The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سانحہ مری ۔ محمد شریف شکیب

وفاقی دارالحکومت سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع معروف سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری میں شدید برفباری، ٹریفک جام، پناہ کی جگہ نہ ملنے،شدید سردی، ہوٹل مالکان،انتظامیہ اورمقامی لوگوں کی بے حسی کی وجہ سے در درجن قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل الرٹ جاری کردیا تھا۔ شدید برفباری کے پیش نظر سیاحوں کو مری، گلیات، کاغان، ناراں، مالم جبہ، کمراٹ اور دیگر سیاحتی مقامات کی طرف نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پولیس کی طرف سے بھی ہر چیک پوسٹ پر سیاحوں کو موسم کی شدت اور رش کی وجہ سے مری کی طرف نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی مگر برفباری کا لطف اٹھانے کے شوق میں سیاحوں نے خطرات کی پروا کئے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ بتایاجاتا ہے کہ مری میں بہ یک وقت پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے تاہم پنجاب حکومت کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 62ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

پارکنگ کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ گاڑیاں طویل قطاروں میں سڑکوں پر ہی کھڑی رہیں۔ جب برفانی طوفان کی وجہ سے یہ گاڑیاں سڑک پر ہی پھنس گئیں تو کچھ لوگ گاڑیوں سے نکل کر ہوٹلوں میں ٹھہرنے کی کوشش کی۔ سیاحوں کے مطابق ہوٹل مالکان نے ڈبل بیڈ کمرے کا کرایہ بیس ہزار اور چار بیڈ کمرے کا چالیس ہزار طلب کیا۔ لوگ اتنے بھاری کرائے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ہوٹلوں میں بجلی بھی نہیں تھی اس وجہ سے لوگوں نے گاڑیوں کے اندر ہی رات گذارنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے شیشے چڑھاکرہیٹر آن کردیئے۔باہر برفباری اور شیشے بند ہونے کی وجہ سے کاربن مونوآکسائیڈ گیس گاڑی میں ہی بھرنے لگی۔ اس بے ذائقہ گیس نے چند گھنٹوں کے اندر گاڑی میں بیٹھے لوگوں کو بے ہوش کردیا اور اسی مدہوشی کے عالم میں وہ موت کی وادی میں اتر گئے۔ برفانی طوفان کے دوران کچھ لوگوں نے مدد کے لئے اپنے رشتہ داروں اور انتظامیہ کو بھی پکارا مگر پولیس اور انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی تیاری کرنا ہمارے قومی مزاج کے خلاف ہے۔ واقعہ رونما ہونے کے بعد ہم رونادھونا اور لکیر پیٹنا شروع کردیتے ہیں سانحہ مری کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ہائی وے پولیس، مقامی پولیس، سیکورٹی اہلکار، محکمہ موسمیات والے، این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے میڈیا پر تباہی کے مناظر دکھائے جانے کے بعد اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لئے متحرک ہوگئے۔ اس مرحلے پر ملک کی سیاسی قیادت کا طرز عمل نہایت مایوس کن اور افسوسناک تھا۔قومی سانحے پر بھی یہ لوگ اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کرتے رہے۔

حزب اختلاف والے حکمرانوں کو کوستے رہے اور حکمران اپنے کارنامے گنتے اور متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہے۔ المناک سانحے میں مری کے لوگوں کا مجموعی رویہ انتہائی افسوسناک رہا۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹائروں پر چڑھانے کی زنجیریں پانچ پانچ ہزار میں فروخت ہورہی تھیں۔ چھوٹی گاڑی کو دھکا دینے کے تین ہزار اور بڑی گاڑی کے مالک سے پانچ ہزار وصول کئے جاتے تھے۔ ہوٹل میں چائے کی ایک پیالی پانچ سو روپے میں فروخت ہورہی تھی۔ کسی نے خون جمادینے والی سردی سے بچانے کے لئے سیاحوں کو مدد کی پیش کش نہیں کی۔7دسمبر 2016کو حویلیاں فضائی حادثے کے بعد مری کا سانحہ اپنی نوعیت کا دوسرا المیہ تھا جس نے پورے ملک کی فضاء سوگوار کردی۔جو والدین اپنے جگر گوشوں کو کھودینے پر غم و الام کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

ان کا دکھ ہر پاکستانی محسوس کر رہا ہے اور ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیشن کے قیام اور غمزدہ خاندانوں کے لئے معاوضے کا اعلان کیاہے۔لیکن جانے والے تو سب کو اشکبار چھوڑ کر ابدی نیند سوگئے۔یہ معاوضے ان کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ تاہم سانحے میں جن اداروں اور اہلکاروں کی غفلت اور لاپرواہی ثابت ہوجائے انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہئے تاکہ غم زدگان کے دلوں کو یک گونہ سکون ملے اور آئندہ ایسے سانحات کا تدارک ہوسکے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
57226

