The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔ ست رنگی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ ست رنگی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

اردو کی ادبی تاریخ میں اہل زبان کے بڑے مرا کز لکھنو، دہلی، کر اچی اور لا ہور وغیرہ سے دور ملک کے مختلف حصوں میں تخلیق پا نے والے ادب کے لئے مضا فاتی ادب کی الگ در جہ بندی عمل میں لائی گئی ہے اور نقا د بڑے اہتما م کے ساتھ مضا فا تی ادب کا موازنہ دیگر مر اکز میں منظر عام پر آنے والے ادب سے کر تے ہیں اس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ زبان کے بڑے بڑے مرا کز میں رسائل و جرا ئد شائع ہو تے ہیں، کانفرنسیں منعقد ہو تی ہیں، سیمینا ر اور مذا کر ے ہو تے ہیں مشا عرے ہو تے ہیں یوں ادب پاروں کی نو ک پلک سنورتی اور نکھر تی ہے، مضا فات میں تخلیق کا روں کو نہ مل بیٹھنے کے موا قع ملتے ہیں نہ ان کی تخلیقات ادبی جریدوں میں شائع ہو تے ہیں اس طرح وہ لو گ جو ادب پا رے تخلیق کر تے ہیں وہ شائع ہو نے سے پہلے کتا بی صورت میں منظر عام پر آتے ہیں اور مضا فات کے ادیب یا شاعر کو اپنی کتاب بھی اپنی جیب سے خر چ کر کے شائع کر نا پڑ تا ہے جس سے جیب پر زلزلہ آتا ہے اور بینک اکا ونٹ کا نپ اٹھتا ہے یا کم از کم بینک اکا ونٹ کی ”کا نپیں ٹا نگ“ جا تی ہیں

یہی وجہ ہے کہ مضا فات میں ادب تخلیق ہو نے اور چھپا ئی کے مرا حل سے گذر کر مار کیٹ میں آنے کے امکا نا ت کم ہیں ایسے قحط الکتا ب میں الہ ڈھنڈ ملا کنڈ سے تعلق رکھنے والے ادیب محمد جمیل کا چو خیل نے اپنی اردو کتاب ”ست رنگی“ شائع کر کے خیبر پختونخوا کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم لکھنو، دہلی، لا ہور یا کر اچی کے کسی بڑے تخلیق کار کے سامنے فخریہ طور پر پیش کر سکتے ہیں، سرحد میں اردو یا خیبر پختونخوا میں اردو پر تحقیقی اور تنقیدی کا م کر نے والوں کے لئے ”ست رنگی“ ایک اہم سو غا ت ہے، ادبی اصنا ف کی در جہ بندی میں یہ کتاب طنزو مزاح کے زمرے میں آتی ہے جیسا کہ ادب کا ہر قاری جانتا ہے طنز نگار نشتر چلا کر اپنے ہدف کو چونکا دیتا ہے وہ پتھر اٹھا نے لگے تو مزاح کے ذریعے اس کے زخم پر مر ہم رکھتا ہے اور یہ سلیقہ اس کتا ب کے مصنف کو خو ب آتا ہے فہر ست ابواب میں کتاب کے عنوا نات دیکھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ یہ ادب پارے الگ الگ شہ پاروں کی صورت میں لکھے گئے

