متوقع ضمنی انتخابات: سابق ایم این اے افتخار الدین کے نام ایک خط ۔ تحریر: احتشام الرحمن
متوقع ضمنی انتخابات: سابق ایم این اے افتخار الدین کے نام ایک خط ۔ تحریر: احتشام الرحمن
محترم افتخار الدین صاحب،
آپ کے بارے میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ آپ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ ایک اور بیان میں آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ آپ نے سیاست کے لیے اپنا کیریئر قربان کر دیا۔ آپ اپنے والد محترم کی طرح سیاست کے ذریعے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی بات اگرچہ مایوس کن ہے، لیکن دوسری بات خوش آئند ہے کہ کوئی واقعی چترال کی خدمت کے جذبے سے میدان سیاست میں موجود ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نہ صرف دیانت دار ہیں بلکہ قابل اور باصلاحیت بھی ہیں۔ یہ دونوں صفات کسی بھی سیاسی خدمت کے لیے ناگزیر ہیں۔ ایک صفت کی عدم موجودگی میں دوسری اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے۔ مثال کے طور پر، مولانا عبدالاکبر چترالی جیسے دیانت دار اور نیک سیرت ایم این اے شاید ہی پیدا ہوئے ہوں۔ ان پر ان کے بدترین مخالفین بھی ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح، سابق ایم پی اے مولانا جہانگیر صاحب ایک بزرگ منش اور بااخلاق انسان تھے، مگر وہ صلاحیتوں کی کمی اور اپنی سادگی کے باعث وہ خدمت نہ کر سکے جس کی ان سے توقع تھی۔ اس کے برعکس، آپ میں دیانت اور قابلیت دونوں موجود ہیں، جن کی بنیاد پر آپ چترال کی بھرپور خدمت کر سکتے ہیں۔ تاہم، چند ایسی وجوہات ہیں جو آپ کی سیاسی کامیابی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان کے تدارک کے لیے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1. زمینی حقائق سے آگاہی:
سیاست میں اصول سے زیادہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی ترتیب دینا پڑتی ہے۔ اس ضمن میں آپ کے والد محترم، جناب محی الدین صاحب، ایک بہترین مثال ہیں۔ وہ ایک زیرک، دور اندیش اور مدبر سیاست دان تھے، جو سیاسی حریفوں کو بھی زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ میں جو کمی محسوس کی جاتی ہے وہ زمینی حقائق سے ناواقفیت ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ مردم شناس نہیں۔ آپ کے اردگرد ایسے افراد موجود ہیں جو اگرچہ آپ سے مخلص ہو سکتے ہیں، مگر سیاسی بصیرت سے محروم ہیں۔
2. عوام سے تعلق کا فقدان:
آپ کے والد محترم کا عوام سے گہرا اور مسلسل تعلق تھا۔ وہ سال کے بارہ مہینے لوگوں کے غم و خوشی میں شریک رہتے تھے۔ یارخون اور ارندو جیسے دور دراز علاقوں میں بھی وہ تعزیت کے لیے خود جاتے تھے۔ اس کے برعکس، آپ کا عوام سے تعلق صرف انتخابات کے دنوں تک محدود رہتا ہے، جس کے بعد ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر ذاتی طور پر ملاقات ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک فون کال سے ہی عوامی رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
3. قریبی ساتھیوں کے غلط مشوروں کا اثر:
آپ کے قریبی مشیر آپ کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ آپ کے “اپنے ووٹ” کافی ہیں، حالانکہ حالیہ انتخابات میں کٹورے قبیلے کے اکثر افراد نے بھی آپ کو ووٹ نہیں دیا۔ جو ووٹ آپ کو ملے، وہ نہ نون لیگ کے تھے اور نہ ہی ذاتی طور پر آپ کے۔ یہ دراصل آپ کے والد صاحب کے نام اور خدمات کا صلہ تھے۔ لیکن ان کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ آپ کا اپنے والد کے قریبی رفقاء اور دوستوں سے فاصلہ ہے۔
4. محترم محئی الدین صاحب کے نقش قدم پر چلنا کامیابی کی کنجی:
آپ کے والد محترم کے بارے میں مشہور تھا کہ ایک بار جس شخص سے ملتے، اس کا نام، والدیت، علاقہ اور چہرہ برسوں بعد بھی یاد رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ انہیں قومیت یا علاقے سے بالا تر ہو کر ووٹ دیتے تھے۔ اگر آپ صرف اپنی برادری پر انحصار کریں گے تو کامیابی ممکن نہیں۔ آپ کا اپنی برادری سے جڑا رہنا قابلِ فہم ہے، مگر چترال کے دیگر طبقات سے رابطہ آپ کی سیاسی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ آپ کو اپنی قوم اور برادری کے لوگوں سے زیادہ عوام کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ تعلق اور رشتہ صرف اُن کے دکھ سکھ میں شریک ہو کر ہی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات اصول پسندی سے وقتی لچک دکھا کر اُن کے کام آنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر سیاسی کامیابی درکار ہو تو ایسے کڑوے گھونٹ بھی حکمت کے تحت پی لینے ہوں گے۔
5. سیاسی حکمت عملی:
2013 میں آپ کی کامیابی پرویز مشرف کی مقبولیت کا نتیجہ تھی، اسے ذاتی مقبولیت سمجھنا خام خیالی ہوگی۔ آئندہ کامیابی کے لیے دو اہم اقدامات درکار ہیں:
(الف) عوام سے مسلسل رابطہ
(ب) نون لیگ سے علیحدگی اختیار کر کے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا۔
آپ کو نواز شریف صاحب سے ملاقات کر کے صورتِ حال واضح کرنی چاہیے کہ موجودہ سیاسی تناظر میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا ہی چترال کے مفاد میں بہتر ہے۔ جیت کے بعد دوبارہ نون لیگ میں شمولیت ممکن ہے، اور آپ جیسی سیاسی فہم رکھنے والی شخصیت انہیں قائل کر سکتی ہے۔
6. سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ اور متوقع ضمنی انتخابات میں لائحہ عمل:
عبدالطیف صاحب کی ممکنہ نااہلی کے پیش نظر اگر ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو آپ کی شرکت نہایت اہمیت کی حامل ہو گی۔ چترال کے سیاسی، معاشی اور انتظامی تناظر میں آپ جیسا باخبر، متحرک اور خدمت کا عزم رکھنے والا فرد ہی حقیقی قیادت کا متقاضی ہے۔ اگر کسی وجہ سے آپ اس انتخاب میں براہ راست حصہ لینے کا فیصلہ نہ کریں تو گزارش ہے کہ چترال کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلحہ محمود صاحب کی حمایت پر غور فرمائیں۔ اگرچہ آپ کے ان سے بعض امور پر اختلافات اپنی جگہ بجا ہوں گے، لیکن بعض اوقات قومی و مقامی مفاد میں سیاسی لچک اور حکمت عملی کی بنیاد پر فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ یہ ہی وہ موقع ہوتا ہے جب قیادت کا اصل ظرف ظاہر ہوتا ہے۔
مختصرا یہ کہ چترال کو اس وقت ایک متوازن، بالغ نظر اور مضبوط نمائندگی کی ضرورت ہے، اور موجودہ منظرنامے میں، آپ کے بعد طلحہ محمود صاحب ہی وہ متبادل ہیں جو یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے کسی ایسے امیدوار کی حمایت جو اہلیت، تجربے یا عوامی تائید سے محروم ہو، نہ صرف آپ کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ چترال کے اجتماعی مفاد کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ یا تو آپ خود میدان میں اتریں، یا پھر چترال کے بہترین مفاد میں دانشمندانہ اور بصیرت افروز فیصلہ کرتے ہوئے طلحہ محمود کی حمایت کریں۔
ادارے کا صاحب مضمون کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !