The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 21 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

زیارتِ حرمین شریفین (۳) – صفا مروہ کی باتیں اور غار ثور کا تذکرہ – سہیل انجم

زیارتِ حرمین شریفین (۳) – صفا مروہ کی باتیں اور غار ثور کا تذکرہ – سہیل انجم

عمرہ کا طواف مکمل کرنے اور دو رکعت نماز ادا کی ادائیگی کے بعد زمزم سے سیرابی حاصل کی گئی۔ حرمین میں زمزم دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک بالکل ٹھنڈا اور دوسرا نارمل۔ نارمل والے کین پر انگریزی میں ناٹ کولڈ (Not Cold) لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ٹھنڈا پانی پینے کی عادت نہیں تو آپ کو وہی زمزم پینا چاہیے ورنہ اگر آپ نے غلطی سے بھی ٹھنڈا زمزم پی لیا تو نزلہ زکام اس طرح آپ کو جکڑ لے گا کہ وطن واپسی کے بعد بھی جلد رہائی نہیں ملے گی۔ جو لوگ اس سے واقف ہیں وہ ناٹ کولڈ والا زمزم پیتے ہیں۔ ہم نے سختی سے اپنے لوگوں کو ٹھنڈا پانی پینے سے منع کر رکھا تھا۔ پھر بھی بیشتر لوگ بیمار پڑ گئے۔ جو وہاں بچ گئے وہ یہاں آکر صاحب فراش ہو گئے۔ پھر سعی کرنے کے لیے ہم لوگ صفا و مروہ پہاڑیوں کی جانب بڑھے۔سعی صفا پہاڑی سے شروع کی جاتی ہے۔ وہاں کعبہ کی طرف رخ کرکے دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر مروہ کی طرف کوچ کیا جاتا ہے۔ مردوں کو درمیان میں تھوڑا تیز قدموں سے یا دوڑنا ہوتا ہے۔ عورتوں کو دوڑنے کی اجازت نہیں۔ دوڑنے والے مقام پر انتظامیہ کی جانب سے گرین لائٹس لگا دی گئی ہیں۔ مروہ پر پہنچنے کے بعد وہاں بھی دعا پڑھی جاتی ہے۔ ویسے آپ سعی کے دوران مسلسل دعائیں پڑھ سکتے ہیں۔ ساتواں چکر مروہ پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ایک چکر میں کم از کم دس منٹ لگتے ہیں۔ اس طرح سعی میں ہر حال میں ایک گھنٹہ لگنا ہے۔ چونکہ وہاں کافی تعمیرات و توسیعات ہوئی ہیں اس لیے صفا پہاڑی چھوٹی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے چاروں طرف شیشے کی دیوار کھڑی کر کے اسے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ البتہ مروہ پہاڑی بالکل فرش کے برابر ہو گئی ہے۔ اس کو بھی گھیر دیا گیا ہے۔ دونوں پہاڑیوں پر پینٹ کر دیا گیا ہے۔
اس راہداری میں بھی چوبیس گھنٹے فل اے سی چلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے کافی ٹھنڈ رہتی ہے۔ سعی کرنے کے لیے دو منزلیں اور بنا دی گئی ہیں۔ لیکن بیشتر لوگ طواف کرکے نکلتے ہیں اور گراؤنڈ فلور پر سعی کرنے لگتے ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر درمیان میں وھیل چیئر کے لیے جگہ مخصوص کر دی گئی ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ پیدل والی راہداری پر وھیل چیئر لے کر آتے ہیں جس سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اوپری منزلوں پر وھیل چیئر کے علاوہ الیکٹرک گاڑی بھی ملتی ہے۔ دو سیٹ والی اس گاڑی کا کرایہ ڈھائی سو ریال ہے۔ کچھ لوگ اس کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ وھیل چیئر یا تو ساتھ میں جانے والا کوئی دھکیلتا ہوا لے جاتا ہے یا پھر آپ وہاں کے کارکنوں سے بھی بعوض معاوضہ یہ کام لے سکتے ہیں۔ پہلی منزل پر سعی کرتے وقت ہم نے دیکھا کہ حرم کے تین کارکن ایک ساتھ ایک ایک وھیل چیئر دھکیل رہے ہیں جن پر خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ دو خواتین کچھ معمر تھیں جبکہ ایک نسبتاً کم عمر تھی۔ درمیان میں ایک عرب دعائیں پڑھتا ہوا چل رہا تھا۔ معمر خواتین تو خاموشی سے بیٹھی تھیں ممکن ہے کہ دل ہی دل میں دعاؤں پر آمین کہہ رہی ہوں۔ لیکن تیسری خاتون موبائیل سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ مطاف اور سعی کی راہداری میں بیچ بیچ میں صفائی کا کام بھی چلتا رہتا ہے۔ کبھی چند افراد صفائی کرتے ہیں اور کبھی بہت بڑا گروپ آتا ہے جس میں پانچ چھ افراد گاڑیاں چلاتے ہوئے آتے ہیں۔ باقی پانی ڈالتے اور وائپر سے صفائی کرتے ہیں۔ وہ اتنی تیزی سے کام کرتے ہیں کہ جدھر سے گزرتے ہیں ایک طوفان سا اٹھ جاتا ہے۔ چند منٹوں کے بعد طوفان ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ پہلی منزل پر ایک بار ہم نے دیکھا کہ صفائی کے بعد جب گاڑیاں آگے نکل گئیں تو کہیں کہیں ذرا ذرا سا پانی بچا ہوا تھا۔ حالانکہ ان کی گاڑیوں میں فٹ برش والا پونچھا فرش کو پوری طرح خشک کر دیتا ہے پھر بھی کہیں کہیں کچھ رہ جاتا ہے۔ ایک زائر وہیں درمیان میں لگی سبیل پر پانی پینے گئے اور پھسل کر اتنی بری طرح گرے کہ اٹھنا مشکل ہو گیا۔ جب دو ایک صفائی ملازمین نے پکڑ کر انھیں اٹھایا تب وہ بڑی مشکل سے اٹھ سکے۔ لہٰذا زائرین کو چاہیے کہ وہ صفائی کے وقت ذرا ہوشیار رہیں۔
