خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں نجی ڈرون پروازوں پر عارضی پابندی عائد، عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں نجی ڈرون پروازوں پر عارضی پابندی عائد، عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں نجی طور پر ڈرون اور دیگر ریموٹ کنٹرول اڑنے والے آلات کی کھلے مقامات پر پرواز پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ایڈوائزری کے تحت نجی افراد، کمرشل آپریٹرز اور مختلف اداروں کی جانب سے کواڈ کاپٹرز، ڈرونز اور اس نوعیت کے دیگر فضائی آلات کی آؤٹ ڈور پروازیں تاحکمِ ثانی ممنوع ہوں گی۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت خیبرپختونخوا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اجتماعی سلامتی کے مفاد میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ عوام کو غیر ضروری اجتماعات سے گریز کرنے، خصوصاً حساس تنصیبات کے قریب جانے سے اور رہائشی علاقوں و عوامی مقامات پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ نامعلوم ڈرون کا ملبہ یا مشکوک فضائی آلہ نظر آئے تو اسے ہاتھ نہ لگایا جائے اور فوری طور پر قریبی تھانے یا ضلعی کنٹرول روم کو اطلاع دی جائے۔تمام سرکاری محکموں، ذیلی دفاتر اور سرکاری اداروں کو بھی اپنی سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سرکاری احاطوں میں غیر ضروری آؤٹ ڈور تقریبات محدود کرنے اور عملے کو مشکوک فضائی سرگرمی کی صورت میں بروقت اطلاع دینے کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
متعلقہ حکام کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں مشکوک اشیاء یا ڈرون کے ملبے سے نمٹنے کا واضح طریقہ کار بھی بیان کیا گیا ہے۔ کسی بھی ایسی چیز کی برآمدگی کی صورت میں فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لیا جائے گا اور عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا جائے گا۔ صرف بم ڈسپوزل یونٹ یا تربیت یافتہ عملہ ہی اس مواد کو چیک کرے گا، اور باقاعدہ کلیئرنس ملنے تک عوام کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات محض احتیاطی نوعیت کے ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پُرسکون رہیں، حکام سے مکمل تعاون کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ مستند معلومات پر ہی اعتماد کریں۔