The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید

راولپنڈی(چترال ٹائمزرپورٹ) آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ فاضل جج نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 342کے بیان کیلئے سوالنامہ اور اسٹیٹمینٹس کی کاپیاں فراہم کیں -سوالنامے میں ملزمان سے تقریبا 36 سوالوں کے جواب مانگے گئے۔ دونوں سیاسی رہنماؤں نے خود جوابات لکھوائے۔342 کا بیان قلمبند کرنے کے بعد جج نے سزا سنانے سے پہلے آخری سوال پوچھا عمران خان صاحب سائفر کہاں گیا؟بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا، میں نے اپنے بیان میں لکھوا دیا ہے، وزیراعظم آفس کی سیکیورٹی میری ذمہ داری نہیں تھی۔عدالت نے شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کرانے سے قبل ہی بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو جرم ثابت ہونے پر قید کی سزا سنادی۔فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی مسکراتے رہے جبکہ شاہ محمود قریشی نے احتجاج کیا کہ میرا تو ابھی بیان ہی ریکارڈ نہیں ہوا۔واضح رہے کہ عمران خان کو سزا سے نو روز قبل 10 سال کی سزا سنائی گئی جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی 5 جولائی 2018ء کو دس سال کی ہی سزا سنائی گئی اور انہیں یہ سزا 2018 کے عام انتخابات سے 20 روز قبل سزا سنائی گئی۔

سپریم کورٹ سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، بیرسٹر گوہر

راولپنڈی(سی ایم لنکس)تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جج نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا حق دفاع ختم کرکے سرکاری وکیل لگا دیے، دونوں کو سرکاری وکلاء پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں خان صاحب کے کیسز چل رہے ہیں، دو عدالتیں لگائی گئیں، انصاف کا قتل ہوتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائفر ٹرائل پر جج نے علیحدہ عدالت لگا کر خان صاحب کو بلایا، جبکہ خان صاحب پہلی عدالت میں تھے، دوسری عدالت میں کیسے جا سکتے تھے۔جج صاحب نے اپنے لگائے گئے وکلاء کو خان صاحب اور شاہ محمود کے لیے مختص کر دیا، خان صاحب اور شاہ محمود قریشی کو جج کے لگائے گئے وکلاء پر اعتماد نہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے استدعا یے کہ سوموٹو لیا جائے، عمران خان کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، اللّٰہ اس کو مٹنے نہیں دے گا، ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف دلوایا جائے، عدلیہ سے التماس ہے کہ اس کا تدارک کیا جائے، آئینی تقاضے پورے کیے جائیں، ہم عدالت کے سوا کس کے پاس جائیں، جو بھی جرم ہے مگر حق دفاع کا حق نہیں لینا چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی کا سائفر کیس کی کارروائی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)تحریک انصاف کے بانی نے سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم کی جانب سے آج کارروائی عدالت میں چیلنج کی جائے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ آج ہائیکورٹ میں کارروائی چیلنج کریں گے اور چیف جسٹس سے جلد سماعت کی استدعا کریں گے۔واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے۔علاوہ ازیں توشہ خانہ نیب کیس کی کارروائی بھی ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔

بانیء پی ٹی آئی کا سائفر کیس میں دیا 342 کا بیان سامنے آگیا

راولپنڈی(سی ایم لنکس)بانیء پی ٹی آئی کا سائفر کیس میں دیا 342 کا بیان سامنے آگیا۔بانی پی ٹی آئی نے خصوصی عدالت کے روبرو 342 کا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ سائفر میرے آفس میں تھا، ذمہ داری پرنسپل سیکریٹری اور ملٹری سیکریٹری کی ہوتی ہے، بتانا چاہتا ہوں کہ اصل سازش کیسے ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ساڑھے3 سال کے دوران بطور وزیراعظم صرف سائفرکی ایک دستاویزغائب ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفرگمشدگی پرملٹری سیکریٹری سے کہا کہ اس کی انکوائری کرو جس پر ملٹری سیکریٹری نیکہا انکوائری کی، سائفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 2 کروڑ 30 لاکھ ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا، منتخب وزیراعظم کیخلاف سازش میں جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو شامل تھے، حسین حقانی نے جنرل باجوہ کے کہنے پرمیرے خلاف لابنگ کی۔عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جنرل باجوہ سے ملاقات کیلئے تین رکنی کمیٹی بنائی، کمیٹی میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویزخٹک شامل تھے، جنرل باجوہ نے کمیٹی کو کہااپنی سمت درست کرو ورنہ 12 سال کیلئے اندرجاؤ گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ روس سے واپس آیاتوشاہ محمودقریشی نیمجھے سائفرپیغام سیآگاہ کیا، اس دوران میری باجوہ سیمتعدد ملاقاتیں ہوئیں جس میں باجوہ سے کہا اگر حکومت گرائی گئی تو پاکستانی معیشت ڈوب جائے گی اور سیاسی عدم استحکام آنیوالی حکومت نہیں سنبھال سکے گی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جلسے میں جو کاپی لہرائی وہ سائفر کی پیرا فریز کاپی تھی، 22اگست کو ایوان صدر میں میری جنرل باجوہ سے پھر ملاقات ہوئی جس میں جنرل باجوہ نے کہاسائفر پر بات نہ کرو، جنرل باجوہ نیکہا میرجعفر، میرصادق کہنا بند کرو، باجوہ نے کہا تمہارے اوپر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگو ہوگا۔

ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے، علیمہ خان

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔علیمہ خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانیء پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی، اسٹیٹ کونسل، بانیء پی ٹی آئی کی بہنیں، شاہ محمود قریشی کے اہلِ خانہ، میڈیا کے نمائندے اور عام افراد بھی کورٹ روم میں موجود تھے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
84764

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور

Posted on

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سپریم کورٹ نے سائفر کیس سابق چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔عدالت نے دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض پی ٹی آئی کے سابق چئیرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور کی۔سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سائفرکیس میں سابق چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے۔نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کردیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے۔سابق چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نیموقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے۔ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ٹرائل جلد مکمل نہ ہو۔اکتوبر 23 کو چارج لگانے کی کارروائی ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے۔ ابھی اس حکم کو ختم کردیں تو کیا ہوگا۔ التوا مانگ رہے ہیں تو پھر دونوں مقدمات میں ہوگا۔پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی 40 مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری منظور ہوچکی ہے۔کسی بھی سیاسی لیڈر کیخلاف ایک شہر میں 40 مقدمات درج نہیں ہوئے۔ جس انداز میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مقدمات درج کر رہے ہیں اسے رکنا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ پر سائفر کا مقدمہ چل رہا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ سائفر حساس دستاویز تھا جسے عوامی سطح پر شیئر کیا گیا۔ سائفر حساس کوڈڈ دستاویزتھا۔دفتر خارجہ کوڈڈ سائفر وزیر اعظم کو کیسے دے سکتا تھا۔اعظم خان کے بیان میں واضح ہے کہ وزیراعظم کے پاس موجود دستاویز سائفر نہیں تھی۔اصل سائفر تو آج بھی دفتر خارجہ میں ہی ہوگا۔ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس میں کہا سائفر کیس میں 13 دسمبر کی فردجرم چیلنج ہی نہیں کی گئی۔ سائفر وزیر اعظم کو دینے کا کیا طریقہ کار ہے۔کیس یہ ہے کہ حساس معلومات شئیر کی گئی۔یہ بات ذہن نشین کر لیں نہ ہم سائفر کیس میں ٹرائل کر رہے ہیں اور نہ ہی اپیل سن رہے ہیں۔ہمارے سامنے ضمانت کا کیس ہے۔عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 5 اگست جبکہ سائفر کیس میں 15 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی کو 20 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔13 دسمبر 2023 کو خصوصی عدالت نے آفیشل سیکرٹ کے تحت سابق عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں ایک بار پھر فرد جرم عائد کی تھی۔ اس سے قبل دونوں پر 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 نومبر کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے قانونی تقاضوں کے ساتھ ازسرنو ٹرائل کا حکم دیا تھا جس کے بعد اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیکفیشن جاری ہوا۔دریں اثنا سائفر کیس میں ضمانت کے باوجود بانی چیئرمین پی ٹی آئی رہا نہیں ہوسکیں گے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ وہ پی ٹی آئی توشہ خانہ نیب کیس میں بھی گرفتار ہیں۔عمران خان کو ان دونوں کیسز میں بھی ضمانت حاصل کرنا لازمی ہے نیب کے دونوں کیسز میں ضمانت ملنے تک وہ جیل میں ہی رہیں گے۔عمران خان کی 27 دسمبر کو توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوگی جو کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر جیل کے روبرو ہوگی۔

بانیء پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں چارج شیٹ کیخلاف درخواست غیر مو ثر ہونے پر خارج

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانیء پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیر مو ثر ہونے پر خارج کر دی۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بینچ کا حصہ تھے۔دورانِ سماعت بانیء پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ اسپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟بانیء پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف ا?ج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے۔وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فردِ جرم کے خلاف ہے۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعود نے کہا کہ جو فردِ جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کر چکی ہے، نئی فردِ جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعودنے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیر مو ثر ہو چکی ہے، نئی فردِ جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہو گا کہ آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔بانیء پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہو جائے، شام 6 بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعودنے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا ہے تو آپ کو اعتراض ہے، فردِ جرم والی درخواست غیر مو ثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں۔بانیء پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے، اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائی کورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟اس موقع پر سائفر کیس میں ضمانت پر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر نوٹس نہیں ہوئے۔عدالتِ عظمیٰ نے شاہ محمود قریشی کی درخواستِ ضمانت پر ریاست کو نوٹس جاری کر دیا۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعودنے کہا کہ پراسیکیوشن عدالت میں ہے تو آج ہی کے لیے ریاست کو نوٹس کر رہے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سائفر کیس میں 13 دسمبر کی فردِ جرم چیلنج ہی نہیں کی گئی۔وکیل حامد خان نے پھر استدعا کی کہ آج کی ہائی کورٹ کارروائی کا انتظار کیا جائے۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعودنے کہا کہ ہائی کورٹ بری کر دے تو بھی اس درخواست پر کچھ نہیں ہو سکتا، فردِ جرم کے خلاف درخواست غیر مو ثر ہو چکی ہے۔وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ آج التواء دے دیں، آئندہ سماعت پر شاید واپس لے لوں۔قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعودنے کہا کہ کیس ملتوی ہوا تو ضمانت والا بھی ساتھ ہی ہو گا۔عدالتِ عظمیٰ نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83334