 ہم لوگوں نے تین عمرے کیے۔ دو میں گراؤنڈ فلور سے سعی کی اور تیسرے میں پہلی منزل سے۔ پہلی اور دوسری منزل پر ٹھنڈ کی وجہ سے پیر کے تلوے سرخ ہو جاتے ہیں۔ ٹھنڈ سے بچاؤ کے لیے بہت سی خواتین جرابیں اورجوتیاں پہنتی ہیں جبکہ بہت سے مرد حضرات نئی چپلیں استعمال کرتے ہیں۔ زائرین کو چاہیے کہ وہ بطور احتیاط نئی چپل ضرور لے لیں اور اسے اپنے پٹھو بیگ میں ڈالے رہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اور فرش کی سردی دماغ پر نہ چڑھنے پائے۔ پہلی اور دوسری منزل پر کم رش ہوتا ہے۔ مروہ پر جب سات چکر مکمل ہو جاتے ہیں تو اسی طرف سے باہر نکلنے کا راستہ ہے۔ باہر مرد و خواتین کے لیے حمام بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ بہت بڑا میدان بھی ہے جسے صحن کہہ سکتے ہیں۔ وہ باب السلام کی سمت ہے۔ جو حجاج عزیزیہ میں قیام کرتے ہیں ان کی بس اسی طرف آتی ہے اور وہ وہیں سے حرم میں داخل ہوتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں جو بیت الخلا بنا ہوا ہے وہیں ابو جہل کا گھر تھا۔ اس لیے بہت سے لوگ اسے ابو جہل بیت الخلا بھی کہتے ہیں۔ اس سے تھوڑی دور اللہ کے رسول ﷺ کی جائے پیدائش بتائی جاتی ہے۔
پہلے جب اتنی توسیع نہیں ہوئی تھی تو مروہ سے نکلتے ہی مارکیٹ ہوا کرتا تھا جہاں حجاموں کی دکانیں قطار اندر قطار بنی ہوئی تھیں۔ ہم نے 2006 میں حج کے موقع پر وہاں دکانیں دیکھی تھیں۔ لیکن اب اس مارکیٹ کا نام و نشان نہیں ہے۔ وہاں سے نکل کر دائیں جانب بڑھنے اور صحن کو پار کرنے کے بعد مطاف میں جانے کے لیے اسکیلیٹر اور سیڑھیاں ہیں۔ وہیں برابر میں دو بڑی بڑی لفٹ بھی لگی ہوئی ہیں جو اوپری منزلوں پر لے جاتی ہیں۔ نیچے مطاف کی طرف جانے والے کچھ لوگ وہیں سے اندر چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ وہاں سے جانے میں یہ قباحت ہے کہ آپ کو سعی کی راہداری کو پار کرنا پڑتا ہے۔ اس گیٹ کے بعد باب نبیؐ اور پھر باب اسماعیل ہے۔ باب اسماعیل سے جانا بہتر ہوتا ہے۔کیونکہ ادھر سے جانے میں صفا مروہ کی راہداری کو کراس نہیں کرنا پڑتا۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ تھوڑا آگے بڑھتے ہی زینہ ملتا ہے جو زائرین کو مطاف میں اس جگہ پہنچا دیتا ہے جہاں سے استلام کرکے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ پہلے باب اسماعیل کے پاس سے ہی داخلہ مل جاتا تھا لیکن کرونا کی وبا کے بعد بہت سی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ اب باب اسماعیل سے داخل ہونے کے لیے سامنے لگنے والی لائن سے جانا پڑتا ہے۔ اس سے تھوڑا آگے چلیں گے تو باب عبدالعزیز ہے۔
 بہرحال اگر آپ کو سعی کے بعد حلق یا قصر کرانا ہے تو آپ باب اسماعیل سے ذرا سا آگے بڑھیے وہیں بائیں جانب مکہ ٹاور ہے۔ اس کے کئی بلاک ہیں۔ اوپری منزلوں پر مارکیٹ ہے جہاں بہت سے ہوٹل ہیں۔ اس عمارت کے بیسمنٹ میں بھی مارکیٹ ہے جہاں حجامو ں کی متعدد دکانیں ہیں۔ ٹاور کے سامنے حجاموں کے ایجنٹ گھومتے رہتے ہیں۔ وہ احرام پوش افراد کو دیکھتے ہی حلق اور قصر کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ہاں کہنے پر نیچے دکانوں تک چھوڑ آتے ہیں۔ عام طور پر ایک حلق کرانے کے دس ریال لیتے ہیں۔ کچھ لوگ بارگیننگ کرکے اس سے کم میں بھی کرا لیتے ہیں۔البتہ جب دوبارہ حلق کرانے جائیں اور جب وہ گھٹا ہوا سر دیکھتے ہیں تو پانچ ریال میں ہی حلق کر دیتے ہیں۔ بہرحال ہم لوگوں نے پہلا طواف اور سعی مکمل کر لیا۔ خواتین نے وہیں باہر نکل کر حمام کے پاس بقدر ضرورت اپنے بال کاٹے اور پھر ہم تمام لوگ مکہ ٹاور کی طرف چل پڑے۔ چونکہ ہم لوگ کافی تھک گئے تھے اس لیے حلق کرانے کے بعد وہیں نیچے مارکیٹ سے چائے لے کر پی جس سے جسم میں حرارت پیدا ہوئی اور اس طرح ہم لوگ پہلے عمرے کی ادائیگی کرکے رات میں ڈھائی بجے اپنے ہوٹل پہنچے۔
