The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 29 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، صحت، گندم پالیسی اور فلاحی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، صحت، گندم پالیسی اور فلاحی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کا 48واں اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے 4 ارب 6 کروڑ 51 لاکھ 20 ہزار روپے کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے صوبے بھر بشمول ضم شدہ اضلاع سرکاری صحت مراکز میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی 2,439 فکسڈ پے آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی۔

کابینہ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ان آسامیوں پر بھرتی ڈویژنل سطح کی محکمانہ سلیکشن کمیٹیوں کے ذریعے واک اِن انٹرویوز کے تحت کی جائے، جیسا کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ آف ڈاکٹرز فکسڈ پے رولز 2022 (ترمیم شدہ 2025) میں درج ہے، تاکہ صوبے میں صحت کی خدمات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا ویگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن بل 2025 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی۔ مجوزہ قانون گداگری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حقوق پر مبنی جدید فریم ورک متعارف کراتا ہے، جس میں منظم اور جبری بھیک مانگنے کو شامل کرتے ہوئے کمزور افراد اور مجرمانہ نیٹ ورکس کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے۔ بل میں بھیک مانگنے میں ملوث بچوں کے تحفظ، استحصالی سرگرمیوں پر سزاؤں اور پالیسی ہم آہنگی کے لیے صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی شقیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بحالی، ہنر مندی پروگرامز اور نان لیپس ایبل ری ہیبلیٹیشن فنڈ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

کابینہ نے ہائیبرڈ ویٹ پروکیورمنٹ اینڈ اسٹریٹیجک ریزروز پالیسی 2026 کی منظوری دی، جس کے تحت سرکاری اجارہ داری پر مبنی گندم خریداری نظام سے بتدریج مارکیٹ بیسڈ معیشت کی جانب منتقلی کی جائے گی، جبکہ اسٹریٹیجک ذخائر برقرار رکھ کر غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس پالیسی سے صوبائی خزانے پر مالی بوجھ میں کمی متوقع ہے۔

کابینہ نے 38 ارب 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی گندم خریداری واجبات وفاقی حکومت کے ساتھ 41 ارب 97 کروڑ روپے کے پاسکو واجبات کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دی، جبکہ بقیہ 3 ارب 92 کروڑ 80 لاکھ روپے پاسکو کے حق میں ادا کیے جائیں گے۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے تحت بی ایس، ایم بی بی ایس، انجینئرنگ، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کے لیے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 میں مجوزہ ترامیم، پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بریسٹ اسکریننگ سنٹرز کے قیام، اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کے لیے 15 کنال اراضی کی منتقلی اور سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔

اس کے علاوہ کوہاٹ روڈ پشاور پر لیڈیز اینڈ چلڈرن پارک کے لیے اراضی کی فراہمی، پشاور ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کے لیے اراضی ایکوزیشن کی فنڈنگ، ضلع ہنگو میں جوڈیشل کمپلیکس کی توسیع کے لیے 29 کنال 9 مرلہ سرکاری اراضی کی منتقلی اور ضلع خیبر میں 6,505 متاثرہ خاندانوں تک تیراہ ماڈل مالی معاونت پیکیج کی توسیع کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ میں نجی شعبے کے نمائندے کی نامزدگی کی بھی منظوری دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
118295

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، جیل کی سہولیات، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم ترامیم، منصوبوں اور اصلاحات کی منظوری دیدی گئی

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، جیل کی سہولیات، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم ترامیم، منصوبوں اور اصلاحات کی منظوری دیدی گئی

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا کابینہ نے سول سیکرٹریٹ پشاورمیں ہونے والے 15ویں اجلاس کے دوران صوبے میں بہتر امن و امان، جیل کی سہولیات، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم ترامیم، منصوبوں، اور اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کی، جس میں وزراء، مشیروں، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری خیبر پختونخو ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں اہم ترامیم کی منظوری دی، جس سے صوبے میں موثر قانون نافذ کرنے میں رکاوٹیں دور کی جاسکیں گی. تجویز کردہ تبدیلیوں کا مقصد پولیس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، جوابدہی میں اضافہ کرنا، عوام اور پولیس کے تعلقات کو بہتر بنانا، اور موجودہ قانون سازی میں خامیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ ان ترامیم کا مقصد پولیس کے نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ کارکردگی کا معیار حاصل کرنا ہے۔

