The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ روشنی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ روشنی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مسلسل بارشوں اور مون سون کی آمد کی وجہ سے گرمی کی حدت کم ہو کر موسم خوشگوار ہو گیا تھا قریبی پارک مسلسل بارشوں کی وجہ سے پانی میں ڈوب چکا تھا واکنگ ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا نہ ہی ادھورے ٹریک پر واک ہو سکتی تھی میں شدت سے واک کو مس کر رہا تھا جیسے ہی گلی کی سڑک پانی سے صاف ہوئی میں نے جو گر پہنے اور گلی میں واک کر نا شروع کر دی ساتھ میں موبائل فون آن کیا تاکہ خواہش مند وں کے فون سن سکوں اِس طرح میں میرے قدم واک جبکہ سماعت لوگوں سے باتوں میں مصروف تھے آدھا گھنٹہ گزر گیا کہ میں جب واپس مڑا تو گھر کے پاس بہت بڑی مہنگی جیپ کو کھڑے پایا میرا واک کا کوٹہ ابھی ادھورا تھا اِس لیے میں نظر انداز کر کے موڑ کے پاس سے گزر گیا جب دوتین بار پاس سے گزرا تو تجسس کی دیوی بیدار ہو گئی کہ سائل تو بے صبرا بے چین بے قرار ہو تا ہے یہ کون صاحب ہیں جو آرام سے آرام دہ گاڑی میں آرام فرما رہے تھے اِس بار پاس سے گزرا تو جب کار کے اندر جھانکا تو نظر آیا ڈرائیونگ سیٹ پر جوان شخص جب کہ ساتھ والی نشت پر ایک بوڑھی عورت موجودتھے

دونوں میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن دونوں نے نہ اشارہ کیا اور نہ ہی نیچے اتر کر ملنے کی کوشش کی تو میں نے آگے جا کر سیکورٹی گارڈسے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں کس سے ملنے آئے ہیں تو سیکورٹی گارڈ بولا سریہ دو تین دن سے آپ سے ملنے آرہے ہیں آپ کا شیڈول پتہ کر کے گئے تھے آج بھی یہ آئے تو ہم نے بتایا آپ واک کر رہے ہیں تو بولے ہم ان کو دوران واک بلکل بھی ڈسٹرب نہیں کریں گے جب وہ فارغ ہو جائیں گے تو مل لیں گے لہذا جناب یہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں دونوں کے انتظار کر نے کے انداز نے مجھے متاثر کیا کہ اِس طلسماتی ہو شربا مادیت پرستی کے دور میں جب بے چینی بے قراری مطلب پرستی جلد بازی ہڈیوں تک سرایت کر گئی ہے یہ کس جزیرے سے برآمد ہو ئے ہیں کہ آرام سے بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ میرے ملاقاتیوں میں اکثریت بے چین بے قرار جلد باز روحوں کی ہو تی ہے جو اِس بات سے بلکل بے خبر مجھے مشین یا کوئی پراسرار قوتوں کاملک جن سمجھ کر آتے ہیں اتنی جلد بازی بے چینی نفسیاتی بے قراری آتے ہیں مجھ عاجز پر انڈیل دیتے ہیں یہ دیکھے بنا کر میری طبیعت بھی ٹھیک ہے کہ نہیں ان کو صرف اور صرف اپنی بات پریشانی کی پڑی ہو تی ہے بھائی آپ ضرور اپنی پریشانی شئیر کریں لیکن تھوڑا شائستہ رویہ یا مہذب انداز اپنا لیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی یہ تو بے شمار دفعہ میرے ساتھ ہو چکا کہ میں شدید بیمار بخار میں مبتلا ہو ں