سانحہ مری ۔ ذمہ داری فکس کریں – آز: ظہیرالدین

سانحہ مری ۔ ذمہ داری فکس کریں – آز: ظہیرالدین

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists pakistan


ارم نامی ڈھائی سالہ کلی شدید سردی کی تاب نہ لاکر ماں کی گود میں آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کرتی ہے، پانچ سالہ ہادیہ اپنے باپ کی گود میں چند منٹوں بعد ہی آخری سانس لیتی ہے تو ماں باپ پر عشی طاری ہوتی ہے اور 15سال  تک کی عمرکے باقی دو بہنوں اور دو بھائیوں پر گزرے ہوئے لمحات کا تصور کرکے روح کانپ اٹھتی ہے اور جسم پر لرزاہٹ طاری ہوتی ہے۔ یہ روح فرسا واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ملکہ کوہسارمری میں ایک چھوٹی سی موٹر کار کے اندر پیش آئی جو وہاں بلاک ہونے والی ایک ہزار موٹر گاڑیوں میں شامل تھی جبکہ برفباری کی وجہ سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرگئی تھی اور گاڑی کو اسٹارٹ رکھ کر ہیٹر مسلسل چلانے کی وجہ سے گاڑی میں ایندھن بھی ختم ہوگئی تھی۔ ملکہ کوہسار کی بے رحم سردی نے ماں باپ اور چھ بچوں پر مشتمل اسلام آباد کی ایک خاندان کا صفایا کردیا جبکہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی پانچ افرا د پر مشتمل ایک اور خاندان بھی یخ بستہ ہواؤں کی نذر ہوگئی اور خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے تین دوست بھی مری میں اپنی سفر آخرت کا آغاز اپنی الٹوکار سے کردی جو وہاں snowfallدیکھنے گئے تھے۔ موت برحق اور اٹل حقیقت ہے لیکن ان کو جس حالت میں موت آئی، وہ افسوسناک او ر قومی ضمیر پر ایک بوجھ ہے کیونکہ ریاستی انتظامی اداروں کی غفلت،لاپروائی اور inefficiencyسے یہ پیش آیا۔ اس کے برابر افسوسناک بات یہ ہے کہ ماضی کی اس طرح دل خراش سانحات کی طرح یہ سانحہ بھی کچھ دنوں میں میڈیا میں ڈسکس ہونے کے بعد قومی میموری سے ہمیشہ کے لئے ڈیلیٹ ہوگی اور پسماندگان کے لئے زندگی بھر کا روگ بن جائے گی۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 6


مملکت خداداد پاکستان میں انسانی غفلت کے نتیجے میں حادثات و سانحات کی ذمہ داری کسی پر ‘فکس ‘کرنے کی روایت نہ ہونے اور فی زمانہ اخلاقی قوت سے عاری حکمرانوں کی وجہ سے سانحہ مری جیسے واقعات کا رونما ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ شیخ رشید احمد سمیت چند وفاقی وزراء نے انتہائی آسانی سے اس بات کو اپنے ٹویٹ میں ٹال دیا  اور ذمہ داری سیاحوں پر ہی تھوپ دی جوکہ کثیر تعدادمیں اور گنجائش سے ذیادہ تعداد میں مری امڈ آئے تھے۔ وطن عزیز کی 75سالہ تاریخ کی کسی ایک صفحے پر بھی آپ کو یہ لکھا نہیں ملے گا کہ کسی سانحے میں متعلقہ محکمے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کسی وزیر نے استعفیٰ دیا ہو۔ یہاں تو حکومتی حلقے ایسے سانحات کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرتے ہوئے حکومت کو بری الذمہ قرار دے ڈالتے ہیں جوکہ حادثے میں لقمہ اجل بننے والے بے گناہوں کے پسماندگان کی زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں ہوتی۔ خود ہماری پڑوسی ملک میں ریلوے حادثات میں غفلت قبول کرتے ہوئے لال بہادر شاستری سمیت وزراء کو استعفیٰ دیتے ہوئے ہم دیکھ چکے ہیں۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 4

