The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 16 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہندوکش کے دامن سے ۔۔ سرکش بہو۔۔۔ تحریر : عبد الباقی

ہندوکش کے دامن سے ۔۔ سرکش بہو۔۔۔ تحریر : عبد الباقی

کسی بھی مہذب اور جمہوری ملک میں عوام کی حق رائے دہی سے حکومت تبدیل کی جاتی ہے۔ جمہوری ممالک میں حکومت کی تبدیلی کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے حکومت بنانے اور تبدیل کرنے میں عوام کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں عوام کی حق رائے دہی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، عوام کا کام صرف ووٹ ڈالنا ہوتا ہے۔ یہاں حکومتیں بعض قوتوں کی مرضی سے بنائے اور تبدیل کئیے جاتے ہیں یہ قوتیں حکومت بنانے اور تبدیل کرنے میں وسیع تجربے رکھتے ہیں، اسلئے سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں آنے کےلے عوام کی ووٹوں کے علاؤہ ان قوتوں کی تائید و حمایت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان قوتوں کی حمایت کے بغیر کسی بھی پارٹی کےلے اقتدار میں انا مشکل ہوتا ہے چاہئیے وہ پارٹی عوام میں کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو۔ جس پارٹی پر یہ قوتیں اپنی دست شفقت رکھتے ہیں وہی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

ان قوتوں کی تائید و حمایت سے جو پارٹی برسر اقتدار آتی ہے حکومت کے ابتدائی دنوں میں نیا سربراہ حکومت کا ان قوتوں کے ساتھ تعلقات خوش گوار ہوتے ہیں،نیا سربراہ حکومت ان قوتوں کی ہدایت اور مشوروں پر تابعداری کے ساتھ عملدرآمد کرتا ہے۔ کچھ ہی عرصہ گذرنے کے بعد نئے سربراہ حکومت خود کو حقیقی عوامی نمائندہ قرار دے کر ان قوتوں کی ہدایت اور مشوروں کو پس پشت ڈال کر ان کی احسانات کو نظر انداز کرکے سارے حکومتی آمور خود انجام دینے کی کوشش کرتا ہے اور خود کو تمام اختیارات کے مالک سمجھنے لگتا ہے ، اور قومی اداروں کے اختیارات میں مداخلت کرنے لگتا ہے تو یہاں سے آپس کے خوش گوار تعلقات میں دراڑیں پیدا ہونے لگتے ہیں اور ساس بہو کا جھگڑا شروع ہو جاتی ہے۔

بہو سسرال والوں کی گھریلو امور میں مداخلت کو سخت نا پسند کرتی ہے وہ خود کو گھر کا مالکہ تصور کرکے سارے گھریلو معاملات اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ جبکہ تجربے کار سسرال والے بہو کو صرف آمور خانہ داری تک محدود رکھا کر گھر سے باہر رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ سارے معاملات خود طے کرنا چاہتے ہیں اور بہو کو گھر سے باہر کے معاملات طے کرنے کے اہل نہیں سمجھتے ہیں ۔

اس طرح اختیارات کے تقسیم کے معاملے پر حکومتی نظام درہم برہم ہو کر جب سنگین صورت اختیار کرنے لگتی ہے تو تجربے کار سسرال والے تنازعے کو حل کرنے کےلے سر جوڑ کر مل بیٹھتے ہیں اور طویل بحث مباحثہ کے بعد متفقہ طور پر سرکش اور نافرمان بہو کو شرعی طریقے سے طلاق دے کر گھر سے باہر نکل دیتے ہیں ۔ طلاق یافتہ بہو سسرال والوں کی اس فیصلے کو اپنے ساتھ ظلم ، زیادتی ، اور ناانصافی قرار دے کر سسرال والوں کو کھبی خلائی مخلوق قرار دیتے ہیں اور کھبی میر جعفر ، میر صادق جیسے القابات سے نواز کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہتی ہے ۔ تجربے کار سسرال والے ان کی باتوں کو نظر انداز کرکے کانوں میں روئی ٹھونس کر نئے فرمان بردار اور قابل اعتماد بہو کی تلاش میں سرگرم ہوتے ہیں ۔ گذشتہ اٹھہتر سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے،

ان اٹھہتر سالوں میں ان کو ایک بار بھی قابل اعتماد بہو میسر نہیں آئی ، ماضی کے حالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تجربے کار سسرال والے کسی بھی بہو کو تین سالوں سے ذیادہ دیر برداشت نہیں کرتے ہیں سابقہ بہوؤں کی عبرت ناک انجام کو مدنظر رکھتے ہوئے مو جودہ بہو نازک مزاج سسرال والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے ۔ تاہم اس کے کوشیش رنگ لاتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تین سال بعد ہو جائے گا ابھی تین سال پوری ہونے میں کافی وقت باقی ہے ۔ بار بار بہو تبدیل کرنے کے جملہ اخراجات پاکستان کی غریب عوام کو منہگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہی ہے، اس وجہ سے ملک قرضوں کے دلدل میں پھنس گیا ہے اور عوام منہگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے زندگی کی آخری سانس لے رہی ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
116818