ترامیم کے تحت خیبر پختونخوا پولیس کمپلینٹ اتھارٹی ایکٹ 2024 کا بھی نفاذ عمل میں لایا جائے گا جس کے تحت کمپلینٹ اتھارٹی پولیس کنڈکٹ کے خلاف عوامی شکایات کی آزادانہ تحقیقات ممکن بنائے گی. کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں قائم ڈی ریڈیکلازیشن مراکز کے بجٹ میں اضافے کی بھی منظوری دی، جس کی کل لاگت اب 1,763.097 ملین روپے ہو گئی ہے۔ یہ مراکز انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد کی بحالی کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ خیبر میں سباؤن اور جنوبی وزیرستان میں اجالا بحالی مراکز میں ان افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے نفسیاتی امداد، مذہبی تعلیم، اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔کابینہ نے سب جیل صوابی کی زیر تعمیر بلڈنگ کی جزوی آپریشنلائزیشن کے لیے 495.00 ملین روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوابی جیل 1894 میں تعمیر کی گئی تھی جو کہ اس وقت خستہ حال ہے اور اس میں 130 کی گنجائش کے برعکس 259 قیدی موجود ہیں۔ سب جیل صوابی (مرحلہ II) کی تعمیر، جو 2017 میں 1,398.00 ملین روپے کی لاگت سے شروع ہوئی جو اب تکمیل کے قریب ہے.

ایک اور فیصلے میں کابینہ نے خیبر پختونخوا جیل کے قواعد 2018 میں ترمیم کی منظوری دی، جس میں قیدیوں کے لیے خوراک کے مینو کو بہتر بنایا گیا ہے۔ مینو میں چکن کڑاہی، چاول جوشی، سفید چنا، اور لوبیا شامل کیا گیا ہے۔ ناشتہ پراٹھے کے لیے آٹے کی مقدار کو 75 گرام سے بڑھا کر 100 گرام کر دیا گیا ہے، جبکہ چینی اور گھی کی مقدار بھی بڑھائی گئی ہے۔ خصوصی آیام میں دوپہر اور شام کے کھانے کے لیے بیف کے ساتھ چکن بھی مینو میں فراہم ہوگا.کابینہ نے ضم اضلاع کے طلباء کے لئے ملک کے 25 میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں مختص 333 کوٹہ سیٹوں کے لئے تقسیم کار پالیسی کی منظوری دی. صوبائی کابینہ نے بی آر ٹی منصوبے کے باقی کاموں کی تکمیل کے لیے ٹرانس پشاور کے پاس موجود اے ایف ڈی سے وصول کیے گئے غیر استعمال شدہ قرضے کے فنڈز کی پہلے محکمہ خزانہ اور پھر پی ڈی اے کو منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اے ایف ڈی نے ٹرانس پشاور کو آپریشنل اخراجات کے لیے €31.87429 (یورو)ملین جاری کیے تھے، جن میں سے €12.8522 ملین استعمال ہو چکے ہیں۔ باقی ماندہ €19.0221 ملین (5.645 بلین روپے کے مساوی) ٹرانس پشاور کے پاس قرض کی توسیعی معاہدے کے تحت موجود ہیں۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق، ٹرانس پشاور غیر خرچ شدہ رقم کو محکمہ خزانہ کو منتقل کرے گا، جو بعد میں ان فنڈز کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بی آر ٹی کے بقایا کاموں کی تکمیل کے لیے جاری کرے گا۔کابینہ نے خیبر پختونخوا زکوٰۃ اور عشر کونسل کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ مزید یہ کہ، شہید کے اعزاز میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج خار باجوڑ کا نام تبدیل کرکے گورنمنٹ شہید ریحانزیب کالج خار باجوڑ رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کے پی بی او آئی ٹی کے نائب چیئرمین کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا میں وائلڈ لائف پارکوں کے قیام کی فزیبلٹی سٹڈی کے پی سی-I کی دوسری نظرثانی کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ کابینہ نے خیبر پختونخوا ہتھیاروں اور گولہ بارود کی لائسنسنگ کی پالیسی 2024 میں ترامیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت ہتھیاروں کی ضلعی لائسنسنگ کمیٹی (ڈی ایل سی) کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے گا. کابینہ نے قمبر بائی پاس مینگورہ سوات میں جنرل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کی خریداری کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کی بھی منظور دی. مزید برآں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق کابینہ نے سابقہ فاٹا ڈولپمنٹ کارپوریشن کے تین سروئیرز کی ذاتی اپ گریڈیشن کی منظوری دی. جبکہ الطاف حسین ولد مرسلین خان کے طبی علاج کے لیے مالی امداد بھی منظور کی گئی۔

