چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا سوات کا دورہ، دریائے سوات کے ریور بیڈز میں ہر قسم کی مائننگ پر فوری طور پر پابندی عائد، غیر قانونی تجاوزات اور ہوٹلز کے خلاف کل سے مؤثر آپریشن شروع کرنے کی ہدایات
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا سوات کا دورہ، دریائے سوات کے ریور بیڈز میں ہر قسم کی مائننگ پر فوری طور پر پابندی عائد، غیر قانونی تجاوزات اور ہوٹلز کے خلاف کل سے مؤثر آپریشن شروع کرنے کی ہدایات
سوات (نمائندہ چترال ٹائمز) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے سوات میں حالیہ سیلابی صورتحال کے تناظر میں سوات کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مینگورہ بائی پاس روڈ پر جائے وقوع کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود افسران سے تفصیلات حاصل کیں۔بعد ازاں کمشنر آفس سیدو شریف میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں صوبائی وزیر برائے لائیوسٹاک فضل حکیم خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے ہاؤسنگ امجد علی، معاونِ خصوصی برائے ریلیف نیک محمد داوڑ، سیکرٹری ریلیف، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر،ڈپٹی کمشنر سوات، منتخب عوامی و میڈیا نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں حالیہ سانحہ سوات کے پس منظر میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ چیف سیکرٹری نے دریائے سوات کے ریور بیڈز میں ہر قسم کی مائننگ پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ دریائے سوات اور دریائے پنجکوڑہ میں قائم غیر قانونی تجاوزات اور ہوٹلز کے خلاف کل سے مؤثر آپریشن شروع کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ آبپاشی کو ایک ہفتے کے اندر دریائے سوات پر پیشگی وارننگ (ارلی وارننگ) سسٹم نصب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) سوات کے دفتر کو ”ارلی رسپانس سینٹر” قرار دے دیا گیا ہے، جہاں تمام متعلقہ محکموں کے اہلکار ہمہ وقت موجود ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مربوط کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے ریسکیو 1122 کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کو ڈرونز، لائف جیکٹس، اور دیگر جدید ریسکیو آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ خدانخواستہ آئندہ کسی بھی سانحے کی صورت میں مؤثر ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی، جس سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے گا۔
انہوں نے پولیس، محکمہ آبپاشی اور ریسکیو اہلکاروں کو دریائے سوات اور پنجکوڑہ کے کناروں پر مستقل گشت کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ کسی بھی خلاف ورزی یا ہنگامی صورتحال کا بروقت تدارک ممکن ہو سکے۔چیف سیکرٹری نے میڈیا نمائندگان اور عوامی شخصیات سے اپیل کی کہ وہ سیاحوں اور مقامی افراد کو دریاؤں سے دور رکھنے کے لیے آگاہی مہمات میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر دریائے سوات کے سانحہ میں جاں بحق افراد کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو اداروں کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی ٹیم سوات پہنچ چکی ہے اور تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی انسپکشن ٹیم جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔


