دوائے دل – درسِ مسلسلات – مولانا محمد شفیع چترالی
دوائے دل – درسِ مسلسلات – مولانا محمد شفیع چترالی
بدھ دس محرم یوم عاشور کے موقع پر جامعہ دارا لعلوم کراچی میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے درس مسلسلات میں شرکت اور آپ سے احادیث مسلسلہ کی اجازت کے حصول کا شرف حاصل ہوا۔ہماری نسل کے دینی طالب علموں کے لیے یہ بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ ہمیں ایک ایسی نابغہئ روزگار علمی شخصیت دستیاب ہے جن کوپوری اسلامی دنیا میں ایک مقتدا و مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ عاجزی، مسکنت اور تواضع کے اس پیکر کو عالم اسلام کی چند بااثر ترین شخصیات کی اس فہرست میں شمار کیا گیا ہے جس میں بڑے بڑے بادشاہوں اور کج کلاہوں کے نام ان کے بعد آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقام اور مرتبہ انہیں راتوں رات حاصل نہیں ہوا۔ایک طویل عرصے تک علم اور معرفت کے دشت کی سیاحی،دنیا کے کونے کونے میں جاکر اہل علم سے استفادہ،مطالعہ و مشاہدہ اور اپنے زمانے کے اہل اللہ،اساطین علم اور رجال دین کی صحبتیں اٹھانے اورتحقیق و تصنیف کے میدان میں کئی معرکے سر کرنے کے بعد ہی وہ معاصر دنیا کی نظر میں ”شیخ الاسلام“ ٹھہرے ہیں ؎
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا، تب نگیں ہوا
میں دوپہر بارہ بجے سے کچھ پہلے جامعہ دارالعلوم کراچی کی پرشکوہ مسجد میں داخل ہوا تو ابھی شیخ الاسلام کے درس مسلسلات کے آغاز کا وقت شروع ہونے میں بیس منٹ باقی تھے مگر دارا لعلوم کی وسیع مسجد کا ہال ابھی سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سخت گرمی اور حبس کے باوجود برآمدوں میں بھی لوگ بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ان میں دار العلوم کے اپنے دورہئ حدیث اور موقوف علیہ کے سینکڑوں طلبہ کے علاوہ شہر کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ہزاروں دیگر تشنگان علم اورعلماء اور فضلاء بھی شامل تھے جو دس محرم کے روز راستوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں درس میں شرکت کے لیے حاضر تھے۔
سوا بارہ بجے حضرت شیخ الاسلام صاحب محراب کے راستے سے تشریف لاکر مجمع کے سامنے نمودار ہوئے تو پورے مجمع نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔حضرت نے اپنی مسند سنبھالنے کے بغیر کسی تاخیر کے درس کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یوم عاشور کو احادیث مسلسلہ کا یہ درس درحقیقت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے اظہار کا ایک انداز ہے جو حضرات محدثین کے ہاں صدیوں سے رائج ہے۔ احادیث مسلسلہ ان احادیث کو کہا جاتا ہے کہ جو کسی خاص کیفیت یا صفت یا وقت کی تحدیدکے ساتھ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ ؐ کے زمانے کے قریب کے کسی راوی تک مروی ہیں۔مثلا ً جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے اپنے سر مبارک پر ہاتھ رکھا تھا تو آپ ؐ سے اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابی نے بھی آپؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہوئے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے تمام راویوں نے اس کو اسی طرح سر پر ہاتھ رکھ کر روایت کیا۔اسی طرح ایک حدیث وہ ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ارشاد فرمائی جب آپ ؐ نے اپنے ریش مبارک پر دست مبارک رکھا ہوا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے خوش نصیب صحابی نے آپ ؐ کی اس ادا کو آنکھوں میں اتارا اورجب آپ ؐ کا ارشاد آگے نقل کیا تو اسی مخصوص ادا کے ساتھ نقل کیا اور یہ سلسلہ اسی طرح ہم تک پہنچا۔
