The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی۔وزیراعلی

  دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ منصوبے کی الائنمنٹ کلیر ہونے کے بعد متعلقہ زمین پر سیکشن فور نافذ کیا جائے گا۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کی اپگریڈیشن پر کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ایکسیئن اور ایس ڈی او کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن رپورٹ کی روشنی میں محکمہ کھیل کے متعلقہ حکام کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے سیف سٹی پشاور پراجیکٹ پر عملدرآمد میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے متعلقہ اعلیٰ حکام کا خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات ا ±نہوں نے منگل کے روز مختلف شعبہ جات میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان سمیت متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 30 کلومیٹر طویل دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ منصوبے کی الائنمنٹ کلیر ہونے کے بعد متعلقہ زمین پر سیکشن فور نافذ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پتراک۔تھل۔کمراٹ روڈ کے منصوبے کے لیے ٹینڈر کھول دیا گیا ہے اور ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر ورک آرڈر جاری کر دیا جائے گا۔ شعبہ صحت کے منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا کہ تیمر گرہ میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ مکمل ہو گیا ہے اور رواں تعلیمی سال سے کالج میں کلاسز کا باقاعدہ اجراءکیا جائے گا۔ صوبہ بھر میں نان ٹیچنگ ڈی ایچ کیو کی تجدید کاری منصوبے کے تحت ہسپتالوں کے لیے آلات کی خریداری جزوی طور پر مکمل کر لی گئی ہے جبکہ ان ہسپتالوں میں مختلف نان کلینیکل خدمات بھی آو ¿ٹ سورس کر لی گئی ہیں۔ ا سکے علاوہ ضم اضلاع میں مختلف صحت مراکز کو آو ¿ٹ سورس کر کے مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے اور ان ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور او پی ڈی سروسز شروع کر دی گئی ہیں۔ مزید برآں کیٹگری ڈی ہسپتال  کاٹلنگ (مردان) کی اپگریڈیشن کے لیے بھی پی سی ون منظور ہو چکا ہے۔ شعبہ تعلیم کے منصوبوں کے بارے میں شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ سوات میں ماڈل سکول کے قیام کے لیے پی سی ون محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کو بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیر کیڈٹ کالج کی تعمیر کے لیے مکمل پی سی ون آئندہ دو ہفتوں میں متعلقہ محکمے کو موصول ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبہ بھر میں 20 کالجوں کے قیام کے منصوبے کے تحت 18 کالجوں کے لیے جگہ کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، تیمر گرہ واٹر سپلائی اسکیم کا پی سی ون صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے کلیئر کر کے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو بھیج دیا گیا ہے جبکہ کوہاٹ کے علاقے شکر درہ میں لوگو کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے شکر درہ واٹر سپلائی اسکیم کا شکر درہ پورشن رواں سال دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے میں پانی کے معیار کو جانچنے کے لیے منصوبہ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔  وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دیر موٹروے منصوبے کی الائنمنٹ جلد سے جلد کلیئر کرکے سیکشن فور نافذ کیا جائے جبکہ سوات موٹروے فیز ٹو پر ایک ہفتے میں عملی کام کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے سیکرٹری مواصلات کو دیر میں سڑکوں کے جاری منصوبوں کا وزٹ کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ تالاش (دیر) میں این ایچ اے کی سڑک پر نالے کے اوپر پل کی تعمیر کے لئے منصوبہ تیار کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے پشاور ڈی آئی خان موٹر کی تعمیر کو جنوبی اضلاع کی ترقی کے لیے نا گزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے تمام دستیاب آپشنز استعمال کئے جائیں،یہ صوبے کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کے لئے ایک  اہم منصوبہ ہے اور صوبائی حکومت ہر قیمت پر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک یونیورسٹی سوات میں ستمبر تک کلاسز کے اجراءکے لئے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ محمود خان نے سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ  ملاکنڈ میں سیٹلمنٹ اسٹاف کی مستقلی پر کام کیا جائے جبکہ تحصیل واڑی اور الائی کو اضلاع کا درجہ دینے کیلئے  بھی ہوم ورک شروع کیا جائے۔دور دراز علاقوں میں ٹیوب ویلز پر ایک کی بجائے دو آپریٹرز کی تعیناتی کے فیصلے پر جلد عملدرآمد کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت کی ہے کہ جن منصوبوں کے لئے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں ان کی مقررہ مدت میں تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ہسپتالوں، کالجوں اور سکولوں کے منصوبے 75 فیصد مکمل ہونے پر ان کے لئے عملے کی بھرتی اور آلات کی خریداری کا عمل بیک وقت شروع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے  پاس وقت کم ہے اور حکومت نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا ہے،عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی مقررہ وقت میں  تکمیل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ انتظامی سیکرٹری سے سخت باز پرس ہوگی، اس سلسلے میں انتظامی سیکرٹریوں کو عوامی توقعات کے عین مطابق کارکردگی دکھانی ہوگی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
63948

دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے بڈز موصول ہوچکی ہیں ، اگست کے وسط تک معاہدے پر دستخط کرلئے جائیں گے۔وزیراعلیِ

Posted on

دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے بڈز موصول ہوچکی ہیں ، اگست کے وسط تک معاہدے پر دستخط کرلئے جائیں گے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دیر اپر میں کیڈٹ کالج کے قیام کے لیے زمین کی خریداری کا عمل جلد سے جلد مکمل کیاجائے تاکہ منصوبے پر بروقت عملی کام کا آغاز کیا جاسکے۔ انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام کو ہدایت کی کہ چکدرہ بائی پاس روڈ کی تعمیر کو رواں سال جون تک ہر لحاظ سے مکمل کرنے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور کہاکہ صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے تمام درکار فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز دیر میں مختلف شعبہ جات میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکر ٹریز، پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے حکام کے علاوہ دیگر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دیر اپر میں پاتراک تا تھل کمراٹ 44 کلو میٹر طویل سڑک تعمیر کرنے کے لیے 6.9 ارب روپے لاگت کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جسے منظوری کے لیے متعلقہ فورم کو بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیر لوئر میں تالاش کلپانئی بائی پاس روڈ کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 30 کلومیٹر طویل دیر موٹر وے کی تعمیر کے لیے بڈز موصول ہوچکی ہیں جن کی ایوالیشن کا عمل جاری ہے اور اگست کے وسط تک معاہدے پر دستخط کرلئے جائیں گے۔

تیمر گرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے بتایا گیا کہ کالج کیلئے فیکلٹی اور دیگر عملے کی ہائرنگ کا عمل جاری ہے جو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف دیر کے قیام کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے علاوہ متعلقہ کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ کھیلوں اور سیاحت کے شعبے میں منصوبوں سے متعلق بتایا گیا کہ دیر سپورٹس کمپلیکس کیلئے جگہ کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور منصوبے کا پی سی ون رواں ماہ تک تیار کرلیا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پنجکوڑہ ریور لفٹ رائٹ بینک کینال منصوبے پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو تمام منصوبوں کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ عوامی فلاح و بہبود کے ان منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کریں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
59520