The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے کے یتیموں اور بیواوں کی کفالت کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اعلان کردہ دو پروگرامز “روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ ” کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا

Posted on

صوبے کے یتیموں اور بیواوں کی کفالت کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اعلان کردہ دو پروگرامز “روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ ” کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا، یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈزجبکہ بیواوں میں سہارا کارڈز تقسیم

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق فلاحی ریاست کے قیام کی جانب گامزن، یتیموں اور بیواوں کی کفالت کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اعلان کردہ دو پروگرامز “روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ ” کا باضابطہ اجراءکر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر سید قاسم علی شاہ کے علاوہ اراکین صوبائی اسمبلی، سرکاری حکام اور دیگر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈزجبکہ بیواوں میں سہارا کارڈز تقسیم کئے۔

تفصیلات کے مطابق ، روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کی عمر کے یتیم بچوں کو ماہانہ 5000 روپے دئیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر روشن مستقبل کارڈ سے نو ہزار یتیم بچے مستفید ہونگے جبکہ رواں سال اس پروگرام پر عمل درآمد کےلئے 18 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح “سہارا کارڈ” کے تحت 45 سال اور اس سے زائد عمر کی بیوہ خواتین کو بھی ماہانہ 5000 روپے دئیے جائیں گے۔ رواں سال اس پروگرام پر عملدرآمدکیلئے 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ فی الوقت 15 ہزار بیوہ خواتین سہارا کارڈ سے مستفید ہونگی۔ ان کارڈز کے ذریعے یتیم بچوں اور بیواوں کو ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک باقاعدگی سے مالی امداد ملے گی۔ ان کارڈز کے ذریعے مستحقین کو ماہانہ پانچ ہزار روپے کی ادائیگی رواں مہینے سے شروع ہوگی۔عید الاضحٰی کی آمد کے پیش نظر مئی اور جون کی امدادی رقم یعنی دس، دس ہزار روپے اکٹھے دیئے جائیں گے۔ روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ کی فراہمی کے لئے مستحقین کا انتخاب ایک صاف اور شفاف طریقے سے کیا گیاہے۔ مزید مستحقین کو بھی معاونت فراہم کرنے کیلئے ان پروگراموں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

مزید برآں ، رواں سال جولائی کے مہینے میں مزید مستحقین کی رجسٹریشن بھی شروع کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین کے فلاحی ریاست کے وژن پر عمل پیرا ہے،میرٹ ، انصاف اور مساوات ریاست مدینہ کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہارا کارڈ اور روشن مستقبل کارڈ کے پروگراموں کے اجراءپر محکمہ سماجی بہبود کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ معاشرے کے کمزور طبقوں کی سرپرستی کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے،ہم صوبے میں ریاست مدینہ کے ماڈل کے قیام کے لئے پر عزم ہیں۔ ہم لوگوں کو ریاست کا وہ چہرہ دکھائیں گے جو ایک ریاست کا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں مزید کمزور اور نادار لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، یہ شروعات ہیں۔ مستقبل میں کمزور اور نادار طبقوں کی کفالت کے پروگراموں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اپنی روزی روٹی کمانے والے معذور افراد اور معذور طلبہ کو الیکٹرک وہیل چیئرز فراہم کی جارہی ہےں۔ اس کے علاوہ صحت کارڈ کا دائرہ وسیع کرکے اس میں ایمپلانٹ اور ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے علاج کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور اب خیبر پختونخوا میں بون میرو، کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ بالکل مفت ہو رہے ہےں ۔ اسی طرح جہیز فنڈ کو 20 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کر دیا گیا ہے ، اور جہیز فنڈز سے اس سال چار ہزار مستحق بچیوں کی شادیاں کرائی گئیں۔ ہم عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کریں گے، ہم امانت دار بن کر یہ ذمہ داری پوری کریں گے،ہم نے کوئی نئے ٹیکس لگائے بغیر 250 ارب روپے کی اضافی آمدن پیدا کی حالانکہ یہ رقم نظام میں موجود تھی جو پہلے سسٹم میں غائب ہو رہی تھی۔ ایک خوددار اور خودمختار قوم بننے کے لئے ہمیں اپنے وسائل کو بڑھانا ہوگا،قرضدار قوم نہ خود مختار ہوسکتی ہے اور نہ خوددار،ہم نے ایک ایسی قوم بننا ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا اور ہمارے آباو اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔

chitraltimes cm distributes sahara and mustaqbil cards 3

chitraltimes cm distributes sahara and mustaqbil cards 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
102914

