The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 25 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سانحہ سوات: کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن نے انکوائری کمیٹی کو تحریری رپورٹ جمع کروادی

Posted on

سانحہ سوات: کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن نے انکوائری کمیٹی کو تحریری رپورٹ جمع کروادی

مالاکنڈ(چترال ٹائمزرپورٹ)سانحہ سوات سے متعلق جاری تحقیقات کے پیشِ نظر کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن عابد وزیر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، انہوں نے انکوائری کمیٹی کو تحریری رپورٹ جمع کروا دی۔سرکاری ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے کمشنر ملاکنڈ ڈویڑن سے سوال کیا کہ 27 جون کو کیا ہوا تھا؟کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن عابد وزیر نے بتایا کہ زیادہ بارش سے دریائے سوات میں پانی کی سطح 77 ہزار 782 کیوسک تک پہنچی، ہوٹل گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا تو سیاح دوسرے راستے سے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ دریا میں پانی کی سطح بڑھنے پر صبح 9 بج کر 45 منٹ پر ریسکیو کو کال کیا گیا، ریسکیو حکام 20 منٹ بعد 10 بج کر 5 منٹ پر واقعے کی جگہ پر پہنچے، پھنسے ہوئے 17 سیاحوں میں سے 4 کو اس وقت ریسکیو کیا گیا، سیلاب کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی نے کمشنر مالاکنڈ سے مزید سوال کیا کہ ایسے واقعات سے بچنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے مستقبل میں کیا ہونا چاہیے۔کمشنر مالاکنڈ نے کہا کہ سیاحت الگ شعبہ ہے، یہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا کام نہیں، سوات میں سیاحت کو اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دیکھنا چاہیے۔

کمیٹی نے سوال کیا کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کو پیشگی جانچنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ اس پر کمشنر مالاکنڈ ڈویڑن عابد وزیر کا کہنا تھا کہ اَرلی وارننگ سسٹم کے لیے کام کر رہے ہیں، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے رابطہ کیا ہے۔

حوالدار لالک جان شہید نشانِ حیدر کا آج 26 واں یومِ شہادت

راولپنڈی(سی ایم لنکس)حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کا آج 26 واں یوم شہادت منایا جارہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سربراہ پاک فضائیہ، نیول چیف اور افواج پاکستان نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق 7 جولائی 1999 کو حوالدار لالک جان نے کارگل جنگ میں دشمن کے حملوں کو بہادری سے پسپا کیا۔لالک جان شدید زخمی ہونے کے باوجود مورچے پر ڈٹے رہے اور جام شہادت نوش کیا۔آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ مسلح افواج اور پوری قوم کو لالک جان شہید کی قربانی پر فخر ہے، ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ لالک جان شہید کا جذبہ آج اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔

دریں اثنا حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کے 26 ویں یوم شہادت پر غذر میں ان کے مزار پر پھول رکھنے کی تقریب ہوئی۔اس موقع پر کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا میجر جنرل سید امتیاز حسین گیلانی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔چاق و چوبند دستے نے حوالدار لالک جان شہید کے مزار پر سلامی دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق 7 جولائی 1999 کو حوالدار لالک جان نے کارگل جنگ میں دشمن کے حملوں کو بہادری سے پسپا کیا۔اس جنگ کے دوران لالک جان شدید زخمی ہونے کے باوجود مورچے پر ڈٹے رہے اور جام شہادت نوش کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
111658

سانحہ سوات ؛ وزیراعلیٰ کا اظہار افسوس اور انکوائری کا حکم؛ جان بحق افراد کیلئے معاوضوں کا اعلان 

Posted on

سانحہ سوات ؛ وزیراعلیٰ کا اظہار افسوس اور انکوائری کا حکم؛ جان بحق افراد کیلئے معاوضوں کا اعلان

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا حکومت نے سوات میں سیلابی ریلوں سے ہونے والی نقصانات اور ریسکیو آپریشن سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے سوات بائی پاس پر جی قربان ہوٹل کے ساتھ 18 افراد اچانک سیلابی ریلے میں پھنس گئے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں تین کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا جبکہ ریسکیو، ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں چھ افراد کی لاشیں نکالی گئیں، ان میں سے نو افراد رپورٹ جاری ہونے تک لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لئے ضلع ملاکنڈ کی حدود تک سرچ آپریشن جاری ہے۔ ان 18 افراد کا تعلق ڈسکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضلعے مردان سے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس ناخوشگوار سانحے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے جاں بحق  افراد کےلئے بھی معاوضوں کا اعلان کیا ہے،

انہوں نے سوات میں ان سیلابی ریلوں سے ہونے والی نقصانات کی رپورٹ طلب کی ہے جبکہ معاملے کی انکوائری کےلئے چیئرمین وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو ہدایات جاری کی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سوات بائی پاس ریلیکس ہوٹل کے مقام پر بھی 10 زائد افراد ڈوبنے کی تصدیق ہوئی ہے، ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے، ریسکیو ٹیموں نے انگرو ڈھیرءسے تین لاشیں برآمد کی ہیں، امام ڈھیر کے مقام پر 22 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے، جنھیں ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت بازیاب کرلیا۔ اسی طرح غالیگے کے علاقے میں سات افراد پھنس گئے تھے، جہاں سرچ آپریشن کے ذریعے ایک لاش برآمد کی گئی اور باقیوں کی تلاش جاری ہے۔

اسی طرح مانیار میں بھی سات افراد کے پھنسے کی اطلاع ہے، جہاں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے، پنجیگرام کے علاقے میں ایک شخص سیلابی ریلے میں پھنسا ہوا ہے جس کو ریسکیو کرنے کےلئے کاروائی جاری ہے۔ اسی طرح برہ باما خیل مٹہ میں سیلابی ریلے میں پھنسے 20 سے 30 افراد کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بائی پاس روڈ پر دریائے سوات کے مختلف مقامات پر مجموعی طور پر75 افراد پھنس گئے تھے، بروقت ریسکیو آپریشن کے ذریعے ان میں سے 58 افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ آٹھ لاشیں برآمد کی گئیں اور رپورٹ جاری ہونے تک کل 10 افراد لاپتہ ہیں۔ اس وقت سوات کے آٹھ مختلف مقامات پر ریسکیو آپریشن جاری ہیں، جن میں 105 ریسکیو عملہ حصہ لے رہے ہیں، سیلابی ریلے انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کاسامنا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کےلئے دریائے سوات کے آس پاس تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئیں ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کی وجہ سے کسی بھی نقصان سے بچنے کےلئے صوبہ بھر میں دریاو ¿ں میں تفریحی سرگرمیوں پر دفعہ 144 کے تحت پہلے سے پابندی عائد ہے جبکہ مقامی انتظامیہ نے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سیاحوں اور عوام کو آبی گزر گاہوں سے دور رہنے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کےلئے وسیع پیمانے پر آگہی مہم چلائی ہے۔ صوبائی حکومت نے سیاحوں اور عوام سے دوبارہ اپیل ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کےلئے دریاو ¿ں کے اندر جانے سے گریز کریں، اور انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
111315