پاک فوج نے فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں دو ریٹائرڈ فوجی افسران کو سزا سنا دی
پاک فوج نے فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں دو ریٹائرڈ فوجی افسران کو سزا سنا دی
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)پاک فوج نے فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں دو ریٹائرڈ افسران میجر (ریٹائرڈ) عادل فاروق راجہ اور کیپٹن (ریٹائرڈ) حیدر رضا مہدی کو سزا سنا دی۔ہفتہ کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق دونوں ریٹائرڈ افسران کو فرائض کی انجام دہی اور جاسوسی سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کی خلاف ورزی اور ریاست کے تحفظ اور مفاد کے لیے منفی کام کرنے پر پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کے ذریعے سزا سنائی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق مجاز دائرہ اختیار کی عدالت نے 7 اور 9 اکتوبر 2023 کو دونوں افراد کو مناسب عدالتی عمل کے ذریعے مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا جس کے مطابق میجر (ریٹائرڈ) عادل فاروق راجہ کو 14 سال قید بامشقت جبکہ کیپٹن (ریٹائرڈ) حیدر رضا مہدی کو 12 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے مطابق 21 نومبر 2023 کو دونوں افسران کے رینک ضبط کر لیے گئے ہیں۔
جنرل باجوہ اور فیض حمید کیخلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اسلام آباد(سی ایم لنکس)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست 28 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کر دی جس کے مطابق شہری نے جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید و دیگر کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔مقدمہ اندراج کی درخواست پر ہائی کورٹ نے ایف آئی اے، جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔چیف جسٹس عامر فاروق شہری عاطف علی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو حکم دیا جائے کہ مقدمہ درج کر کے کارورائی کی جائے، جنرل (ر) باجوہ اور جنرل (ر) فیض قانونی رکاوٹ عبور کر کے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ غلط اور من گھڑت طریقے سے مختلف ایونٹس کو ظاہر کر کے داغدار کیا گیا، توجہ حاصل کرنے کے لییصحافت کی آڑ میں آرٹیکلز سے ریاستی ادارے کی منفی تصویر پیش کی گئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
الیکشن کمیشن کا عام انتخابات میں فوج کی تعیناتی کیلئے وزارت داخلہ کو خط
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات میں فوجی جوانوں کی تعیناتی کے حوالے سے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا۔ای سی پی نے وزارت داخلہ سے آئندہ عام انتخابات میں سکیورٹی سے متعلق جامع رپورٹ 27 نومبر تک طلب کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی نفری کی قلت کے باعث انتخابات میں پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کیلئے سکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی سے متعلق رپورٹ دیں۔خط میں صوبوں میں نفری کی قلت سے متعلق بھی الیکشن کمیشن کو تحریری آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خط کے مطابق وفاق اور چاروں صوبے آئین کے تحت الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔ای سی پی حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کیلئے تمام آئینی اور قانونی اقدامات کر رہا ہے، تمام حلقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