وہاں رات اور دن میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔ حرم میں ہر جگہ اتنی زیادہ روشنی ہوتی ہے کہ دن کا گمان ہوتا ہے۔ کسی بھی وقت حرم کے آس پاس کی کوئی سڑک یا کوئی راستہ خالی نہیں ملتا۔ اطراف کے سارے راستے زائرین سے کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ آرہے ہیں تو کچھ جا رہے ہیں۔ ہم لوگ باب ملک فہد کی جانب شارع ابراہیم خلیل یا کبوتر چوک کی جانب ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں مستقل دکانوں کے علاوہ فٹ پاتھوں پر عارضی دکانداروں کی بھی بھیڑ رہتی ہے۔ کوئی جبہ فروخت کر رہا ہے تو کوئی پرس، کوئی گھڑی تو کوئی برقع اور کوئی سم کارڈ۔ اگلے روز ہماری دونوں بیٹیوں نے دیکھا کہ کچھ دکانوں پر ”تین ریال تین ریال، ہر مال تین ریال“ کا ریکارڈ بج رہا ہے۔ انھوں نے ایسی کئی دکانوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک دکان سے کچھ اشیا خریدیں۔ دکاندار نے گفتگو کے بعد دو دو ریال کے حساب سے پیسے لیے۔ اس کو معلوم ہوا کہ انڈیا سے آئے ہیں اور دونوں بہنیں ہیں تو جانے کیوں بہت خوش ہوا اور دونوں کو دو دو ریال تحفتہً دیے۔ لیکن اس کے اگلے روز جب ایک گلی سے گزرے تو دیکھا کہ کئی دکانوں پر”ہر مال دو ریال“ کے ریکارڈ بج رہے ہیں۔ یعنی شاہراہ پر ہر مال تین ریال اور گلی میں ہر مال دو ریال۔ وہاں سے بھی کچھ چیزیں خریدی گئیں۔ ان دکانوں پر سستے میں اچھے تحائف مل جاتے ہیں۔
تیسرے روز یعنی تین مئی کو مکہ مکرمہ کے اہم مقامات کی زیارت کرائی گئی۔ مکہ اور مدینہ میں زیارت پیکج میں شامل ہوتی ہے۔ دونوں شہروں میں کچھ مخصوص مقامات ہیں جہاں بسیں لے جائی جاتی ہیں۔ لیکن بہت سی جگہیں چھوٹ جاتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کا کوئی عزیز یا دوست وہاں رہائش پذیر ہو تو آپ اس کے ساتھ بچے ہوئے اہم مقامات کی زیارت کر سکتے ہیں۔ مکہ میں زائرین کی بس سب سے پہلے غار ثور کے دامن میں جاتی ہے۔ یہ پہاڑی مکہ کے دائیں جانب تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت یہاں تین روز قیام کیا تھا۔ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق بھی تھے۔ اسی لیے انھیں یار غار اور ثانی اثنین یعنی دو میں دوسرا بھی کہا جاتا ہے۔ اس غار کا دہانہ بہت تنگ ہے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ اس میں لیٹ کر ہی جایا جا سکتا ہے۔ یہاں آپ کے قیام کے وقت محیر العقول واقعات رونما ہوئے تھے۔ غار کا دہانہ کئی ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓکی کم عمر صاحبزادی کیسے وہاں کھانا لے کر جاتی تھیں۔ گائڈ کے مطابق اب حکومت کی جانب سے وہاں نیچے سے اوپر تک ٹرالی چلانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد زائرین ٹرالی میں بیٹھ کر غار کے دہانے تک جا سکیں گے۔ زیارت کرانے والی ہر بس میں ایک گائڈ بھی ہوتا ہے جو ٹریول کمپنی کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔ گائڈ عام طور پر مولوی ہوتے ہیں۔
غار ثور کے بعد میدان عرفات لے جاتے ہیں۔ وہیں جبل رحمت بھی واقع ہے جس پر کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے خطبہئ حجۃ الوداع دیا تھا۔ اس پر پتھر کی ایک سل جس پر سفید پینٹ کیا ہوا ہے، نصب کر دی گئی ہے۔ بہت سے لوگ وہاں تک جاتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔ عرفات کے میدان میں بس کئی چکر لگاتی ہے۔ وہیں مسجد نمرہ بھی ہے جس میں یوم عرفہ پر حج کا خطبہ دیا جاتا ہے اور ظہر اور عصر کی نمازیں بیک وقت ادا کی جاتی ہیں۔ وہ مسجد سال میں بس اسی ایک ہی دن کے لیے کھلتی ہے۔ اس دن وہاں ایسا رش ہوتا ہے کہ کہیں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔ اس مسجد کا ایک حصہ حدود عرفات سے باہر ہے۔ عرفہ کے روز جو لوگ اس سے ناواقف ہوتے ہیں وہ خالی جگہ دیکھ کر وہاں نماز ادا کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہاں نماز ادا کی گئی تو وہ نماز ادا نہیں ہوتی۔ اسے دوہرانا پڑتا ہے۔ جب ہماری بس وہاں پہنچی تو گائڈ کے اعلان پر با وضو حضرات نے دو رکعت نفل ادا کی۔ اس وقت وہاں پانی کا انتظام نہیں تھا۔ (جاری)
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
75133

