زبان کی حفاظت – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
زبان کی حفاظت – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لئے زندگی گزارنے کے اسلوب وضع کئے ہیں اور بدن کی صورت میں جس گیران قدر نعمت سے نوازا ہے اس کے ہر عضو کی ذمہ داریوں کے طور طریقوں سے روشناس بھی کئے ہیں۔ ان اعضاء میں سب سے زیادہ قابل توجہہ عضو کی حیثیت زبان کو حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے منفی اور مثبت دونوں اثرات وجود کے دوسرے اندام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ “کروئی لیگینی شہ کپالتو بان”کھوار مقولہ اس حقیقت کا عکاس ہے ۔ اللہ رب العزت کی طرف سے زبان کو کم و بیش بتیس تیز دار دانتوں کے بیچ میں رکھنا اسکی حفاظت کا خیال رکھنے پر دلالت کر تا ہے ۔ یہی زبان ہے جس کے ایک بول سے انسان جنت کی نعمتوں اور ایک ہی بول سے ہی جہنم کا حقدار ہو تا ہے ۔
انسانی زبان سے نکلنے والے الفاظ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفی اور مثبت دونوں حیثیت سے خالی نہیں ہونگے ۔ دانا انسانوں کا قول ہے کہ بولنے سے پہلے سوچ سمجھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ بندوق سے کارتوس اور زبان سے الفاظ نکلنے کے بعد ان کا ازالہ کر نا ناممکن ہے باتونی لفظ سے منسوب ہو نا ناپسندیدگی کی علامت ہے اور خوش گفتاری کو صفت کی حیثیت حاصل ہے اور اس صفت کا حصول اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت مشکل ہے ۔کیونکہ گفتار کو حلاوت کے روپ میں بدلنا بھی ایک قابل ذکر صلاحیت ہے ۔ کسی کی گفتار سے شناسائی کے بغیر اس کے کردار پر رائے زنی نہیں کی جا سکتی ۔ کسی کی خوش پوشی اور جامہ ذیبی دیکھ کر اسکی اندرونی کیفیت کے بارے میں رائے قائم نہیں کی جا سکتی جب تک اس کے ساتھ بات چیت کے عمل سے رابطہ نہ پڑے ۔ کیونکہ ہر چمکدار چیز موتی نہیں ہو گی ۔ زبان ، جھوٹ ، غیبت اور گالی گلوچ کی خباثت سے پاک ہونی چاہئےاور سوچ بچار کے بعد بوقت ضرورت حرکت میں آنے کا عادی ہونی چاہئے ۔ کسی دانا انسان سے اس کی کم گوئی اور دوسروں کا زیادہ سننے کی عادت کے محر کات کے بارے میں دریافت کرنے پر وہ فرمائے ہیں کہ یہ عین فطرت کا تقاضا ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبان کو ایک اور کانوں کو دو عددکی حیثیت سے نوازے ہیں ۔
حکمران وقت کے ساتھ وابستگی کے دوران جنید بغدادی رحمہ اللہ علیہ سے ایک دن بازار سے جانور کے اعضاء کا سب سے لذیز گوشت لانے کا تقاضا کئے جانے پر آپ جانور کی زبان خرید کر لاتے ہیں دوسری بار سب سے بد ذائقہ گوشت کی فرمائیش پر بھی آپ زبان لاتے ہیں ۔ دونوں صورتوں کو ایک ہی عضو سے وابستہ کر نے کے اسباب دریافت کر نے پر آپ فرمائے ہیں کہ اگر زبان سنبھل جائے تو اس سے بہتر اور اگر بگڑ جائے تو اس سے بدتر کوئی چیز نہیں ہوتی ۔
مختصر یہ کہزبان ایک انتہائی خطرناک اژدھا ہے اگر اسے بے لگام چھوڑا جائے تو ہر کسی کو ہڑپ کر کے چمچمائے گی ۔ اس لئے زبان کی حفاظت کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے تاکہ مردم آزادی کی صورت میں پیش آنے والے مصائیب سے تحفظ حاصل ہو جائے ۔
