The Voice of Chitral since 2004
Friday, 17 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

رسمی تعلیم کا مروجہ نظام – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رسمی تعلیم کا مروجہ نظام – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

رسمی تعلیم سے مراد تعلیم کاایسا نظام ہے جو قوائدوضوابط،نظم و نسق،مراحل و درجات تعلیم ،دورانیہ تدریس،نصابی کتب،غیرنصابی و ہم نصابی سرگرمیوں،زبانی و تحریری و عملی امتحانات اورنظم تعلیمیات کاپابندہو اور جس کے اختتام پرکامیابی کی سندجاری کی جائے۔ایسی تعلیم میں داخلے کے لیے جملہ شرائط ہوتی ہیں،جیسے بالکل ابتدائی مراحل کے لیے عمر کی شرط ہوتی ہے جس میں بچہ کم ازکم اتنابڑاہوچکاہوکہ اپنی بنیادی ضروریات کااظہارکرسکے،اگلے مراحل ودرجات میں داخلے کے لیے گزشتہ مرحلے میں کامیابی کی سند کاہونا بھی لازمی ہوتاہے اوراگروہ سندعدم استنادکی حامل ہو تو مطلوبہ ادارہ بچے کواپنے امتحانی مراحل سے گزارکر اس کی تعلیمی استعدادکا اندازہ کرتاہے اوراسے مناسب درجے میں داخل کرلیاجاتاہے جہاں وہ رسمی تعلیم کے حصول میں سرگرم ہوجاتاہے۔ تکنیکی اداروں میں فنی تعلیم کے داخلے کے لیے جداگانہ معیارات ہوتے ہیں،جیسے عسکری نوعیت کے اداروں کے لیے بچے کاقد،سینہ اور اسکی جسمانی صحت کے دیگرپہلؤں کامعیارمقررکیاجاتاہے،بہت زیادہ ذہنی کام کی تربیت دینے والے ادارے ذہانت کی پیمائش کااپنامعیاررکھتے ہیں اورعام رسمی و مروجہ تعلیمی ادارے داخلے کے لیے گزشتہ مرحلے میں حاصل کردہ شرح کامیابی کے تناسب سے بچوں کاداخلہ کرلیتے ہیں ۔رسمی تعلیم اس لحاظ سے بھی جداگانہ ہوتی ہے کہ اسے ریاست کاقانونی تحفظ حاصل ہوتاہے یا پھر مذہبی تعلیمات اس تعلیم کے حصول کے لیے فضیلت کامعیارمقررکرتی ہیں تاکہ والدین پابندرہیں اور بچے اپنی ابتدائی عمرکا بیشترحصہ حصول تعلیم میں خرچ کریں اور سماج کوایک قابل قدر افرادکار میسرآئیں۔

رسمی تعلیم قوائدوضوابط کی پابندہوتی ہے اوریہ قوائدوضوابط ریاست ،معاشرہ یامذہب فراہم کرتاہے۔ان قوائدوضوابط میں سب سے پہلا عنصرایک ادارے کاہوتاہے جو عرف عام میں تعلیمی ادارہ کہلاتاہے جس میں معلم و متعلم زمان و مکان کی قیدمیں عمل تعلیم کوآگے بڑھاتے ہیں۔تعلیمی ادارہ عمل تعلیم کامرقع ہوتاہے اور نئی نسل کے لیے ایک شجرسایہ دارہوتاہے جسے مادر علمی بھی کہتے ہیں جس کی آغوش میں نونہالان قوم کاشکم تربیت شیرتعلیم سےسیرکیاجاتاہے۔