زیارتِ حرمین شریفین (۲) – طواف و سعی کی روحانی لذتیں – سہیل انجم

زیارتِ حرمین شریفین (۲) – طواف و سعی کی روحانی لذتیں – سہیل انجم

ہم لوگ رات میں بارہ بجے کے بعد عمرے کی ادائیگی کے لیے حرم شریف کے لیے روانہ ہوئے۔ بارہ بجے کے بعد عموماً رش کم ہو جاتا ہے۔ عمرہ کے لیے جاتے وقت میقاط پر احرام باندھ کر عمرے کی نیت کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی طرف سے جانے والوں کا میقات یلملم نامی مقام ہے۔ جو لوگ خشکی کے راستے جاتے ہیں وہ وہاں احرام باندھتے اور عمرہ کی نیت یا حج کر رہے ہیں تو حج کی نیت کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ بذریعہ طیارہ جاتے ہیں وہ ایئرپورٹ پر ہی احرام باندھ لیتے ہیں۔ حالانکہ اگر آپ سعودی ایئر لائنز سے جائیں تو یلملم آنے سے قبل طیارے کے اندر کیبن کریو کی جانب سے اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ ایئرپورٹ ہی پر احرام باندھ لیں۔ ورنہ خدا نخواستہ طیارے میں اعلان نہیں ہوا یا آپ سو رہے ہیں یا کسی وجہ سے اعلان نہیں سن سکے تو پھر آپ جدہ یا اگر طیارہ مدینہ لینڈ کرنے والا ہے تو مدینہ پہنچ جائیں گے اور احرام نہیں باندھ پائیں گے۔ اس صورت میں آپ کو دم دینا پڑے گا۔ ہم لوگوں نے اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بنے ایک کمرے میں جسے مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں بیت الخلا اور وضو کا بھی انتظام ہے، احرام باندھ لیا تھا۔

ہمارے ساتھ چونکہ پانچ خواتین اور دو کم عمر بچے بھی تھے لہٰذا ہمیں مکہ کے ہوٹل سے حرم شریف تک جانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ورنہ اکیلا شخص دس پندرہ منٹ میں پہنچ سکتا ہے۔ اِدھر سے جانے والے بابِ ملک فہد سے جو کہ 79 نمبر کا گیٹ ہے، حرم شریف میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں سے مطاف تک پہنچنے میں بھی دو چار منٹ لگتے ہیں۔ اب حرمین میں کافی توسیع کر دی گئی ہے۔اندر بھی لوگوں کا ازدہام ملتا ہے۔ بلکہ ہوٹل سے نکلتے ہی یہ سلسلہ چل پڑتا ہے۔ جب ہم حرم کے اندر کافی آگے تک جاتے ہیں تب کہیں جا کر نشیب میں کعبہ دکھائی دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ پر پہلی نگاہ پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے۔ اس لیے زائرین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جب حرم شریف میں داخل ہوں تو نگاہیں نیچی کیے رہیں اور جب مطاف کے بالکل قریب پہنچ جائیں جہاں سیڑھیوں سے نیچے اترنا ہوتا ہے وہاں نگاہ اٹھائیں اور کعبہ پر نظر پڑتے ہی دعائیں مانگیں۔

عام طور پر مصروف ایام میں مطاف میں کافی رش ہوتا ہے۔ پورا مطاف بھرا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم عید الفطر کے فوراً بعد گئے تھے اس لیے بھیڑ کم ہو گئی تھی۔ نصف مطاف خالی تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گراؤنڈ فلور پر اب صرف محرِم لوگوں کو ہی جانے دیا جاتا ہے۔ جو احرام میں نہیں ہیں وہ گراؤنڈ فلور پر نہیں جا سکتے۔ گراؤنڈ فلور پر طواف کے بڑے فوائد ہیں بلکہ بڑی روحانی لذتیں ہیں۔ اسی طرح سعی بھی اگر گراؤنڈ فلور سے کی جائے تو وہاں بھی روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ہاجرہ سامنے کھڑی ہیں اور مسکرا رہی ہیں۔ گراؤنڈ فلور سے طواف کرتے وقت نگاہیں بار بار کعبہ پر جم جاتی ہیں۔ حالانکہ کعبہ کی طرف رخ کرکے طواف کرنے کے بجائے سامنے دیکھ کر طواف کرنا چاہیے۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں۔ اور جب ایسا احساس ہوتا ہے تو پھر طواف کرنے والا عجیب و غریب لذتوں سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ وہ بار بار اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور دوبارہ حاضری کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ ممتاز مفتی نے اپنے سفرنامہئ حج ”لبیک“ میں کعبہ کو اللہ کا کوٹھا لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ میں طواف کرتے وقت جدھر بھی جاتا ادھر ہی اللہ تعالیٰ کوٹھے پر بیٹھا مجھے دیکھتا رہتا۔ مجھے ہر کونے پر اللہ بیٹھا ہوا نظر آتا۔ یہ ممتاز مفتی کا انداز تحریر ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ طواف کرتے وقت ایسا لگتا ہے کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس کا قرب حاصل ہو گیا ہے۔ اسی لیے ہم نے لکھا کہ طواف اور سعی میں بڑی روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ہم نے تو طواف کرتے وقت ایسے ایسے جذباتی مناظر دیکھے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے صفحات کے صفحات درکار ہیں۔

بہرحال ہم لوگوں نے آرام آرام سے طواف کیا اور ذرا دور سے کیا۔ البتہ ایک بار سب ہمت کرکے مقام ابراہیم تک پہنچ گئے اور خوبصورت شیشے کے خول میں بند حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشان دیکھے۔ وہاں ایک پتھر پر دو پاؤں کے نشانات ہیں جو ذرا سے گہرے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی پر کھڑے ہو کر کعبہ کی عمارت تعمیر کی تھی۔ ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر دیتے جاتے اور وہ دیوار چنتے جاتے۔ پہلے مقام ابراہیم کعبہ کے بالکل قریب تھا لیکن لوگوں کی سہولت کے پیش نظر اسے تھوڑا دور کر کے نصب کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے آگے بڑھیے تو حطیم آتا ہے۔ یہ انگریزی کے حرف U یا قوس کی شکل کا ہے۔ وہ حصہ بھی پہلے کعبہ ہی میں شامل تھا۔ کتابوں میں درج ہے کہ ایک بار مکہ میں زبردست سیلاب آیا جس کے نتیجے میں کعبہ کی عمارت ڈھے گئی تھی۔ وہاں کے مکینوں نے اس کو دوبارہ تعمیر کیا لیکن سرمایے کی قلت کی وجہ سے کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا۔ اسی کو حطیم کہتے ہیں۔ اب قد آدم دیوار اٹھا کر اسے گھیر دیا گیا ہے۔ حطیم میں نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ آپ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ پہلے دیوار نیچی تھی اور اس میں نماز کی اجازت تھی۔ خود ہم دو بار اس میں نماز ادا کر چکے ہیں۔ لیکن اب شاید کسی ایک وقت ہی میں وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ اس بار ہم نے کسی بھی وقت اس میں کسی کو نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

حطیم ہی کے حصے میں کعبہ کی چھت سے نکلا ہوا وہ پرنالہ ہے جسے میزابِ رحمت کہا جاتا ہے۔ اگر طواف کے دوران بارش ہونے لگے اور آپ کو میزاب رحمت کے نیچے غسل کرنے یا خود کو بھگو دینے کا شرف حاصل ہو جائے تو سمجھیے کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں۔ حجر اسود والے کونے کے بعد کعبہ کا دروازہ ہے جسے باب کعبہ کہا جاتا ہے۔ کعبہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان کے حصے کو ملتزم کہتے ہیں۔ دروازے کے بعد والے کونے کو جو کہ حطیم کا پہلا حصہ ہے رکن عراقی، حطیم کے بعد والے کونے کو رکن شامی اور اس کے بعد یعنی حجر اسود سے پہلے والے کونے کو رکن یمانی کہا جاتا ہے۔ رکن شامی کے بعد بھیڑ کم ہو جاتی ہے اور زائرین دیوانہ وار کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور اس کا غلاف پکڑ کر چمٹ جاتے ہیں۔ ایک بار ہم لوگوں نے بھی جست لگائی اور کچھ دیر تک غلاف کعبہ سے اپنے ہاتھوں کو مس کرتے رہے۔ سب سے زیادہ بھیڑ حجر اسود والے کونے پر ہوتی ہے جہاں سے استلام کرکے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک ربنا آتنا فی الدنیا والی دعا پڑھی جاتی ہے۔

چونکہ رمضان کے زائر وہاں سے جا چکے تھے اس لیے ہمارے پہنچنے کے وقت کوئی بہت زیادہ بھیڑ نہیں تھی لیکن پھر بھی عام آدمی کے لیے کافی بھیڑ تھی۔ ازدہام کو کنٹرول کرنے کے لیے گارڈوں کی جانب سے بار بار حرم شریف کے اندر جانے کے راستے بدلے جاتے ہیں۔ کبھی یہ گیٹ بند کر دیاگیا تو کبھی وہ گیٹ۔ کبھی بہت دور تک جانے کے بعد حرم میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ بھیڑ کے مواقع پر یا جمعہ کے روز ایک ایک گوشے کو بتدریج بھرا جاتا ہے۔ ایک سمت کے تمام راستے بند کرکے ایک دو راستے کھولے جاتے ہیں۔ وہاں سامنے کی جگہیں پُر کرنے کے بعد بتدریج باقی راستے کھولے جاتے ہیں تاکہ اندر تک خالی جگہیں پُر ہو جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں ایک جگہ بیٹھ جائیں اور دوسرے اطراف میں جگہیں خالی پڑی رہیں اور بعد میں آنے والوں کو دشواریوں کا سامنا ہو۔ جمعہ کے دن ہم لوگ پونے دس بجے ہی حرم میں جا کر صف میں بیٹھ گئے تھے۔ تاخیر کی جاتی تو اندر جگہ نہیں ملتی۔ وہاں کے گارڈ ایسے ہیں کہ اگر ایک بار انھوں نے نہیں بول دیا تو دنیا کی کوئی طاقت ان سے ہاں نہیں کرا سکتی۔ اور چونکہ زائرین اس جگہ کے احترام کے پیش نظر گارڈوں سے بحث نہیں کرتے اس لیے کوئی بدنظمی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ نماز ختم ہوتے ہی سارے گیٹ کھول دیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو باہر نکلنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ان لوگوں کا فارمولہ یہ ہے کہ اندر سے باہر جانے کی جگہ خوب کشادہ رہے لیکن باہر نکلنے کا دروازہ تنگ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسی طرح رش پر قابو پاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر آپ حرم میں ہیں اور نماز سے کچھ پہلے آپ کو دوبارہ وضو کرنے کی حاجت ہوئی اور آپ باہر نکل گئے تو پھر اندر جاپانا مشکل ہو جائے گا۔ آپ کو باہر نماز پڑھنی ہوگی۔ حرم کے چاروں طرف کشادہ صحن ہے۔ بہت سے لوگ وہیں نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہاں چوبیس گھنٹے لوگ پڑے رہتے ہیں۔ اگر آپ حرم کے اندر ہی پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دو دو تین تین گھنٹے تک پیشاب روکنے اور وضو کوبچائے رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ غیر محرِم لوگوں کو اوپری منزلوں پر نماز ادا کرنی پڑتی ہے۔

بہرحال ہم لوگوں نے طواف کے بعد مقام ابراہیم سے ذرا آگے باب فتح کے بورڈ کے نیچے جہاں رش کم ہوتا ہے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر آب زمزم پیا۔ صلوۃِ طواف مقام ابراہیم کے سامنے ادا کرنی چاہیے لیکن علما کا کہناہے کہ بھیڑ کے پیش نظر کہیں بھی دو رکعت نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ مطاف سے طواف کرنے میں کم وقت لگتا ہے لیکن اگر آپ اوپری منزلوں سے یا چھت سے طواف کریں تو اوسط چال میں بھی ایک چکر میں کم سے کم دس پندرہ منٹ لگیں گے۔ یعنی ساتوں چکر مکمل کرنے میں سوا ڈیڑھ اور اگر وہاں بھی بھیڑ ہے تو دو گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس لیے لوگ گراؤنڈ فلور سے طواف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب جبکہ صرف احرام پوش ہی مطاف میں جا سکتے ہیں اس لیے بہت سے لوگ جو عمرہ نہیں بھی کر رہے ہوتے اور نیچے سے طواف کرنا چاہتے ہیں تو وہ یوں ہی احرام باندھ لیتے ہیں اور گراؤنڈ فلور پر چلے جاتے ہیں اور پندرہ بیس منٹ میں طواف کرکے واپس آجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مناسب نہیں ہے۔ گراؤنڈ فلور سے طواف کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو وہیں مطاف میں نماز پڑھنے کا بھی موقع مل جاتا ہے۔ اگر آپ کو کعبہ کے قریب کی صف میں جگہ مل گئی تو آپ نماز کے فوراً بعد غلاف کعبہ سے لپٹ بھی سکتے ہیں۔ دو بار ایسا ہوا کہ ہمیں مطاف میں کعبہ سے چند صفوں کے فاصلے پر نماز ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ ہم لوگوں نے دیکھا کہ سلام پھیرتے ہی اگلی صف کے نمازیوں نے دوڑ لگائی اور پھر وہ غلاف کعبہ سے چمٹ گئے۔

رات میں تین بجے کے آس پاس تہجد کی اذان ہوتی ہے اور اسی وقت سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے۔ آجکل چار بج کر اٹھارہ منٹ پر فجر کی اذان ہو رہی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر نماز فجر کی ادائیگی کے اور ہی مزے ہیں۔ نماز میں جب امام قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو کھلے آسمان کے نیچے ہونے کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کے تلاوت کی آواز آسمان سے بھی آرہی ہے اور زمین سے بھی۔ چاروں سمتوں سے قرآن کی آیات سنائی دیتی ہیں۔ اور جب امام عربی لہجے میں زیر و بم کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تو پھر جو لطف آتا ہے اور جو خشوع و خصوع پیدا ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ تہجد کی اذان ہوتے ہی مطاف میں لوگ صفیں بنانے لگتے ہیں جو بتدریج کعبہ کی جانب آگے بڑھتی جاتی ہیں۔ ادھر طواف بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن چونکہ صفیں آگے بڑھتی جاتی ہیں اس لیے طواف کی جگہ تنگ ہوتی جاتی ہے اور نماز سے عین قبل تو یہ صورت ہوتی ہے کہ صفیں کعبہ تک آراستہ ہو جاتی ہیں اور طواف کرنے والے صفوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ مطاف میں نماز کی ادائیگی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ نماز سے قبل بیٹھے ہوئے آپ حجر اسود سے نگاہیں چار کیجیے کون آپ کو روکے گا۔ بار بار دیکھیے اور خوب دعائیں کیجیے۔ کیا پتہ اللہ کس لمحے میں اور کون سی دعا قبول کر لے۔(جاری)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74870

