The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طالبات کےلئے سازگار تعلیمی ماحول اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ  کا صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ

Posted on

سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طالبات کےلئے سازگار تعلیمی ماحول اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ  کا صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبے کی سرکاری جامعات میں اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری، سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طالبات کےلئے سازگار تعلیمی ماحول اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں انسداد ہراسانی قوانین کے فوری نفاذ کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔
 مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے تدارک کےلئے مختلف قوانین، گائیڈ لائنز اور پالیسیز پر مشتمل فریم ورک موجود ہے تاہم بعض جامعات میں اس فریم ورک کے عملی نفاذ اور اس پر موثر عملدرآمد میں کمی اورخامیاں موجود ہیں۔ اس فریم ورک پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے حال ہی میں بعض جامعات میں ہراسانی کے مبینہ واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
 مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور تعلیمی اداروں میں اس طرح کے مبینہ واقعات کو نہ صرف مروجہ قوانین بلکہ اخلاقی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ہر قسم کی ہراسانی خصوصاً تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم اپنے زیر انتظام تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے تدارک کےلئے ضروری اقدامات یقینی بنائے اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ خصوصاً طالبات کو انسداد ہراسانی کے موجودہ قوانین کے بارے واقفیت اور آگہی دی جائے۔
 مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مروجہ قانون اور پالیسی کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اوراس سلسلے میں کم از کم ایک خاتون پر مشتمل فوکل پرسنز مقرر کرکے انکے رابطہ نمبرز یونیورسٹیوںکی ویب سائٹس پر شائع کئے جائیں۔ ہراسانی سے متعلق شکایات کے ازالے اور رپورٹنگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے اور اس ضمن میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ پروٹوکولز اور گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے دس دنوں میں مذکورہ بالا احکامات پر عملدرآمد یقینی بنا کر رپورٹ پیش کریں اور مقررہ وقت تک عملدرآمد نہ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشتو کے معروف مزاحیہ فنکار حیات خان المعروف میراوس کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہاں سے جاری اپنے ایک تعزیتی پیغام میں مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کےلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ مرحوم میراوس اپنے فن کی وجہ سے ایک پسندیدہ عوامی فنکار تھے اور فن کے شعبے میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ فن کے شعبے میں مرحوم کے کام کو عرصہ دراز تک یاد رکھا جائے گا۔
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
100813