تعلیمی اداروں کی تعمیرسے قوموں کاقد بلندہوتاہے،ایک نسل اگلی نسل اپناتہذیب وتمدن منتقل کرتی ہے،روایات پرورش پاتی ہیں،ادب تخلیق ہوتاہے  اورتعلیمی ادارے کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ  اگرآج شام تعلیمی ادارہ بندہوجاتاہے تویقینی طورپرکل صبح ایک قیدخانہ کھولناپڑ جائے گا۔اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو تعلیم دی توعرش معلی نے تعلیمی ادارے کاروپ دھارلیااورایک متعین نصاب کی تکمیل ہوئی اور امتحان کے انعقاد کے بعد کامیابی و ناکامی کااورجزاوسزاکااعلان کیاگیا۔حضرت داؤد علیہ السلام نے ہیکل سلیمانی کی تعمیرکاآغازکیااورحضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی،اس مسجدمیں بھی ترسیل تعلیم کے شواہدملتے ہیں۔معلوم انسانی تاریخ میں ایتھنزاور اسپارٹامیں اولین تعلیمی ادارے قائم کیے گئے تھے اور جہاں تعلیمی ادارے نہیں ہوتے تھے وہاں بازارکی دکانوں میں پردے لگاکر اوراسٹولوں پر اساتذہ اوربچوں کوبٹھاکرتعلیم کاعمل آگے بڑھایاجاتاتھا۔سب سے بڑے معلم انسانیت ﷺنے اعلان نبوت کے ساتھ ہی  داربنی ارقم کو تعلیم کے لیے مختص کرلیا،ہرصاحب ایمان بطورطالب علم یہاں داخل کرلیاجاتا،ریاست مدینہ میں مدرسہ اصحاب صفہ جملہ تعلیمی قوائدوضوابط کامنضبط تعلیمی ادارہ قرارپایا اور دورخلافت راشدہ میں جہاں بڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم ہوئے وہاں دورفاروقی میں گشتی تعلیمی ادارے بھی کام کرتے تھے جوتنخواہ داراساتذہ کرام، ایک اونٹ اوراس پرلکھنے پڑھنے کاسامان لادے قبیلہ قبیلہ ایسے افرادکوتلاش کرتے تھے جومطقاََان پڑھ ہوتے ،توایسے افراد کو قرآن مجیدکاکچھ حصہ زبانی اور کچھ خواندگی کی تعلیم و تربیت دی جاتی تھی۔بعدکے ادوار میں مسلمانوں نے مشرق وسطی،مشرق بعید،افریقہ اور سرزمین مغرب پرتاریخی انسانی کاشاندارنظام تعلیم مرتب کیا۔مسلمانوں کے زوال کے بعدیورپ نے انگڑائی لی اوران کی نشاۃ ثانیہ کاآغازہوااوربلاشبہ اہل مغرب نے تعلیم کے میدان میں بہت سے نئے کامیاب تجربات کیے جن کاثمرہ انسانیت کو میسرآرہاہے۔

رسمی تعلیم کااگلا اہم عنصرنظم ونسق مدرسہ ہے۔یہ انتظام تعلیم کمرہ جماعت سے لے کراقتدارکے اعلی ترین ایوانوں تک پہنچتاہے۔کمرہ جماعت ایک پوری ریاست ہوتاہے جس میں معلم بے تاج بادشاہ اور متعلمین اس کی رعایاہوتے ہیں۔بہت ساری جماعتوں کامجموعہ ایک تعلیمی ادارہ بن جاتاہے جس کاایک صدرمدرس ہوتاہے۔صدر مدرس جملہ تعلیمی و نیم تعلیمی اور غیرتعلیمی سرگرمیوں کاذمہ دارہوتاہے۔صدرمدرس کے فرائض میں یہ بات خاص طورپر شامل ہے ہے عمل تعلیم بغیرکسی تعطل کے جاری رہے۔تعلیمی ادارے کانظم نسق جتنا بہترین ہوگا تعلیمی نتائج اسی قدرحوصلہ افزاہوں گے،اساتذہ و طلبہ جس قدر مطمئن ہوں گے عمل تدریس اتناجانداراورثمرآور ہوگا۔بصورت دیگراگر نظم و نسق میں کجی و کمی و کوتاہی رہے گی تواساتذہ و طلبہ کی توجہ تقسیم رہے گی۔ صدرمدرس سے بالا ریاست کااپناایک مکمل تعلیمی نظام ہوتاہے جس میں  اعلی حکومتی عہدیدار حکومت کی طرف سے صیغہ تعلیم کے لیے جملہ انتظامات کی نگرانی کرتے ہیں،یہ نظام تحصیل،ضلع،صوبہ اور مرکزتک پھیلاہوتاہے اوربعض اوقات سرکاری و نیم سرکاری بڑے بڑے ادارے بھی معاون تعلیم کاکرداراداکرتے ہیں۔نظم و نسق میں سب سے اولین امر مالیات کاہوتاہے ۔مسلمانوں کے ایک ہزارسالہ دورعروج کی ہمیشہ یہ روایت رہی تھی ہر تخت نشین ہونے والا حکمران ریاست میں موجود مدارس و جامعات کے ساتھ کچھ مزیدجاگیریں مختص کر دیتاتھاجس کے باعث تعلیم و تعلم سے وابسطہ لوگ ہمیشہ خوشحال رہے ہر نئی کتاب کی آمدپر یاکسی اورفنی وتعلیمی ترقی کے حصول پر علماء کو سونے میں تول دیاجاتایاان کے منہ ہیرے جواہرات سے بھردیے جاتے اور یوں مالیات سے بے نیازی کارویہ  علمی وتعلیمی عروج کاباعث بن جاتا اورطالبان علم اپنی عملی زندگی میں کبھی بھی حصول روزگارکے لیے فکرمندنہ رہتے تھے۔دورغلامی کے آغازسے ہی بدیسی حکمرانوں نے ایسے تعلیم دشمن اقدامات کیے کہ علماء و طلباء نان شبینہ کے لیے فکرمندہوئے اورنظم و نسق تعلیم مالی طورپر فقروفاقہ کاشکارہوااورمقصدتعلیم صرف حصول روزگارتک محدودہوکرحرص و ہوش کامقروض ہوا۔

رسمی تعلیم میں درجات تعلیم اورمراحل تعلیم کوایک خاص مقام حاصل ہے۔پیدائش کے فوراََبعد غیررسمی تعلیم کاآغازہوجاتاہے اور اولین غیررسمی تعلیمی ادارہ ماں کی گودکی صورت میں بچے کو میسرآجاتاہے۔معلم انسانیتﷺنے فرمایامفہوم ہے کہ سات سال کی عمر میں بچوں کونمازکی ترغیب دواوردس سال کی عمر میں ان پر(نمازکے بارے میں)سختی کرواوران کے بسترالگ کردو۔پھرایک خاص عمر میں ابتدائی تعلیم کارسمی عمل شروع ہوتاہے،ابتدائی تعلیم،ثانوی تعلیم اوراعلی تعلیم اس کے مدارج و درجات قرارپاتے ہیں۔اگلے درجے میں داخلے کے لیے گزشتہ مرحلے میں کامیابی شرط ہوتی ہے۔ناکامی کی صورت میں بچے کواسی مرحلے میں دوبارہ بٹھالیاجاتاہے،اس پر باردیگرمحنت کی جاتی ہے اوراسے متعلقہ اسباق ایک بار پھر نئے ہم جولیوں کے ہمراہ یادکرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ پہلے سے زیادہ محنت کے نتیجے میں جب کامیاب قرارپاتاہے تواسے اگلے درجے میں ترقی دے دی جاتی ہے۔جس تعلیمی نظام میں مرکزیت استادکوحاصل ہوتی ہے وہاں کامیابی یاناکامی کافیصلہ استادخود کرتاہے اورتعلیمی نظام  میں استادکی رائے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے اورجس نظام  تعلیم میں شاگردمرکزیت کاحامل ہوتاہے وہاں امتحانی مراکزمیں طلبہ اپنی زبانی،تحریری ،تقریری یاعملی یا کارکردگی کااظہارکرتے ہیں جن کی جانچ کے نتائج ان کی کامیابی یاناکامی کافیصلہ کرپاتے ہیں۔تعلیمی درجات و مراحل میں کامیابی کی صورت میں تعلیمی اسنادبھی جاری جاتی ہیں اورکچھ اعلی تعلیمی اسنادکے ساتھ القابات بھی میسر آجاتے ہیں جوتاحیات نام میں بطورسابقہ و لاحقہ کے بولے جاتے ہیں اور حامل سندکے لیے سماجی و معاشرتی عزت و احترام کاباعث بھی بنتے ہیں۔

رسمی تعلیم کے لیے دورانیہ تدریس پہلے سے مختص ہوتاہے اورطالب علم اس مخصوص دورانیے میں اپنے نصابی اسباق کومکمل کرناہوتاہے۔رسمی تعلیم میں دورانیہ تدریس کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے اور مزیدوقت ہرگزنہیں دیاجاتا۔مقرردورانیہ میں کامیابی حاصل نہ کرنے والے امیدوارکو دوبارہ اسی دورانیے سے گزرناپڑتاہے۔عمومی طورپر عام تعلیم میں یہ دورانیہ ایک سال پرمحیط ہوتاہے۔مسلمانوں کے روایتی نظام تعلیم میں ایک سال کے دوران ایک مضمون پڑھایاجاتاہے جب کہ نوآبادیاتی نظام میں ایک سال میں متعددمضامین کی تدریس عمل میں آتی ہے۔ماضی قریب سے چھ ماہ اور تین ماہ کے مختصردوانیے بھی متعارف ہوچکے ہیں۔ان دونوں دورانیے کے نظام اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں سالانہ دورانیے کے نظام میں پورے سال کی تدریس کا امتحان لیاجاتاہے  اورکچھ عرصہ پہلے تک دوسالوں کااکٹھاامتحان بھی لے لیاجاتاتھا۔اس کے برعکس مختصرمدتی دورانیے کے نظاموں میں تین مہینے پڑھاکر اسی کاامتحان اور چھ ماہ پڑھاکر صرف اسی کاامتحان لیاجاتاہے اوراگلے مرحلوں میں آموختے کاتصورختم ہوجاتاہے۔لمبے دورانیے میں بارشٍ آہستہ آہستہ اورتھوڑی تھوڑی برستی ہے اورپانی زمین میں جذب ہوتارہتاہے اورفصلیں تن آورہوجاتی ہیں جب کہ مختصرمدتی دورانیے میں بہت تیزبارش ہوتی ہے کچھ پانی توجذب ہوتاہے لیکن زیادہ پانی بہہ کر ضائع ہوجاتاہے اورفصلیں تشنہ رہ جاتی ہیں۔اعلی تعلیم کے لیے بھی اگرچہ مدت کاتعین کردیاجاتاہے لیکن بعض تعلیمی ادارے معیارمطلوب کے عدم حصول پر وقت میں اضافہ کی سہولت دے دیتے ہیں،تاہم ایسا بہت کم ہوتاہے۔

نصاب کاتعین ایک خاص فنی و تکنیکی مرحلہ ہے،نصاب کی کئی اقسام ہیں  جن میں نصابی کتب سب سے اہم ہے،نصابی کتب کے ساتھ معاون کتب بھی تیارکی جاتی ہیں تاکہ نصاب کی تدریس کے دوران پیش آنے والی مشکلات کاحل بھی تجویزکردیاجائے۔بعض اوقات اساتذہ اورطلبہ کے لیے علیحدہ علیحدہ معاون کتب کی تدوین کی جاتی ہے اوربعض اوقات ایک ہی کتاب میں ہردوکے لیے راہنمائی کاسامان موجودہوتاہے۔اگرنصابی کتب کسی خاص مقصد کے لیے تیارکی گئی ہوں توان کی تدریس کے لیے اساتذہ کرام کو الگ سے متعددنشستوں میں  تربیتی راہنمائی فراہم کی جاتی ہے،خاص دورانیہ کی نہ نشستیں بعض اوقات کئی ایام پربھی محیط ہوتی ہیں جن میں اساتذہ کرام تدریسی توانائی حاصل کرکے تعلیمی طورپر تازہ دم ہوجاتے ہیں۔ایک خاص عمرکے بعد لڑکے اورلڑکیوں کا علیحدہ نصاب ان کی فطری تقاضوں کوپوراکرنے کاباعث ہوگا۔تعلیم کے ساتھ کھیل کود، جسمانی ورزشوں ،سیروسیاحت،تعلیمی دورےاور ذہنی آزمائشی تفریحات کو پہلے تعلیم کے علاوہ سمجھاجاتاتھااورانہیں اضافی نصابی سرگرمیوں سے تعبیرکیاجاتاتھا لیکن بعد کی ترجیحات میں انہیں ہم نصابی سرگرمیاں کہاجانے لگا۔ایسی صحت مندسرگرمیوں کاانعقاد معلم انسانیتﷺکے ہاں سے ثابت ہے۔آپ ﷺ ایک بار اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ سے باہرتشریف لے گئے،بارش کے باعث پانی کی بڑی بڑی جھیلیں وجودمیں آچکی تھیں،دودوافرادکے جوڑے بنے اورانہوں نے پیراکی کے مقابلے کیے اورآپ ﷺکے ساتھ جوڑے کی سعادت حضرت ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہوئی۔اسی طرح ایک دفعہ  حبشیوں نے مدینہ منورہ میں تماشاکیاجس میں نیزہ بازی،گھڑسواری اور بھاگ دوڑوغیرہ  کے مقابلے شامل تھے،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھانے دیکھنے کی خواہش کااظہارکیاتوآپﷺ دروازے میں کھڑے ہوگئے اور بی بی پاک صاحبہ ؓآپ کی پشت پرکھڑے کندھامبارک سے تماشادیکھتی رہیں۔گویا خواتین کو دیکھنے کی حدتک ہی اجازت ہے۔نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں سے رسمی تعلیم متوازن رہتی ہے اور تدریسی عمل بوجھل نہیں ہوپاتا۔ان کاایک اورفائدہ طالب علموں میں اعتمادکاقیام بھی ہے،ممکن ہے کوئی طالب علم نصابی سرگرمیوں میں مسلسل ناکامیوں کاشکارہوکرمایوسی کی طرف چل نکلے لیکن ایسی صورتحال میں ہم نصابی سرگرمیوں میں کامیابی اس کا اعتمادبحال رکے گی۔

امتحانات رسمی تعلیم کاآخری مرحلہ ہوتے ہیں۔ان کے بعد یاتوتعلیم کااگلا مرحلہ شروع ہوجاتاہے یاپھرزندگی کے عملی میدان میں پیش رفت کاآغازہوجاتاہے۔امتحان نصاب کے مندرجات و مشمولات میں سے ہی ہوتاہے۔ابتدائی درجات میں صرف زبانی امتحانات ہوتے ہیں اورچھوٹے بچوں کو صرف ذہن نشین کرائی گئی باتوں کی بابت استفسارکیاجاتاہے۔اگلے مرحلوں میں تحریری امتحان بھی شامل ہوجاتے ہیں اورمزیداگلے مرحلوں میں بعض مضامین میں کامیابی کے لیے عملی امتحانات بھی ناگزیرکردیے جاتے ہیں۔