خیبرپختونخوا حکومت نے معاشرے کے نادار اور مستحق طبقات کی فلاح ، یتیم بچوں اور بیوہ خواتین کی مالی معاونت کےلئے روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ پروگراموں کا اجراءکر دیا

خیبرپختونخوا حکومت نے معاشرے کے نادار اور مستحق طبقات کی فلاح ، یتیم بچوں اور بیوہ خواتین کی مالی معاونت کےلئے روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ پروگراموں کا اجراءکر دیا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت کا معاشرے کے نادار اور مستحق طبقات کی فلاح کی طرف ایک اور انقلابی اقدام، یتیم بچوں اور بیوہ خواتین کی مالی معاونت کےلئے روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ پروگراموں کا اجراءکر دیا گیا۔اس سلسلے میں جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے پروگراموں کا باضابطہ اجراءکیا۔ صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سید نذر حسین شاہ اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ یتیم بچوں اور بیوہ خواتین نے تقریب میں شرکت کی۔”روشن مستقبل کارڈ” کے تحت 16 سال تک کی عمر کے یتیم بچوں کےلئے ماہانہ 5000 روپے مقرر کیے گئے تھے، وزیر اعلیٰ نے یہ رقم بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے کا اعلان کردیا۔ پروگرام کے تحت ان بچوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی جن کے ماں باپ دونوں فوت ہوئے ہوں۔ ابتدائی طور پر تقریباً 9000 یتیم بچے اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح “سہاراکارڈ” کے تحت 45 سال اور اس سے زیادہ کی عمر کی بیوہ خواتین کےلئے ماہانہ 5000 روپے فی کس مقرر کیے گئے تھے،

وزیر اعلیٰ نے یہ رقم بھی بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کردیا۔ پروگرام سے مجموعی طور پر پندرہ ہزار بیوہ خواتین مستفید ہوں گی۔ ان دونو ں پروگراموں کے تحت مستحقین کو ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک ان کے کارڈ کے ذریعے رقم مل جایا کرے گی۔آئی ٹی بیسڈ سکورنگ سسٹم کے ذریعے اسکریننگ اور سلیکشن کے بعد مستحق درخواست گزاروں کو کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر کا وژن فلاحی ریاست کا قیام ہے، معاشرے کے کمزور طبقوں کا خیال رکھنا ایک فلاحی ریاست کی اہم ترین خصوصیت اور بنیادی فریضہ ہے۔ ہم اسی وژن کے تحت بے سہارا طبقات کی فلاح کےلئے کوشاں ہیں۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ جو دوسروں کی بھلائی کا سوچتے ہیں وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں، معاشرے کے محروم طبقات کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی صوبے میں بے سہارا اور مستحق افراد کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا اور کافی حد تک مستحق افراد کا ڈیٹا تیار کر چکے ہیں جس کے مطابق فلاحی پروگراموں کا اجراءکیا جا رہا ہے۔ ‘ہم نے پہلی فرصت میں زکوٰة فنڈ کو ڈبل کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین کی مدد کی جا سکے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے خصوصی طلبہ کا ڈیٹا بھی اکٹھا کر لیا گیا ہے، ان طلبہ کو جلد الیکٹرک وہیل چیئرز فراہم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ بھی ہماری انہی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے صاحب ثروت لوگوں سے بھی کہا کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے میں اپنے اردگرد مستحق لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عوام اگر زکوٰة اور انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تو کافی حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں،عوام اپنے حلقوں میں جاری ترقیاتی اور فلاحی کاموں پر بھی نظر رکھیں، اگر عوام آپس میں متحد ہو جائیں، کاموں کی نگرانی کریں تو کوئی بھی کسی سے ناانصافی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت حقداروں کو ان کا حق دینے کےلئے دستیاب وسائل کے مطابق اقدامات کر رہی ہے، عوام بھی حقداروں کو حق کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں، ہم مل کر ایک فلاحی اور خوشحال معاشرے کے قیام کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

chitraltimes cm inagurated roshan mustaqbil card 1

chitraltimes cm inagurated roshan mustaqbil card 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
99646