گھر جانے لگتا ہوں یا کسی دوست یا عزیز کی وفات یا جنازے پر جانے لگتا ہوں تو کوئی بے چین جلد باز روح مجھ سے آکر ٹکراتی ہے میں اگر کہوں کہ بیماری کی وجہ سے یا کسی جنازے میں جا رہا ہوں آپ کل پرسوں مل لوں گا تو وہ میرے درداور مصروفیت کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں سر میرا کام کب ہو گا سر میرے مسئلے کا حل بتائیں سر مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں سر میں بہت دور سے آیا ہوں سر میں بہت مجبور پریشان ہوں جب تک وہ اپنی بات بتائے گا نہیں جائے گا نہیں وہ اِس بات کو بلکل بھی محسوس نہیں کرے گا کہ میں بیمار ہوں یا کسی عزیز کے جنازے پر جا رہا ہوں یا ذاتی کام کے لیے جا رہا ہوں ایسے جلد بازوں کی مجھے عادت سی ہو گئی ہے میں خود کو سمجھا لیتا ہوں کہ کوئی بات نہیں بیچارہ بہت پریشان ہو گا اِس لیے یہ جلد بازی کر رہا ہے اِسے متوالوں کی موجودگی میں ایک امیر زادہ آرام سے انتظار کر رہا تھا یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی کیونکہ امیر زادے ہر چیز کو پیسے سے خریدنے کی کو شش کر تے ہیں یا مہنگی گاڑی موبائل یا مہنگی گھڑی یا لبا س دکھا کر شو کرتے ہیں کہ میں معاشرے کا ایک خاص بااثر بندہ ہوں میں کوئی عام ملاقاتی نہیں ہوں کیونکہ میں سپیشل ہوں اِس لیے مجھ سے فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر ملا جائے کیونکہ ایسے لوگ دولت کے بل بوتے پر ہر کام کرنے کے عادی ہو تے ہیں

اِس لیے اِن کو انتظار کی عادت نہیں ہوتی جبکہ یہ جوڑا امیر ہونے کے باوجود آرام سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا تھا میں نے ایک دو چکر اور لگائے لیکن شفقت نرم دلی مجھ پر غالب آگئی کہ کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے اور تم واک پر لگے ہوئے ہو لہذا میں نے واک کو ختم کرنے کا ارادہ کیا اور جہازی مہنگی گاڑی کی طرف بڑھ گیا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا جوان جلدی سے دروازہ کھول کر نیچے اتر ا اور میری طرف آکر سلام بولا میں نے بھی شائستگی خوشدلی سے جواب دیا اور بولا بتائیں جناب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو جوان مہذب لہجے میں بولا سر پہلے تو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں بنا وقت لئے آپ سے ملنے چلے آئے لیکن یہ مجبوری تھی میں اسلام آباد میں کام کرتا ہوں بزنس کی وجہ سے مختلف شہروں بلکہ ملک سے باہر رہتا ہوں دو دن پہلے لاہور آیا تو آپ سے ملنے کا پروگرام بنا یا سر اندر گاڑی میں میری جنت میری ماں بیٹھی ہوئی ہے جو فالج کا شکار ہے چل نہیں سکتی اِس لیے ہم کار میں بیٹھے تھے سر یہ میری دنیا میں سب سے قیمتی چیز ہے سر آپ سے دعا لینے آیا ہوں کہ یہ تندرست ہو جائیں سر میں اِن کو بیمار نہیں دیکھ سکتا سر میں اِن کی صحت کے لیے کروڑوں روپیہ لگا سکتا ہوں

