The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 26 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

زہرِ اختلاف – ڈاکٹر شاکرہ نندنی 

زہرِ اختلاف – ڈاکٹر شاکرہ نندنی

انسانی معاشرہ ہمیشہ سے افکار، خیالات اور نظریات کے تنوع سے مالا مال رہا ہے۔ اختلاف رائے ایک قدرتی حقیقت ہے، لیکن جب یہی اختلاف نفرت، تعصب اور دشمنی میں بدل جائے تو وہ معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کی سب سے خطرناک بیماری، فکری تعصب اور فرقہ وارانہ تقسیم ہے — جو انسانوں کو رنگ، نسل، زبان یا مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک قوم یا ملک تک محدود نہیں۔ چاہے ترکی ہو یا فرانس، جرمنی ہو یا بھارت، ہر جگہ یہ زہر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کے ساتھ جینا کیوں نہیں سیکھتے؟

مشہور ترک مفکر زیا گوک الپ نے کہا تھا:
“تمدن کی بنیاد افکار کی آزادی میں ہے، اور جب تک لوگ آزاد نہیں سوچیں گے، وہ آزاد جینا بھی نہیں سیکھیں گے۔”

یورپی فلسفی والٹیر کا مشہور قول ہے:
“میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں، مگر تمہیں اپنی بات کہنے کا حق دینے کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔”
یہی وہ روح ہے جو ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کو جنم دیتی ہے۔

فرقہ وارانہ سوچ کی جڑیں اکثر ہمارے تعلیمی نظام، سماجی تربیت، اور میڈیا کے ذریعے مضبوط کی جاتی ہیں۔ جب بچوں کو ابتدا سے یہ سکھایا جائے کہ “ہم” اور “وہ” الگ ہیں، اور ہماری سوچ سب سے افضل ہے، تو ہم دراصل ایک نئی نسل کو ذہنی قید میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والا تعصب مزید خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ بغیر تحقیق کے شائع کی گئی پوسٹس، نفرت انگیز بیانات، اور جھوٹی معلومات ایک لمحے میں سینکڑوں افراد کے ذہنوں میں زہر گھول دیتی ہیں۔ انٹرنیٹ ایک علمی ذریعہ بننے کے بجائے، نفرت کا میدانِ جنگ بن گیا ہے۔

مشہور جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے لکھا:
“جو شخص مسلسل اپنے دشمن سے نفرت کرتا ہے، وہ خود بھی آہستہ آہستہ ویسا ہی بن جاتا ہے۔”
یعنی، تعصب اور نفرت صرف دوسرے کو نہیں، خود ہمیں بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ہمیں اس فکری زہر سے نجات حاصل کرنے کے لیے شعور، مکالمہ، اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اختلاف صرف خیالات کا ہوتا ہے، انسانیت کا نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کو سننے اور سمجھنے سے ہم خود بھی بہتر انسان بنتے ہیں۔

ترک مصنف اورحان پاموک کہتے ہیں:
“آزادی وہ لمحہ ہے جب آپ دوسروں کے خیالات سے ڈرنا بند کر دیتے ہیں۔”
یہی وہ آزادی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے — فکری آزادی، سماجی آزادی، اور سب سے بڑھ کر — دلوں کی آزادی۔

آخرکار، اگر ہم سب اپنی شناخت کو انسانیت کے دائرے میں رکھیں، تو شاید یہ دنیا نفرت کے زہر سے پاک ہو سکے۔ ورنہ، ہم صرف “میں” اور “تو” کے خول میں بند ہو کر، ایک دوسرے سے دور اور خوفزدہ رہیں گے۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
101407