ان میں سے ایک حدیث وہ بھی ہے جو محدثین کے ہاں ”مسلسل بیوم عاشورا ء“ کے نام سے مشہور ہے۔یعنی یہ روایت دور اول کے محدث نے دس محرم کے دن اپنے شاگردوں کے سامنے روایت کی اور اس کے بعد یہ روایت بن گئی کہ ہر محدث اسی طرح یوم عاشور کو یہ حدیث آگے روایت کرتا ہے۔پھر اسی مناسبت سے دیگر احادیث مسلسلہ بھی یوم عاشور کو روایت کرنے کا سلسلہ چل نکلا۔
شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے احادیث مسلسلہ کی اجازت1963ء میں حرم شریف میں شیخ حسن مشاط مالکی سے حاصل کی تھی جو اپنے زمانے بڑے بزرگ محدث تھے۔ بعد میں مکہ مکرمہ کے قریب عتیبیہ میں مقیم انڈونیشائی نژاد محدث شیخ یاسین الفادانی سے بھی اجازت حاصل کی۔ شیخ صاحب بڑے اللہ والے تھے اور ان کو احادیث مسلسلہ کو جمع اور روایت کرنے کا خاص ذوق عطا ہوا تھا۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے یہ دل چسپ واقعہ بھی بتایا کہ حضرت سے احادیث مسلسلہ کی روایت کی عمومی اور خصوصی اجازت حاصل کرنے کے کافی عرصے بعد ایک دفعہ میں جدہ میں ایک فقہی کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا ہوا تھا۔ کانفرنس کی کارروائی کے ایام کے بیچ میں ایک دن فارغ ملا تو میں نے سوچا کہ یہ دن حرم شریف میں گزارا جائے۔میں نے مکہ مکرمہ میں اپنے کسی جاننے والے کو اس کی اطلاع نہیں کی تاکہ یکسوئی کے ساتھ عبادت کی جاسکے۔مگر جب حرم سے ظہر کی نماز پڑھ کر کھانے کے لیے باہر آنے لگا تو شیخ یاسین الفادانی کی مجلس کا ایک ساتھی سیڑھیوں پر منتظر ملا جس کو میں جانتا تھا اور اس نے کہا کہ شیخ صاحب نے آپ کو بلایا ہے اور آپ کو لینے کے لیے گاڑی بھیجی ہے۔ میں حیران ہوا کہ شیخ یاسین الفادانی کو میری یہاں موجودگی کی کیسے اطلاع ہوگئی۔میں شیخ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا کہ”میاں تم چھپ چھپ کر آتے جاتے ہو،ہمیں خبر ہی نہیں کرتے؟“میں نے اس پر معذرت کرتے ہوئے سوال کیا کہ حضرت کو کس نے اطلاع دی؟ انہوں نے فرمایا کہ اس بات کو چھوڑیے کہ ہمیں کیسے اطلاع ہوئی،ہم نے آپ کو اس لیے زحمت دی کہ احادیث مسلسلہ میں ایک حدیث وہ بھی ہے جو”مسلسل بیوم عاشوراء“ کہلاتی ہے۔ آج عاشوراء بھی ہے اور آپ یہاں موجود ہیں تو لایئے اس کی بھی روایت ہم سے لے لیجیے۔ مولانا تقی صاحب نے بتایا کہ وہ آج تک اس معما کو حل نہیں کرسکے کہ شیخ یاسین الفادانی کو ان کی مکہ آمد کی اطلاع کیسے ملی تھی تاہم شیخ نے اس اہتمام کے ساتھ انہیں احادیث مسلسلہ کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور وصیت فرمائی تھی کہ آپ نے اس مبارک تسلسل کو آگے چلانا ہے، انہی کے حکم کی تعمیل میں ہر سال درس مسلسلات کی یہ مجلس منعقد کی جاتی ہے۔
احادیث مسلسلہ کے بیان کے ضمن میں خاص طور پر یوم عاشور کی مناسبت سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ ارشاد بھی نقل کیا جاتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو درود شریف کے پانچ صیغے سکھائے تھے۔ہر صیغہ سکھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک انگلیوں سے گنتی کی ایک گرہ لگائی تھی اور آخر میں مٹھی کا نشان بن گیا تھا۔ یوم عاشور کو اس حدیث کی روایت اور آپ ؐ کے عمل مبارک کی متابعت میں انگلیوں کی گرہیں لگا لگاکر حدیث پڑھنے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ ؐ کی آل پر درودو سلام کا بھی خود بخود اہتمام ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کو سلامت رکھیں اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھیں کہ ان کے دم سے آج کے اس پر فتن دور میں بھی روایت و درایت کی شمعیں روشن اور علم و معرفت کی مجلسیں آباد ہیں۔ این دعا از من و جملہ مومنین آمین باد!