اپنی ساری دولت جائیداد اِن کی صحت کے لیے خرچ کر سکتا ہوں سر یہ میری ماں نہیں ہیں میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا یہ میری آیا تھیں جنہوں نے مجھے پال کر جوان کیا میرے والد صاحب کے جانے کے بعد میں نے اِن کو اپنی سگی ماں کی طرح رکھا ہوا ہے اِن میں میری زندگی ہے سرانہوں نے مجھے زندگی دی میں اِن کو زندگی دینا چاہتا ہوں جوان کا نام عبدالباسط تھا وہ اپنی ماں کی صحت کے لیے منتیں تر لے کر رہا تھا یہ اس کی سگی ماں نہیں تھی لیکن جس ملازمہ نے آیا بن کر پالا اس کو سگی ماں کا مقام دے دیا اور یہ رشتہ باتوں کی حد تک نہیں اصل میں نبھا رہا تھا میں کار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ جب کہ باسط پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا بوڑھی ماں فالج کی وجہ سے خاموش تھی وہ پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا بہت ساری دعائیں دیں ماں کو پیار کیا جس نے ملازمہ ہو کر سگی ماں بن کر دکھایا پھر ذکر اذکار بتا کر نیچے اتراتو باسط بہت ممنون روشن نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا میں قدرت پر حیران تھا باسط نے آیا کو ماں بنا کراعلی عبادت کی ایسی عبادت جس کا نور اس کی آنکھوں میں چمک رہا تھا لوگ بہت عبادت کے بعد یہ روشنی نہیں پاسکتے جو روشنی باسط کی آنکھوں سے پھوٹ رہی تھی کاش ایسی حقیقی عبادت ہمیں بھی نصیب ہو جو روشنی بن کر ہماری آنکھوں کو روشن کر دے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112051

بزمِ درویش ۔ روشنی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ روشنی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تا ریخ آدمیت کا جب ہم بغور مطا لعہ کر تے ہیں تو ورق ورق پر انسان ایک دوسرے سے الجھا نظر آتا ہے اپنے اقتدار شہرت اور بقا کے لیے دوسرے کو گا جر مو لی کی طرح کاٹتا نظر آتا ہے۔ اپنی ذات کے تمام رشتوں کا تقدس پامال کر تا نظر آتا ہے۔ خو د کو برتر رکھنے کے لیے دوسروں کو اپنے پاں تلے روندتا نظر آتا ہے خو د کو اشرف المخلو قات اور دوسرو ں کو کیڑے مکو ڑے سمجھتا آیا ہے خالقِ کائنات نے کر ارض کو مثالی اور امن کا گہوارہ بنا نے کے لیے ہر دور میں پیغمبروں نبیوں کو بھیجا اِن نفوس قدسیہ نے اپنے اپنے دور میں اپنے علم خدا کے پیغام ذات اورکردار نے گلشن حیات کی خوشبو اور مہک کو قائم دائم رکھا ہے۔ کیونکہ حضرت انسان فطری طو رپر بے چین بے صبرا اور جلد باز ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی انسان خدا اور اس کے نبیوں کے مقام کو بھو لتا چلا گیا آخر ی نبی سرور کا ئنا ت ﷺ کے بعد اب چونکہ خدا کا دین مکمل ہو چکا ہے اِس لیے اب رسولوں کی آمد بھی بند ہو چکی ہے۔ لیکن خا لقِ کائنات نے کا ئنات کے حسن اور امن کو قائم رکھنے کے لیے ہر دور میں اپنے نیک بندوں کو کرہ ارض پر بھیجنے کا سلسلہ قائم رکھا ما دیت پرستی میں غرق انسان مذہب اور اخلا قیات کو دفن کر تا چلا آرہا ہے لیکن اس متعفن معاشرے میں جہاں کہیں بھی ہمیں اہل حق صوفیا کرام کا وجود نظر آتا ہے تو خدا کے وجود کا احساس شدت سے ہو تا ہے ہر دور کے مردہ با نجھ معا شرے میں یہی وہ طبقہ ہے جس نے کر ہ ارض کے امن اور حسن کو قائم رکھا ہے زمین کے مختلف خطوں کا عطر یہ لوگ خدا کا عطیہ خا ص ہو تے ہیں یہی وہ لو گ ہیں جو شہرت اقتدار اور خو د پرستی کو جو تے کی نوک پر رکھتے ہیں.

