئے، جیسے شہرت کی چمک میں اس کی روشنی چھیننے آئے ہوں۔ مگر ان چمکتے چہروں میں، صرف ایک چہرہ تھا جو خاموش تھا، مگر سچا۔ اور وہ چہرہ تھا صفیرہ سیف کا ۔۔۔ جس نے ویڈیو نہیں بنائی، وعدے نہیں کیے، صرف کام کیا۔اور کام بھی ایسا کہ جس کی تشہیر سے منع کر دیا ۔مگر میں نے کب کسی کی سنی ہے؟صفیرہ کے منع کرنے کے باوجود میں اپ سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس بچی کا ہاتھ تھامنے والوں میں صفیرہ سیف کا نام سب سے پہلے ہے ۔صفیرہ سیف نے اس بچی کے والد کو فون کیا اور اسے بتایا کہ تعلیم اپ کی بیٹی کا حق ہے، اور میں یہ حق اسے دلواؤں گی۔”
وہ بچی کبھی سکول نہیں گئی تھی لیکن صفیرہ نے اس کے باپ سے اس کی خواہش پوچھی ۔باپ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میری بیٹی پشاور کے ایئر فورس کے سکول میں تعلیم حاصل کرے ۔صفیرہ جانتی تھی کہ کبھی سکول نہ جانے والی بچی اتنے بڑے سکول کا مشکل ترین ٹیسٹ اسانی سے پاس نہیں کر سکتی ۔مگر پھر بھی اس نے اس بچی کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے بچی اور اس کے والد کو دیر سے پشاور ٹیسٹ کے لیے بھجوایا ۔تاکہ اس بچی کا کوئی خواب ادھورا نہ رہے ۔اور ایسا نہیں کہ بچی اور اس کے باپ کو خود سے جانے کے لیے کہا ہو بلکہ اسپیشل پروٹوکول میں بچی کے انے جانے ہوٹل کھانے پینے کے خرچے برداشت کر کے بچی کو باعزت اپنے گھر واپس پہنچانے کی ذمہ داری بھی صفیرہ نے خود اٹھائی ۔۔بدقسمتی سے بچی وہ ٹیسٹ پاس نہ کر سکی اس لیے صفیرہ نے چترال کے سب سے اچھے سکول The lang land میں بھی اپلائی کروایا ۔۔۔اور انشاءاللہ عنقریب وہ بچی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دے گی ۔۔
صفیرہ جانتی ہے کہ غربت کا سب سے بھیانک چہرہ وہ ہوتا ہے جو بچوں کی آنکھوں سے خواب چھین لیتا ہے۔ شاید اسی لیے وہ روز اپنی آسانیاں قربان کرتی ہے تاکہ کسی اور کا بچپن سہانا ہو جائے۔ آج 300 سے زائد طلبا و طالبات، جو ماضی میں وسائل کی کمی کے باعث خواب دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے، آج صفیرہ کی ارگنائزیشن MASS جو ریاست CALIFORNIA میں رجسٹرر ہے، کہ اسکالرشپ کی بدولت پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین تعلیمی اداروں میں علم کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ کسی کا نام داخلہ لسٹ میں آیا، تو اس کے پیچھے ایک خاموش سپورٹ تھی؛ کسی نے یونیفارم پہنا، تو اس کے پیچھے کسی کا چھپا ہوا پیسہ نہیں، محبت تھی، احساس تھا، قربانی تھی۔اور وہ کوئی اور نہیں صرف صفیرہ سیف تھی ۔۔۔
صفیرہ کو آج شاید لوگ اس کے ایک نام سے جانتے ہو، مگر میں نے اسے ایک دعا کی صورت میں پہچانا ہے۔ وہ ہر اس خواب کی محافظ ہے جو غربت کے اندھیرے میں پلک جھپکنے سے پہلے مر جاتا ہے۔ وہ ہر اس دل کی ہمراز ہے جو کسی کو اپنا دکھ سنانے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس کی ذات کسی کائناتی راز کی طرح ہے ۔۔۔۔جتنی کھلتی ہے، اتنی ہی حیران کرتی ہے۔ نہ وہ کسی بینر پر اپنا نام چاہتی ہے، نہ کسی تقریر میں داد؛ اس کی شناخت صرف ایک ہے اور وہ ہے،، درد کا شعور، انسانیت کی خدمت، اور خاموشی میں پوشیدہ انقلاب۔۔۔
واقعی صفیرہ وہ لڑکی ہے جس نے زخموں کو مرہم میں بدلا، آنکھوں سے آنسو نہیں، امیدیں پیدا کیں، اور ایک ایسی روشنی بانٹی جو صرف چراغوں میں نہیں ، دلوں میں جلتی ہے۔

