The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال راو ہاشم عظیم اور ٹیم کی کاوشیں رنگ لے آئیں، کردار سازی کے حوالے سے نصاب “روشت استاری” کامیابی کے ساتھ تیار، این او سی کا اجرا کردیا گیا

ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال راو ہاشم عظیم اور ٹیم کی کاوشیں رنگ لے آئیں، کردار سازی کے حوالے سے نصاب “روشت استاری” کامیابی کے ساتھ تیار، این او سی کا اجرا کردیا گیا

چترال میں تعلیمی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں کردار سازی (Character Building) پر مبنی نصاب “روشت استاری” کامیابی کے ساتھ تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ نصاب ونٹر بریک کے بعد ضلع بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔

یہ نصاب ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم کی قیادت اور سرپرستی میں ایک طویل مشاورتی عمل کے بعد تیار کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم، تعلیمی ماہرین، علماء کرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لیے مختلف اجلاس، ورکشاپس اور مشاورتی سیشن منعقد کیے گئے جن میں نئی نسل کی اخلاقی، سماجی اور فکری تربیت کو مرکزی اہمیت دی گئی۔

نصاب کی تیاری میں ڈی او ایجوکیشن میل و فیمیل، اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے نمائندگان، علماء کرام، ڈسٹرکٹ خطیب، رضاکاروں، یونیورسٹی آف چترال کے ماہرین تعلیم، گورنمنٹ ڈگری کالج میل و فیمیل کے معزز اساتذہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے عملی شراکت کی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید تعلیمی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار، برداشت، دیانت داری، خدمتِ خلق اور سماجی ذمہ داریوں کو نصاب کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈائریکٹریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن خیبر پختونخوا کی جانب سے باقاعدہ این او سی کے اجرا کے بعد چترال پاکستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جس نے اپنا کردار سازی کا مقامی نصاب خود تیار کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ’’روشت استاری‘‘ نصاب کا مقصد طلبہ میں مثبت سوچ، اخلاقی شعور، سماجی ہم آہنگی اور ذمہ دار شہری ہونے کا احساس پیدا کرنا ہے، تاکہ نئی نسل نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی ایک مضبوط اور باکردار کردار ادا کر سکے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پائلٹ مرحلے کے دوران اس نصاب کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد بہتری اور توسیع کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ عوامی اور تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو چترال کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک خوش آئند اور دور رس اثرات کا حامل قدم قرار دیا ہے۔

chitraltimes curriculum chitral lower approved

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
117823