اِن اولیا اللہ کو دیکھ کر عقل دانتوں میں انگلی لے لیتی ہے اور بوڑھا آسمان حیرت سے گنگ ہو جا تا ہے رسالت کا سلسلہ ختم ہو امگر کار رسالت جا ری ہے اور روز قیا مت تک جا ری رہے گانیکی بدی کا ٹکرا تو اسی دن سے ہی شروع ہو گیا جب ابلیس نے حضرت آدم کو خدا کے حکم کے باوجود سجدہ کر نے سے انکا ر کر دیا تھا اور خالقِ کائنات کی یہ نا فرمانی اس کی کروڑوں سال کی عبا دت غرق کر گئی اور وہ راندہ درگاہ ٹھہرا پھر قافلہ شب و روز بڑھا حضرت آدم کی اولاد بڑھتی چلی گئی کیونکہ نیکی و شر انسان کے اندر رکھ دیا گیا ہے اِن سے کچھ تو صراطِ مستقیم پر چلے جبکہ کچھ ابلیس اور اس کے چیلوں کے بچھا ئے ہو ئے سنہرے جال میں الجھتے چلے گئے کیونکہ خالقِ کائنات رحیم کریم ہو نے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے اور ستر ما ں سے زیادہ شفیق بھی اور یہ بھی سچ ہے کہ خدا کی رحمت ا س کے غضب پر حا وی رہتی ہے وہ رحیم کریم کس طرح یہ گوارہ کر تا کہ اس کی مخلو ق کو ملعون ابلیس اور اس کے چیلوں کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیا جا ئے اس رحیم کریم رب کعبہ نے ما دیت پر ستی میں غرق بھٹکی انسانیت کے لیے ہر دور ہر خطے میں انبیا بھیجے۔خدا کے پیغام کے علمبرداراِن نفوس قدسیہ نے بھٹکے ہو ں کو خدا کی طرف بلا یا گمراہی کے تاریک غا روں سے ایمان کے نور کی طرف بلا یا وہ لوگ جنہوں نے اِن ایما نی چشموں سے اپنی روحوں اور باطن کے زنگوں کو دور کیا خو دکو کثافت سے لطا فت میں ڈھا لا اِن انبیا روحانی رہبروں کی آوازوں سے اپنی سما عتوں کو روشن کیا اِسطرح حضرت انسان کو اپنی بھو لی ہو ئی منزل یا دآجا تی.

پیغام حق کو اپنی ذات اور روحوں میں اتار کر با رگا ہ حق میں لو ٹ آئے اور راہ نجات کی منزل کے مسافر بن گئے۔ خالق کائنات نے انسان اور کا ئنا ت کو تخلیق کر تے ہوئے اِس کو کھلا نہیں چھو ڑ دیا بلکہ انسان کی تربیت اور تراش خراش کے لیے مردہ انسانیت کی بے جان رگوں میں جان ڈالنے کیلئے جہالت گمراہی کے طو فانوں میں گرے انسانوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے انبیا علیہم السلام خلفائے راشدین صحابہ کرا م کو بھیجا شمع رسالت کے یہ پروانے جو خاک نشین تھے جو دنیا وی عزت و دولت شہرت کو اپنی ٹھو کروں پر رکھتے تھے دلوں روحوں کو فتح کر نے والے یہ ایمان کے سورج جہاں بھی طلوع ہو ئے وہاں پر اپنی ایمان افروز روشنی سے انسانوں کو اس کی اصل سے ہمکنار کر دیا تزکیہ نفس کے ذریعے انسا ن کے اندر تمام زہریلے مادے نکال کر انسان میں محبت کی خوشبو بھر دی پھر جو بھی تر بیت یا فتہ اِن لوگوں کے پاس بیٹھا وہ پھر انہی کا ہو کر رہ گیا ایمان کے سورج یہی وہ لوگ تھے