آخر میں ان کو یکجا کر کے کتا بی صورت دی گئی ان میں معا شرتی حالات، عوامی نفسیات، خواص کے نما یا ں تضا دات کو سامنے لا یا گیا ہے مثلا ً ”قرض کی ماں نہیں مر تی“ ایسا عنوان ہے جو آئی ایم ایف ما موں کے ساتھ وطن عزیز کے حکمرانوں کے معا شقوں سے پر دہ اٹھا تا ہے اور اس راز کا انکشاف کر تا ہے کہ ہم عیا شی کے لئے قرض نہیں لیتے بلکہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے قرض لیتے ہیں عیا شی خو د بخود آٹپکتی ہے اور قرض کی مئے کا بڑا حصہ اچک لے جا تی ہے بقول فیض کچھ واعظ کے ہاں کچھ محتسب کے گھر جا تی ہے ہم بادہ خوا روں کی مئے جا م میں کمتر جا تی ہے اس طرح میں اور پا کستان، دُم داریاں، پیٹ کے پچاری، فرینڈ ان فرینڈ اور ڈاکٹر تا حکیم ایسے عنوا نات ہیں جن کے اندر لطائف و ظرائف کے ساتھ ساتھ پندو حکمت کے کئی گو شے نظر آتے ہیں تقدیر خندہ زن ایک عنوان ہے اس کے تحت آپ لکھتے ہیں ”سارے جہاں کے دوسرے احمقوں کی طرح میں بھی اپنے آپ کو بہت عقل مند، دانا، دور اندیش بلکہ دانشور سمجھتا ہوں ہر ایک کو مفت میں گراں قدر اور پُر خلو ص مشورہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں سوائے محنت طلب کا موں کے وہ کون سا کام ہو گا جس کا میں ما ہر نہیں“مصنف کو اس بات کا دکھ ہے کہ ترقی کی دوڑ میں پرانے اقدار اور کام معاشرے سے نا پید ہوتے جا رہے ہیں

مر حو مین کی یا د میں ایک نثری نو حہ ہے جو ایسے نا پید ہو نے والے اقدار کی یا د دلا تا ہے مصنف لکھتا ہے ”خطوط نویسی اب وینٹی لیٹر پر ہے آج کل جس کا م کے کر نے کا ارادہ نہ ہو یا التوا مقصود ہو تو وہاں خطوط اور مرا سلے“ لکھے جا تے ہیں مثلاً دار الحکومت اسلا م اباد میں خطوط ایک دائرے میں ذلیل و خوار ہو کر چکر اتے پھر تے ہیں سکرٹری صدر کو خط لکھتا ہے صدر وزیر اعظم کے پاس روانہ کر تا ہے وزیر اعظم سے قائمہ کمیٹی اور وہاں سے پھر سکر ٹری کے پا س آتا ہے کار سرکار اور فلا ح عوام سے جا ن چھڑا نے کے لئے خطوط بازی سب سے مو ثر ذریعہ ہے“مر حو مین کی یا د میں لکھا گیا انشائیہ اس لحا ظ سے بھی دلچسپ ہے کہ اس کو مصنف نے بر محل اور پر کشش اشعار سے مزین کر دیا ہے ست رنگی ایک کتاب ہی نہیں ایک بیا نیہ بھی ہے جو اس بات پر اصرا رکی علا مت ہے کہ معیاری ادب صرف بڑے مرا کز میں تخلیق نہیں ہوتا،

شہروں سے دور پہاڑوں کے جھر مٹ میں واقع الہ ڈھنڈ جیسے دور افتادہ اور پسماندہ قصبے میں بھی تخلیق پا تا ہے، اور یہ اتنا زور دار بیا نیہ ہے کہ بڑے مرا کز کے نقادوں کو بھی اپنی طرف متو جہ کر تا ہے محققین کو بھی دعوت دیتا ہے کہ مضا فات پر تو جہ دو یہاں بھی اچھے تخلیق کاروں کی کمی نہیں انتساب کے بعد قاری سے مخا طب ہو کر کا چو خیل لکھتا ہے جس نے کتاب کسی ذریعے مفت حا صل کر کے پڑھی ہے وہ میرا شکر یہ ادا کرے اور جس نے بازار سے خرید کر پڑھی ہے اس کا شکریہ میں اداکر تا ہوں چونکہ مجھے یہ کتاب عبد الولی خان عابد ایڈو کیٹ کی وساطت سے تخفتاً ملی ہے اس لئے میں کا چو خیل صاحب کا شکریہ ادا کر تا ہوں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
94181