داردستان: تہذیبوں کے سنگم پر ایک گمشدہ شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
داردستان: تہذیبوں کے سنگم پر ایک گمشدہ شناخت – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
تاریخ کے صفحات پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں، مگر ان کی تہذیب، زبان اور ثقافت صدیوں تک پہاڑوں کی خاموشی میں گونجتی رہتی ہے۔ ’’داردستان‘‘ بھی ایک ایسا ہی نام ہے، جو برطانوی مستشرق ڈاکٹر جی ڈبلیو. لیٹنر نے اُنیسویں صدی میں متعارف کروایا۔ یہ اصطلاح ان علاقوں کے لیے استعمال کی گئی جہاں داردی اقوام آباد تھیں، جن میں چترال، گلگت، کوہستان، دیامر، اور کشمیر کے کچھ حصے شامل تھے۔ یہ خطہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے سنگم پر واقع ہے، جہاں انسانوں نے صدیوں سے اپنی تہذیب کو پہاڑوں کے دامن میں محفوظ رکھا۔
داردستان کوئی سیاسی ریاست نہیں تھی، بلکہ ایک ثقافتی اور لسانی خطہ تھا۔ یہاں کی اقوام کو ’’دارد‘‘ کہا جاتا تھا، جن کی زبانیں ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان زبانوں میں کھوار، شینا، کوہستانی، توروالی، اور چھلیسی وغیرہ شامل ہیں۔ ہر زبان اپنے اندر ایک الگ دُنیا رکھتی ہے، جس میں لوک کہانیاں، دیومالائی کردار، اور پہاڑوں کی زندگی کی جھلکیاں موجود ہیں۔ ان زبانوں کی ساخت اور الفاظ میں فارسی، سنسکرت اور مقامی بولیوں کا امتزاج پایا جاتا ہے، جو اس خطے کی تہذیبی گہرائی کا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر لیٹنر نے اپنی کتاب’’Dardistan in 1866, 1886 and 1983‘‘ میں اس خطے کی تفصیل بیان کی۔ اُنہوں نے ان علاقوں کا سفر کیا، مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں، ابن کی زبانیں سیکھیں، اور اُن کی ثقافت کو قلم بند کیا۔ اُن کے مطابق داردی اقوام ایک الگ نسلی اور ثقافتی شناخت رکھتی تھیں، جو نہ صرف جغرافیائی طور پر الگ تھیں بلکہ اُن کے عقائد، لباس، موسیقی اور طرزِ زندگی بھی منفرد تھے۔ ان اقوام میں کوئی مرکزی بادشاہت نہیں تھی، بلکہ ہر وادی میں مقامی سردار یا میر حکمرانی کرتے تھے۔ چترال کے مہتر، گلگت کے راجگان، کوہستان کے قبائلی سردار اس نظام کی نمائندگی کرتے تھے۔
ریاستِ ڈوما بھی ایک غیر مسلم داردی ریاست تھی جو موجودہ خیبرپختونخواہ کے شمالی علاقوں تورغر، بونیر، شانگلہ، بشام ، چکسیر وغیرہ پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کا آخری حکمران ’’ڈوما کافر‘‘ کے نام سے مشہور تھا، جس کی نسبی شناخت داردی اقوام سے تھی۔ سترہویں صدی کے وسط میں اس ریاست کو اخوند سالاک اور بہاکو خان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس لڑائی میں ڈوما مارا گیا اور ریاست کا خاتمہ ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ڈوما کا تعلق چھلیس قوم سے تھا۔ چھلیس یا چھلیسی ایک لسانی و ثقافتی گروہ ہے جو داردی خاندان کا حصہ ہے۔ اس قبیلے کئی ذیلی شاخیں ہیں جو ڈوما کو اپنا جداعلیٰ اور دارد قبائل کا آخری بادشاہ سمجھتی ہیں۔
داردستان کی تاریخ صرف بادشاہوں یا جنگوں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ان لوگوں کی داستان ہے جنہوں نے پہاڑوں کی سختیوں میں اپنی تہذیب کو زندہ رکھا۔ ان کی موسیقی میں بانسری کی سادگی اور ڈھول کی گونج ہے، ان کے رقص میں فطرت کی ہم آہنگی ہے، اور ان کی عبادات میں دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی جھلک ہے۔ اگرچہ اسلام کی آمد کے بعد ان کے عقائد میں تبدیلی آئی، مگر اُن کی ثقافت نے اپنی جڑیں مضبوط رکھیں۔ اُن کے تہوار، لباس، اور بول چال آج بھی اُن کی قدیم شناخت کی گواہی دیتے ہیں۔
آج داردستان کی اصطلاح کتابوں اور تحقیقی مقالوں تک محدود ہو چکی ہے۔ جدید سیاسی نقشوں میں اس کا کوئی وجود نہیں، مگر اس کے آثار آج بھی ان وادیوں میں موجود ہیں۔ چترال کی گلیوں میں کھوار زبان بولی جاتی ہے، گلگت میں شینا کی مٹھاس سنائی دیتی ہے، اور کوہستان میں توروالی اور کوہستانی زبانیں زندہ ہیں۔ یہ زبانیں صرف رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک تہذیب کا آئینہ ہیں، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں، مگر خطرات سے دوچار بھی ہیں۔
بدقسمتی سے، ان زبانوں اور ثقافتوں کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو ان کا حق تھا۔ تعلیمی نصاب میں ان کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے، اور حکومتی سطح پر ان کی ترقی کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی موجود نہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو وہ دن دُور نہیں جب داردستان صرف ایک تاریخی اصطلاح بن کر رہ جائے گی، اور اس کی تہذیب صرف کتابوں میں محفوظ ہوگی۔ یہ صرف ایک خطے کی شناخت کا زوال نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی گمشدگی ہے، جسے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم داردستان کی شناخت کو دوبارہ زندہ کریں۔ ان زبانوں کو تعلیمی اداروں میں شامل کیا جائے، ان کی ثقافت کو قومی ورثہ قرار دیا جائے، اور ان علاقوں میں تحقیق و ترقی کے مراکز قائم کیے جائیں۔ یہ صرف ایک خطے کی بحالی نہیں، بلکہ ایک گمشدہ تہذیب کی بازیافت ہے۔ داردستان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تہذیبیں صرف عمارتوں یا بادشاہوں سے نہیں بنتیں، بلکہ وہ لوگوں کے دلوں، زبانوں اور رسم و رواج میں زندہ رہتی ہیں۔ اگر ہم ان کی قدر کریں تو ہم نہ صرف اپنی تاریخ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو ایک بھرپور ثقافتی ورثہ دے سکتے ہیں۔
