دہشت گرد مہمان ۔ عبدالباقی
دہشت گرد مہمان ۔ عبدالباقی
1979میں افغان جنگ شروع ھوئی پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں بے سرو ساماں افغان مہاجرین کے لے اپنی ملک کے سرحدیں کھول دئیے۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے ان کو ہر قسم کے سہولتیں فراہم کئیے، ان کی جان و مال عزت و آبرو کا تحفظ کیا۔ پاکستان مشکل حالات میں اپنے ملک اور معشیت دونوں خطرے میں ڈال کر افغان مہاجرین کی بھر پور مدد کرکے اسلامی بھائی چارے کا اعلی مثال قائم کیا، عالم اسلام کا کوئی بھی ملک اس کی مثال پش نہیں کر سکتا۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے اپنے مصیبت زدہ افغان کیلے بے پناہ قربانیاں دی۔ 2002 میں امریکہ دیگر اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت ختم کر دی،
طالبان قیادت اور ان کی اہل و عیال کیلے پوری دنیا میں سر چھپانے کی کوئی محفوظ جائے پناہ نہیں ملی، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان نے ان کو پناہ دے کر ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ کیا، ان کو اپنے ملک میں پناہ دینے پر پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا گیا جس سے عالم سطح پر پاکستان کی بدنامی ھوئی۔ لیکن حکومت پاکستان اپنے افعان بھائیوں کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کیا۔ پاکستان نے افعانستان میں قیام امن کیلے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ امن مزاکرات کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مسلسل کوششوں سے امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان سے امریکہ کے واپسی کا سمجھوتا طے پایا۔
افغان عوام کو پاکستان کا شکر گذر ھونا چاہئیے کہ پاکستان نے دوحہ مزاکرات کے ذریعے امریکہ کو افعانستان سے نکلنے پر راضی کر لیا۔ پاکستان کی مدد اور کوششوں کے بغیر امریکہ کو سو سال بعد بھی افغانستان سے نکلنا طالبان کی بس کی بات نہ تھی۔ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی احسان مند ھونے کی بجائے انڈیا کا آلہ کار بن کر اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں کے ذریعے پاکستانی فوجی جوانوں اور عام پاکستانی مسلمانوں کا قتل عام کرکے نمک حرامی کا ثبوت دے رھے ھیں۔ طالبان پاکستانی عوام کی عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرکے پاکستان دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر پاکستان کی سلامتی کیلے سنگین خطرات پیدا کر رھے ھیں جو کہ افسوس ناک اور شرمناک اقدام ھے۔
پاکستان اپنے ملک کی سلامتی کیلے خطرہ بننے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کی قوت، طاقت اور صلاحیت رکھتا ھے،مگر پاکستان غریب ہمسایہ اسلامی ملک کے ساتھ خون خرابہ نہیں چاہتا ھے،بلکہ پاکستان پر امن بات چیت کے ذریعے افغانستان میں موجود ٹی ڈی پی کی پناہ گاہوں کو ختم کرانا چاہتا ھے۔ جبکہ طالبان حکومت ٹی ڈی پی کی دہشت گردوں کو اپنے مہمان قرار دے کر پاکستان کے ساتھ تعلقات بگڑنے کی کوشش کر رہی ھے جو دونوں برادر اسلامی ممالک کی مفاد نہیں ھے۔ طالبان حکومت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلے اپنے سر زمین سے پاکستان کے خلاف ھونے والے دہشت گردی کی کاروائیوں کو روکنا پڑے گا۔ طالبان حکومت کیلے ٹی ڈی پی پر پابندی لگائے بغیر پاکستان کے ساتھ خوش گوار تعلق قائم کرنا ناممکن ھے۔ ایسے صورت میں طالبان کیلے افعانستان پر ذیادہ عرصہ حکمرانی کرنا دشوار ھو جائے گا اور ان کا برسوں تک افغانستان پر حکمرانی کا خواب خاک میں مل جائے گی۔