زیارتِ حرمین شریفین (۱) – سفر کریں سب اسی کی جانب – سہیل انجم

زیارتِ حرمین شریفین (۱) – سفر کریں سب اسی کی جانب – سہیل انجم

اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ فضل و کرم اور شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر اپنے گھر یعنی کعبہ کے طواف، صفا و مروہ کی سعی، کعبہ کے صحن میں جسے مطاف کہتے ہیں نمازوں کی ادائیگی، اسی کے ساتھ شہر نبیؐکے دیدار، مسجد نبوی میں نمازوں کی ادائیگی، اپنے آخری رسول ﷺ کی قبر مبارک پر حاضری اور سلام اور مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے اہم اور تاریخی مقامات کی زیارت کا شرف بخشا۔ اس سرزمین مقدس کا یہ ہمارا چوتھا سفر تھا جو بغرض عمرہ ہوا۔ یہ مبارک سفر یکم مئی 2023 کو شروع ہوا اور پندرہ مئی 2023 کو اختتام کو پہنچا۔ اس سے قبل سب سے پہلے ہم نے 2006 میں حکومت سعودی عرب کی دعوت پر حج کا فریضہ ادا کیا تھا۔ وہ سفر بارہ روز کا تھا۔ دوسرا تیرہ روزہ سفر 2017 میں ہوا جب ہم نے اہلیہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کی غرض سے دیار مبارک میں حاضری دی تھی۔ تیسرا سفر 2018 میں دوسری بار فریضہئ حج کی ادائیگی کے لیے ہوا۔ یہ حج ہم نے حج کمیٹی آف انڈیا کے توسط سے کیا۔یہ سفر تقریباً 40 دنوں پر مشتمل تھا۔ اس سفر میں ہمارے ساتھ اہلیہ اور ایک بیٹی بھی تھی۔ جبکہ مذکورہ آخری سفر میں ہم میاں بیوی کے علاوہ بیٹا، بہو، ان کے دو کم عمر بچے، بڑی بیٹی اور داماد، چھوٹی بیٹی اور ہماری بہو کی والدہ بھی ساتھ تھیں۔ یعنی یہ قافلہ کل دس افراد پر مشتمل تھا۔ اس سفر مقدس کے لیے ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ اللہ سے دعا ہے اور اس کی ذات سے امید بھی ہے کہ وہ ہمیں پھر اپنے گھر اور اس دیار مبارک کے دیدار کا شرف بخشے گا۔
جب ہم نے پہلی بار فریضہئ حج ادا کیا تو واپسی پر سفر نامہئ حج لکھا جو علامہ اقبال کی ایک نظم کے ایک مصرعے ”بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل“ کے ایک ٹکڑے یعنی ”پھر سوئے حرم لے چل“ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس سفر نامہ کو بڑی مقبولیت ملی تھی۔ اس کا اجرا دہلی کے حضرت نظام الدین علاقے میں واقع غالب اکیڈمی میں ہوا تھا۔ اس وقت متعدد مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سفرنامے کا نام دعائیہ ہے۔ امید ہے کہ سہیل انجم پھر سوئے حرم جائیں گے اور پھر سفرنامہ لکھیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ واقعی اللہ کو یہ نام پسند آیا اور اس نے اس کے بعد تین مرتبہ ہمیں اپنے گھر کی زیارت کی سعادت بخشی۔ اس نے مجھے تمام اسفار کی روداد لکھنے کی توفیق بھی بخشی۔ دوسرے سفر حج یعنی اُس دیار مقدس کے تیسرے سفر کی روداد ”بازدید حرم“ نام سے شائع ہوئی جس میں دوسرے سفر کی روداد بھی ضمیمے کے طور پر شامل ہے۔ اس طرح اللہ نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم دونوں حج اور ایک عمرے کی تفصیلات قلمبند کریں اور اپنے لیے یادگار کے طور پر محفوظ کر لیں۔ اگر ان سفرناموں سے کسی کو ذرا بھی فائدہ پہنچا ہوگا تو اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ اس گناہگار کے نامہئ اعمال میں نیکی کے طور پر لکھا گیا ہوگا۔ اب اس چوتھے سفر کی مختصر روداد کی پہلی قسط پیش خدمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس تحریر کو اس عاصی کے لیے باعث ثواب اور قارئین کے لیے نافع بنائے۔
پاکستان کے معروف شاعر مظفر وارثی مرحوم کی ایک مقبول عام حمد ہے ”کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے وہی خدا ہے“۔ اس میں ایک مصرعہ اس طرح ہے ”وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب، سفر کریں سب اسی کی جانب“۔ میں نے جب بھی مکہ مکرمہ میں حاضری دی اور کعبہ کا طواف کیا تو یہ مصرع بار بار میری یادداشت کے دروازے پر دستک دیتا رہا۔ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ اس سفر میں بار بار مذکورہ مصرع اپنی پوری معنویت اور آب و تاب کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ جب زائر مکہ مکرمہ میں اپنے ہوٹل کے کمرے سے حرم کی جانب روانہ ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ چاروں اطراف سے لوگ قافلہ در قافلہ کعبہ کی جانب رواں دواں ہیں تو مسحور ہو جاتا ہے اور خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی خوش بختی پر نازاں ہوتا ہے اور دل و زبان سے اللہ کے احسان عظیم کا بار بار شکریہ ادا کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندے سے کہتا ہے کہ تو اگر میرا شکر ادا کرے گا تو میں تجھے اوردوں گا۔ لہٰذا جو ایک بار اس کے گھر کا طواف کر لیتا ہے اور بار بار اس کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ اسے یہ نعمت بار بار بخشتا ہے۔ کم و بیش ہر زائر کا یہ احساس ہے کہ جس نے ایک بار اس دیار کا دیدار کر لیا وہ بار بار اس کا دیدار کرنا چاہتا ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنے اس بندے کی خاموش دعاؤں کو سن لیتا ہے اور اسے دوبارہ سہ بارہ اپنی عنایتوں کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔
میرا اپنا خیال ہے کہ جس کے دل میں کعبہ کے طواف اور دیدار کی خواہش انگڑائی نہیں لیتی اس کو یہ موقع بمشکل ملتا ہے۔ لیکن جو دل اس نیک اور مقدس خواہش کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اسے بار بار یہ موقع نصیب ہوتا ہے۔ ہمیں جب بھی کعبہ کے طواف کا موقع ملا ہم نے اپنی دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل رکھی کہ اے کعبہ کے مالک ہمیں پھر اپنے اس گھر کے دیدار کا موقع دینا تاکہ ہم پھر یہاں آکر اس کا طواف کریں اور پھر تیرے حبیبؐ کے مسکن یعنی امن و امان والے شہر مدینہ مبورہ جا کر روضہئ رسولؐ پر سلام پیش کریں۔ مظفر وارثی کی مذکورہ حمد میں ایک مصرع یہ بھی ہے ”تلاش ا س کو نہ کر بتوں میں، وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں“۔ کعبہ کا طواف کرتے وقت یہ مصرع اور اسی کے ساتھ فتح مکہ کے وقت کا وہ عظیم الشان واقعہ بھی یاد آتا رہا جب اللہ کے رسولؐ نے کعبہ کے اندر داخل ہو کر اپنے ڈنڈے سے بتوں کو توڑا اور گرایا تھا اور صحابہ کرام نے تمام بتوں کو وہاں سے نکال نکال کر نیست و نابود کر دیا تھا۔ مشرکین مکہ نے کعبہ کو بتوں کی آماجگاہ بنا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں 360 بت نصب تھے۔ ہر قبیلے کے اور ہر کام کے لیے الگ الگ بت تھے۔ اللہ کے گھر میں بتوں کا کیا کام۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں کہ لوگ بتوں کی پوجا کرنے لگیں۔
 بہرحال یکم مئی کو بعد نماز فجر ہمارا یہ قافلہ دہلی کے ذاکر نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ سے نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ دن میں سوا گیارہ بجے کی سعودی ایئر لائنز کی فلائیٹ تھی۔ ہم لوگ سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً تین بجے جدہ کے کنگ عبد العزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے۔ ایئرپورٹ جدہ شہر سے 19 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ سعودی عرب کا تیسرا بڑا اور مصروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ اتنا بڑا کہ طیارہ سے اترنے کے بعد امیگریشن کاؤنٹر اور پھر لگیج تک جانے کے لیے جہاں کافی دیر تک اور دور تک پیدل اور خودکار زینوں سے چلنا پڑتا ہے وہیں اس کے اندر چلنے والی میٹرو ٹرین سے بھی سفر کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح واپسی میں طیارے میں سوار ہونے کے لیے بھی کافی دیر تک پیدل چلنے اور اسکیلیٹر کے استعمال کے علاوہ میٹرو ٹرین پر سوار ہونا پڑتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق یہ ایئرپورٹ 105 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا افتتاح اپریل 1981 میں ہوا تھا۔ عام مسافروں کے علاوہ حجاج اور معتمرین بھی اسی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے تین ٹرمنل ہیں۔ نارتھ ٹرمنل، حج ٹرمنل اور نیو ٹرمنل ون۔ حج ٹرمنل خاص طور پر حجاج کرام کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ساؤتھ ٹرمنل بھی ہے جسے 2020 میں ویکسین سنیٹر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
ہماری ٹریول ایجنسی سپرب مائی ٹرپ کے رضاکارہمیں بذریعہ بس ایئرپورٹ سے مکہ مکرمہ لے گئے۔ ایجنسی کی جانب سے گروپ کی قیادت ایجنسی سے وابستہ مولانا عبید اللہ مکی کر رہے تھے جو پورے سفرمیں ہم لوگوں کے ساتھ رہے اور بوقت ضرورت مدد بھی کرتے رہے۔ نماز مغرب سے کچھ دیر قبل ہم لوگ مکہ پہنچے۔ مکہ کلاک ٹاور کے پاس شارع ابراہیم خلیل یعنی ابراہیم خلیل اسٹریٹ پر جہاں معروف کبوترچوک بھی ہے، ہوٹل ”الفجر البدیع فائیو“ میں ہم لوگوں کے کمروں کی بکنگ تھی۔ چونکہ حرم کے اطراف میں نماز سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل سڑکیں بڑی گاڑیوں کے لیے بند کر دی جاتی ہیں اور کسی نماز میں ایک گھنٹہ تو کسی میں نصف گھنٹہ قبل حرم میں داخل ہونے کے متعدد دروازوں سے داخلہ روک دیا جاتا ہے لہٰذا ہماری بس ہوٹل کے گیٹ تک نہیں جا سکی۔ سو ڈیڑھ سو قدم پہلے ہی ہم لوگوں کو اتر جانا پڑا۔ رضاکاروں نے معتمرین سے کہا کہ وہ ہوٹل میں اپنے کمروں میں پہنچیں ان کا سامان وہیں پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن تقریباً تمام لوگ اپنا اپنا سامان لے کر ہوٹل میں پہنچے اور اپنے اپنے کمروں کی چابی لے کر ان میں منتقل ہو گئے۔ اس سولہ منزلہ ہوٹل میں دو منزلیں پارکنگ کے لیے مخصوص ہیں۔ ایک منزل نماز کے لیے، ایک منزل ریسٹورنٹ کے لیے جہاں معتمرین کے لیے کھانے کا نظم ہوتا ہے اور ایک منزل صفر یعنی زیرو کے نام سے ہے۔ اس کے بعد پہلی دوسری اور تیسری اور دیگر منزلیں شروع ہوتی ہیں۔ ہم دس لوگوں کے لیے دو کمرے زیرو منزل پر بک تھے۔ بہت سے لوگ نماز مغرب کے بعد عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو گئے۔ لیکن کچھ لوگوں نے نماز عشا کے بعد عمرے کی ادائیگی کی۔ ہم لوگ بھی تھوڑا آرام کرکے اور کھانا کھانے کے بعد طواف اور سعی کے لیے روانہ ہوئے۔
پہلے کوئی بھی شخص گراؤنڈ فلور پر طواف کے لیے جا سکتا تھا لیکن اب صرف معتمرین ہی یعنی وہ زائر جو احرام پوش ہوں گراؤنڈ فلور پر طواف کر سکتے ہیں۔ البتہ خواتین کے لیے چھوٹ ہے۔ باقی وہ زائر جو احرام پوش نہیں ہیں فرسٹ فلور، سکنڈ فلور اور چھت پر طواف کر سکتے ہیں۔ اب وہاں ایک اور منزل بنائی جا رہی ہے تاکہ حجاج اور معتمرین کی بڑھتی تعداد کے لیے گنجائش نکالی جا سکے۔ گراؤنڈ فلور پر طواف کرنے میں اگر کعبہ کے قریب رہ کر طواف کیا جائے تو پندرہ بیس منٹ میں اور اگر مطاف کے آخری یا بھیڑ کے باہر باہر طواف کیا جائے تو جیسی دوری ہو نصف سے پون گھنٹے کے درمیان ساتوں شوط مکمل ہوتے ہیں۔ چونکہ ہم سب احرام پوش تھے اس لیے ہمیں گراؤنڈ فلور پر طواف کرنے کا موقع ملا۔ تقریباً پون گھنٹے میں ساتوں شوط مکمل ہوئے۔ (جاری)
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74631