The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دھڑکنوں کی زبان – “سارے رشتے خراج مانگتے ہیں”. – محمد جاوید حیات 

دھڑکنوں کی زبان – “سارے رشتے خراج مانگتے ہیں”. – محمد جاوید حیات

لفظ “انسان” انس سے نکلا ہے، اور انس کا معنی محبت ہے۔ انسان ایسی مخلوق ہے جو اکٹھا رہے، آپس میں تعلق جوڑے اور محبت سے رہے۔ کھوار زبان میں ایک ضرب المثل ہے کہ پرندہ اپنے پروں کے سہارے زندہ رہتا ہے اور انسان اپنے رشتوں کے سہارے۔ بات ایک حد تک سچ بھی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اچھے خاصے رشتے بھی بغیر مطلب، لالچ اور طمع کے نہیں نبھائے جاتے۔

فخرِ موجودات ﷺ کی زبانِ مبارک سے جب توحید اور حق کی آواز بلند ہوئی تو ان کے خاندان کے ہی کئی بااثر افراد ان کی مخالفت پر اتر آئے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ رشتوں کے یہ گھناونے خراج ہابیل اور قابیل سے شروع ہوئے اور آج تک جاری ہیں۔ رشتے مفادات پر قربان ہوتے رہے ہیں، لالچ کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔ اقتدار کی لالچ نے بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون کرایا۔ باپ نے بیٹوں کو راہ سے ہٹایا ہے، ماں نے بیٹیوں کو کچلا ہے، بیٹے نے باپ کا گلا کاٹا ہے۔ یہی ان رشتوں کی تاریخ ہے۔

رشتے بہت کم احترام کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں۔ جتنی ان کی اہمیت بیان کی جاتی ہے، اتنی ہی ان کی حیثیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ سگی ماں کے دو بیٹے ہوں، ایک ڈاکٹر اور دوسرا بے روزگار ہو، تو ماں جی ڈاکٹر کو بیٹا (ژاؤ) اور بے روزگار کو لونڈا (ڈق) کہہ کر یاد کرتی ہے۔ بیٹا لفظ احترام کا حامل ہوتا ہے اور لونڈا بے احترامی کا۔ ماں سے زیادہ عظیم رشتہ کون سا ہوگا؟ وہ بھی گویا خراج مانگتا ہے کہ بیٹا ایسا ہو جس سے امیدیں وابستہ ہوں۔

باپ بیٹوں میں فرق کرتا ہے، جس میں لالچ اور مفادات کی آمیزش شامل ہوتی ہے، تابعداری بہت بعد میں آتی ہے۔ دوستی کے رشتے کا صرف ایک یا عشاریہ ایک فیصد حصہ بے لوث ہوتا ہے، اسی لیے دوستی کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ دوست وہ ہے جو مصیبت میں کام آئے۔

خون کے رشتوں میں سب سے خطرناک رشتہ بہن بھائیوں کا ہے۔ یہ رشتے جتنے مضبوط ہوتے ہیں اتنے ہی کمزور بھی۔ بھائیوں میں اگر کسی لحاظ سے مرتبے یا مقام کا فرق ہو تو یہ رشتہ خوفناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی وجہ سے بڑے چھوٹے کا فرق مٹ جاتا ہے، فاصلے بڑھتے ہیں اور نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ قریب رہ کر بھی بہت سی دوریاں اور شکستگیاں جنم لیتی ہیں۔ مرتبے کے ہاتھوں رشتہ مٹ جاتا ہے۔

یہ دنیاوی حیثیت ایک ڈرامہ ہے، ایک دھول ہے جو آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ بے حیثیت بھائی مرتبے والے کو بھائی کہتے ہوئے لرز جاتا ہے، سہم جاتا ہے کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے، اور مرتبے والا بھائی دوسرے کو بھائی کہنے میں احتیاط کرتا ہے کہ کہیں اپنے مرتبے سے گر نہ جائے۔ وہ اس رشتے کو اپنے لیے توہین سمجھتا ہے۔

خون کے رشتے بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ یہ خراج نہیں، وفا مانگتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو بہن بھائی کے سگے رشتوں کے بغیر مبعوث فرمایا۔ بہن بھائی کا رشتہ بھی اکثر ناپائیدار ثابت ہوتا ہے۔ مخالفت پر آ جائے تو سگی بہن بھی ماں جائی نہیں بلکہ پرائی ہو جاتی ہے۔

یہ سارے رشتے حقیقت میں خراج مانگتے ہیں: احترام، مدد، حمایت، تابعداری، قبولیت، برداشت اور صبر کا خراج۔ اگر رشتہ نبھانا ہے تو یہ سب کچھ کرنا ہوگا۔ اگر بھائی کا رشتہ نبھانا ہے تو اس کی ہر کج روی کو قبول کرنا ہوگا۔ تمہارے لیے اس کی ہر برائی اچھائی، ہر جھوٹ سچ اور ہر بے رخی حمایت بنانی ہوگی۔ بہن کو بہن کہنے میں بہت ہمت درکار ہوگی، اور اس کے ساتھ وفا کی راہوں پر چلنا ہوگا، چاہے ان راہوں میں جگہ جگہ کانٹے ہی کیوں نہ بچھے ہوں۔

ماں باپ کے ساتھ رشتے میں یہ سب بھولنا ہوگا کہ ان کے نزدیک تمہاری کیا اہمیت ہے۔ بچوں کے رشتے میں اس فرق کو مٹانا ہوگا جو مرتبے کی بنیاد پر ہو۔ اسلام نے رشتوں کی اہمیت کو بہت اجاگر کیا ہے۔ ہر رشتے کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ قرآن میں ماں باپ، اولاد، میاں بیوی اور بھائی کا کسی نہ کسی حوالے سے ذکر موجود ہے۔ رسولِ مہربان ﷺ نے سارے رشتے نبھا کر دکھائے۔

اگر رشتے بے لوث نہ ہوں تو ان کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، اور رشتہ دار ایک دوسرے کو رشتہ دار کہنے سے کترانے لگتے ہیں۔ جب معاشرے سے اقدار مٹنے لگیں تو رشتوں کی اہمیت خود بخود ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک افراتفری جنم لیتی ہے۔ خاندان، جو انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی اور تربیت کی درسگاہ ہے، مٹ جاتا ہے۔ اگر خاندان مٹ جائے تو قومیں اپنی اصل شناخت کھو دیتی ہیں۔

قرآن نے شعوب اور قبائل کو آپس کی پہچان قرار دیا ہے، اور یہ شعوب و قبائل رشتوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ یہی ایک دوسرے کی پہچان ہیں۔ اگر رشتوں کی بنیادیں ہل جائیں تو انسان بکھر جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہر رشتہ بے لوث محبت، خلوص اور احترام کی بنیاد پر قائم ہو، تب ہی اسے نبھایا جا سکتا ہے، ورنہ یہ خراج مانگتا ہوا بے معنی بن کر رہ جاتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117248