وطن عزیز کی مخصوص سیاسی ماحول اورغیر تابناک روایات کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے یہ توقع کرنا ہی عبث ہے کہ وہ اس المناک حادثے کی ذمہ داری سیاحوں پر ڈالنے کی بجائے ریاستی اداروں کو ذمہ دار گردانتے ہوئے چیف منسٹر بزدار سے استعفیٰ لے اور چیف سیکرٹری اور آئی جی پی سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر مری تک افسران کو فی الفور معطل کرکے ان کے خلاف غفلت، لاپروائی اور inefficiencyکے چارجز لگواکر ان کے خلاف انکوائری کا دیتا۔ امریکہ سمیت کسی ترقی یافتہ   میں اگر اکیس افراد اس طرح المناک موت مرجاتے تو وہاں طوفان برپا ہوتا، حکومتیں گرجاتے اور چند گھنٹوں کے اندر بڑے بڑے شخصیات سلاخوں کے پیچھے نظر آتے (یہ بات الگ ہے کہ ان ممالک میں احساس ذمہ داری سے سرشار انتظامیہ ایسے واقعات کو رونما ہونے سے پہلے ہی روک دیتے ہیں)۔ ایک ریاست مدینہ وہ تھا جس میں خلیفہ وقت دریائے دجلہ کے کنارے خارش زدہ کتے کی بے وقت موت کی زمہ داری پیشگی طور پر اپنے اوپر فکس کرتا ہے اور ایک صوبائی گورنر کا بیٹا جب گھوڑ دوڑ کے دوران ایک شہری کو چابک مارتا ہے تو خلیفہ وقت اس کی زمہ داری گورنر پر فکس کرتا ہے اور شہری کے ہاتھ میں چابک دے کر کہتا ہے کہ پہلے اس گورنر کو مارو۔ ریاستی امور کی زمہ داری اپنے اوپر فکس کرنے کی روش نے ریاست کے ایک ایک کارندے کو ایسا ذمہ دار بنادیا کہ کسی بھی گوشے میں غلطی اور غفلت کی گنجائش نہیں رہی جو اس طرح کے افسوسناک سانحات پر منتج ہوں۔ اس ریاست مدینہ کے علمبردار سربراہ حکومت نے اپنی شہ رگ کے قریب واقع مری میں اس المناک سانحے پر بیان جاری کروانے اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی سے آگے کچھ نہ کرسکے کیونکہ وطن عزیز میں اس کی کوئی روایت موجود نہیں جس میں حکمرانوں نے سانحات کی زمہ داری قبول کی ہو یا ان پر زمہ داری فکس کی ہو جن کی غفلت سے یہ سب کچھ رونما ہوا۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 21


سانحہ مری کے زمہ داروں کا تعین نہایت آسان ہے جن سے ارتکاب غفلت سرزد ہوئی۔ میڈیا کے مطابق 99فیصد گاڑیاں راولپنڈی اسلام آباد کی جڑواں شہر سے گزر کر مری پہنچتے ہیں جن کی تعداد کو بارہ کہو کے ٹول پلازہ پر آسانی سے گنا جاسکتا تھا اور انتظامیہ میں “حس زمہ داری”ہوتی تو ویک انڈ میں مری میں برفباری کو پیش نظر رکھ کر سیاحوں کی تعداد پر نظر رکھا جاتا۔  مری ضلع راولپنڈی کی ایک تحصیل ہے جس کے انتظامیہ کو سوفیصد اندازہ ہونا چاہئے کہ مری میں بیک وقت کس تعداد میں اور کتنی گاڑیوں میں جاسکتے ہیں جس میں موٹر گاڑیوں کی ٹریفک بھی رواں دواں رہے۔ دوسری طرف کے پی کے گلیات کی باونڈری پر گاڑیوں پر نگاہ رکھا جاتا تو ویک انڈ پر سنو فال کا دلفریب منظر دیکھنے کے متمنی سردی سے ٹھٹہر ٹھٹہر اپنی قیمتی جانیں یوں فرشتہ اجل کے حوالے نہ کرتے۔ ایک ہزار سے بھی زیادہ گاڑیوں کا بلا روک ٹوک مری میں داخل ہونا اور مکمل پہیہ جام کی صورت حال کا پیدا ہونا اور ان  گاڑیوں میں پھنسے ہوئے بچوں اور خواتین کو ان کے حال پر چھوڑنا شدید بد انتظامی اور مجرمانہ غفلت ہی کا شاخسانہ ہے جو ناقابل معافی ہے اور یہ قومی المیہ سے کسی طور پر کم نہیں۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 7

وطن عزیز میں بدانتظامی کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ جب تک کوئی حادثہ رونما نہ ہو اور حالات نارمل ہوں تو اعلیٰ حکام ڈیلی سیچویشن رپورٹ بھی پورا پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے اور یہ ‘شان افسرانہ’ ہماری تباہی کا اصل محرک ہے۔ اگر لاہور میں بیٹھا چیف سیکرٹری راولپنڈی میں کمشنر سے اور وہ چند قدم فاصلے پر ڈی سی سے مری کی صورت حال کا ایسے ہی پوچھ لیتا تو آج اکیس جانیں یوں مٹی کے نیچے نہ جاچکے ہوتے جن کا قصور نظارہ فطرت کے لئے نکلنا تھا۔ جب تک منتخب قیادت ایسے سانحات میں ایک بولڈ اور انقلابی قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کرتی اور ان داروں کو سامنے لاکر سامان عبرت نہ بنائے جاتے، خاندان کے خاندان اپنی ناکردہ سزا پاکر معدومیت کی سمندر میں گرتے رہیں گے۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 5
chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 1

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
57069