طالب علم جن صفحات پر اپناامتحانی مواد درج کرتے ہیں وہ انہیں واپس کردینے چاہییں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ کہاں ان سے ایسی غلطیاں سرزدہوئی ہیں کہ جس کے باعث ان کی شرح حصول میں کمی واقع ہوگئی ہے اورکہاں کہاں انہیں توقع سے زیادہ پزیرائی میسرآئی ہے۔جوابی صفحات واپس نہ کرنے سے طالب علم اپنی غلطیاں ہرامتحان میں دہراتے رہتے ہیں اورانہیں اندازہ ہی نہیں ہوپاتاکہ کہاں کہاں انہیں ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اورجب وہ اگلی نسل کی تعلیم پر مامورہوتے ہیں تووہی غلطیاں آگے منتقل ہوجاتی ہیں۔رسمی تعلیم میں امتحانات میں کامیابی کے بعد سندکااجراکیاجاتاہے ،کاغذکایہ ٹکڑاگواہی دیتاہے کہ حامل ھذانے کون کون سے تعلیمی مدارج کن کن نصابات کے مطابق کتنی مدت میں اورکن مراحل میں کس شرح کے ساتھ کامیابی سے طے کرلیے ہیں۔ان حقائق سے اس نوجوان کی تعلیمی وفنی قابلیت کااندازہ کرکے اجتماعی ذمہ داریاں اس کے سپرد کردی جاتی ہیں۔

رسمی تعلیم اورغیررسمی تعلیم باہم معاون ذریعہ ہائے تعلیم ہیں،لیکن اس صورت میں جب یہ مقاصدمیں بھی ہم آہنگ ہوں اوران دونوں کاقبلہ ایک ہی ہو۔اسٍ  کے برعکس اگرغیررسمی تعلیم کارخ مکہ اورمدینہ کی طرف ہو جب کہ رسمی تعلیم واشنگٹن،پیرس اورلندن کی طرف کھینچ کرلے جائے توایسی نسل کی تیاری مستقبل کوتباہ کرنے کاباعث ہوگی۔اگرغیررسمی تعلیم  دینی،مقامی اورقومی زبان میں ہورہی ہواوررسمی تعلیم میں بدیسی زبان کو بدترین ذہنی و نفسیاتی تشددکے ساتھ غیرفطری اور انتہائی بھونڈے طریقے سے دماغوں میں زبردستی گھسیڑاجارہاہوتو قوم کامستقبل یقینی طورپربربادی کے دہانے پر ہی پہنچ کررہے گا۔اور اگرغیررسمی تعلیم میں مقامی و ملی شعائرمنتقل ہورہے ہوں جن میں خداآشنائی کی خوشبوبھی پھوٹ رہی ہو لیکن رسمی تعلیم میں غلامانہ عادات واطوارکاخوگربنایاجارہاہواورتعلیم کے ذریعے اذہان و افکارمیں سیکولرازم،لبرل ازم،ہیومن ازم اورکمرشل ازم کے مکروہ اوربدبودار شیطانی ٹیکے لگائے جارہے ہوں تو قوم یقینی طورپرمخدوش مستقبل کی طرف پیش قدمی کررہی ہوگی۔اگرغیررسمی تعلیم کی ہم نصابی سرگرمیوں میں اپنی تہذیب وثقافت کی ترویج مقصود ہواور رسمی تعلیم کی ہم نصابی سرگرمیاں غیراقوام کے تمدن کے پرچارکاباعث ہوں تو یہ ٹکراؤ سوائے انتشارکے سماج میں اورکیالاسکتاہے؟؟؟ ۔لازم ہے کہ طبقاتی نظام تعلیم کوجڑسے اکھیڑپھینکاجائے اور غلامی کی اس باقیات کودریابردکرکے اس کے اثرات بدوبھی زمین دوزکردیاجائے اوراس کے تبادل میں وہ نظام تعلیم رائج کیاجائے جس کے مقاصد میں اولین مقصد معرفت نفس کے راستے عرفان رب ہواورجس کاانجام فلاح دارین ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
78568