جو حقیقی فاتحین زمانہ تھے جنہوں نے اپنے کردار کی روشنی اور محبت سے انسانوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا انہوں نے لوگوں کو تلوا ر کے بل بو تے پر نہیں بلکہ حسن کردار سے جیتا ہے۔ ظلم و جبر کفر و جہا لت کے تاریک اندھیروں میں بھٹکی ہو ئی انسانیت کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے والے بر بادی تبا ہی ذلت کے آہنی شکنجوں میں کسی ہو ئی دست وپا انسانیت کو رہا ئی دینے والے آلودگی کے قفل کو اللہ ہو اورضرب لا الہ سے تو ڑنے والے شمع ہدا یت دکھا نے والے غصہ تکبر غرور نفرت و تعصب کے زخموں سے نڈھا ل انسانیت کے مسیحا ہی ایمان کے سورج ہیں یہی لوگ ایمان و کردار اور روشنی کے سفیر ہیں یہی لوگ سرور کو نین ﷺ کے حقیقی جانشین اور اہل حق ہیں جن کے دم سے بزم حیات کا رنگ قائم و دائم ہے تعصب نفرت سے آزاد روشنی کے یہی سورج بلا امتیاز مذہب سب میں ایما ن و کردار کا نو ربانٹتے ہیں سب کو گلے سے لگا تے ہیں۔ یہ تیری میری کے چکر میں نہیں پڑتے کر ہ ارض پر موجود اربوں انسانوں میں سے یہی وہ مقدس لو گ ہیں جنہیں اولیا اللہ کہا جا تا ہے جو اِس کا ئنا ت میں صرف خالقِ کائنات کی ہی اطا عت کر تے ہیں یہ خو د کو اِس طرح الہی رنگ میں ڈھا لتے ہیں اِس طرح اندر با ہر کا تضاد دور کر تے ہیں کہ پھر اِس سے صرف خدا کے نور کی ہی شعاعیں پھوٹتی ہیں اِن کو دیکھ کر خدا یا د آتا ہے اور پھر اللہ اِن سے محبت کر تا ہے

خا لق کا ئنات پھر منا دی کر ا دیتا ہے اورکائنا ت کی مخفی قوتوں کو بتا دیتا ہے کہ یہ ہے میرا بند ہ اور میں اِس کا خدا یہ اپنے مالک کی ہر با ت مانتے ہیں اور پھر کائنات کا پالنہا ر اِن کی کو ئی درخواست رد نہیں کر تا یہی وہ ایمان کے سورج ہو تے ہیں جو خدا کے بر گزیدہ اشخاص اور مخلو ق کے پسندیدہ افراد بن جا تے ہیں اہل حق یہ وہ لو گ ہو تے ہیں جو اپنی خوا ہش کو خالق کی مر ضی سے ہم آہنگ کرچکے ہو تے ہیں جو بندگی کے مطلوب درجے پر براجمان ہو تے ہیں جن کا وجود لوگوں کے لیے با عث رحمت ہو تا ہے جنہیں دیکھ کر خدا یا د آجا ئے جن سے مل کر زندگی خو شگوار طور پر بد ل جا ئے جن کے قرب میں چند لمحے گزارنے پر دنیا کی ہو س ختم اور دین کی طلب بڑھ جا ئے جن کی با توں سے خوشبو اور نو ر کے جھر نے پھو ٹتے ہوں جن کا کردار گردو پیش کے لیے خدا کی نعمت لگے جن سے مخلوق آرا م پا ئے اور جو خو ف خداکا پیکر نظر آئیں یہی وہ لو گ ہیں جو خدا اور اس کی مخلوق سے حقیقی پیا ر کر تے ہیں یہ دلوں کو جو ڑنے والے ہو تے ہیں با دشاہ وقت اکثر اِن خاک نشینوں کے در پر دامن مراد پھیلا تے نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی مڑ کر بھی قصر مر مر کی طرف نہیں دیکھا ولی وہ نہیں جسے لوگ ولی مانیں بلکہ ولی وہ ہو تا ہے جسے مالک کائنات اپنا دوست قرار دے بہت بڑے اہل حق با یزید بسطامی کہا کر تے تھے مر نے کے بعد جب قبر میں منکر نکیر پو چھیں گے کہ بتا تمہا را خدا کون ہے تو میں صرف ایک با ت کہوں گا کہ پہلے میرے خدا سے پو چھو کہ وہ مجھے اپنا بند ہ قرار دیتا ہے کہ نہیں میرے ربی اللہ کہہ دینے سے تو کچھ نہیں ہو گا یہی ہیں وہ ایمان کے سورج جن کی روشنی سے قیا مت تک لوگ ایمان کی روشنی پا تے رہیں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74592