ہمارے پر امن احتجاج کے دوران اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت اور افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین خان گنڈاپور نے آج کابینہ اجلاس میں اسلام آباد میں حالیہ واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پر امن احتجاج کے دوران اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے باوردی اہلکاروں کو زدو کوب کیا گیا، بعض اہلکاروں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ریسکیو اہلکاروں کو بھی غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ہمارے اہلکاروں پر کسی بھی قسم کا تشدد ثابت ہوا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ریسکیو مشینری کو بھی غیر قانونی طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے، جو کہ قابل مذمت ہے۔علی امین گنڈاپورکا مزید کہنا تھاکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ، جہاں بھی وہ جائیں گے، ان کے ساتھ اہلکار، ایمبولینس اور درکار مشینری لازمی ساتھ ہوگی۔ انہوں نے کے پی ہاوس اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کو فسطائیت قرار دیا اور کہا کہ ہماری املاک کو غیر قانونی طور پر توڑا گیا ہے، جس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کے پی ہاو¿س میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ ان نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ علی امین خان گنڈاپور نے وفاقی حکومت کے غیر قانونی اقدامات اور فسطائیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اٹھارہویں ترمیم کے تحت اپنے آئینی حقوق اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپورنے ضلع خیبر میں گزشتہ روز ہونے والی بارشوں اور سیلاب سے تین بچوں کے جاںبحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی ہے ۔ یہاں سے جاری اپنے ایک تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے جاںبحق بچوں کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے اور کہا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کیلئے مالی معاونت کا اعلان کیا ہے اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ضروری کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہاءنہیں چھوڑا جائے گا، ان کی ہرممکن معاونت کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے بارشوں اور سیلاب سے زخمی افراد کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ انتظامیہ کو انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
94187

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے، اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ نگران صوبائی حکومت اپنی مختصر مدت میں صوبے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے پر عزم ہے اور اس مقصد کے لئے بہت جلد خوشحال خیبرپختونخوا کے نام سے ایک پروگرام کا اجراء کردیا جائے گا جس کے تحت صوبے کے مالی مسائل کو ٹھیک کرنے، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانے، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، عوامی خدمات کے نظام کو عوامی توقعات کے مطابق بنانے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قلیل المدتی اقدامات پر فی الفور عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ طویل المدتی اقدامات آنے والی منتخب حکومت کے لئے تجویز کئے جائیں گے۔ اس طرح آنے والی حکومت کے لئے ایک روڈ میپ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا تسلسل جاری رکھ سکے۔ ان خیالات کا اظہاروزیر اعلیٰ نے پیر کے روز نگران کابینہ کے 17 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں نگران صوبائی کا بینہ کے اراکین،چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کی تیاری میں چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری اور ان کی ٹیم نے مختصر وقت میں ایک بہت ہی اچھا اور قابل عمل پروگرام تیار کیا ہے، جس پر عملدرآمد کرکے صوبے کے عوام کی بہتر انداز میں خدمت ہوگی۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور صوبے کے عوام کی بھلائی کے کام میں اپنا حصہ ڈالیں، یہ اللہ کی مخلوق کی بھلائی کا کام ہے جس کا اجر اللہ دنیا اور آخرت میں دے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس تھوڑا وقت ہے لیکن ہم ایک اچھی شروعات کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور اگر نیت اور جذبہ نیک ہو تو ہم تھوڑے سے وقت میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ خوشحال پختونخوا پروگرام کی چیدہ چیدہ خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن و امان اور مالی صورتحال کی بہتری اس پروگرام کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، اس کے علاوہ گورننس کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لئے انٹرنیشنل مارکیٹ کی ڈیمانڈز کے مطابق آئی ٹی بیسڈ کورسز کرائے جائیں گے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔صوبائی کابینہ نے مالی سال 2023-24کے دوران سکول جانے والے بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کیلئے نان اے ڈی پی کے تحت 218.7 ملین روپے لاگت پر مشتمل سکیم کی منظوری دی اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ کیلئے جب بھی امدادی ایجنسیوں کی مدد سے اس طرح کا کوئی پروگرام بنایا جائے تو اس میں صوبائی حکومت پرمستقبل میں پڑنے والے بوجھ کا اندازہ بھی لگایا جائے۔ اس موقع پر صوبائی کابینہ نے فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی خالی اسامی کو پر کرنے کے لئے احسان اللہ (پی سی ایس ای جی بی ایس-20) کی تعیناتی کی منظوری دی۔ تاہم اس حوالے سے اعلامیے کا اجراء الیکشن کمیشن آف پاکستان کی این او سی سے مشروط ہو گا۔کابینہ نے تحصیل شرینگل ضلع دیر اپر میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لئے 4 کنال سرکاری اراضی اس شرط کے ساتھ عدلیہ کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی کہ اس کے ساتھ ریونیو عدالتیں بھی بنائی جائیں گی تاکہ عوام کو ایک ہی جگہ سہولتیں میسر ہوں۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ کے لئے جس جگہ بھی جوڈیشل عدالتیں بنائی جائیں وہاں پر ریونیو اور انتظامی عدالتوں کی عمارتیں بھی بنائی جائیں تاکہ عوام اور وکلاء کو مختلف عدالتوں میں جانے میں آسانی ہو۔

صوبائی حکومت نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت سرکاری عمارات اور دفاتر کی مرمت اور بحالی پر عائد پابندی ہٹانے کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں مالاکنڈ لیویز کو پولیس میں شامل کرنے کے معاملے پر مختلف رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔چونکہ یہ معاملہ قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتا ہے اور اس میں بہت سے پیچیدہ اور دور رس قانونی،سیاسی اورمالی امور شامل ہیں اسی لیئے اس کا فیصلہ آئندہ آنے والی منتخب حکومت تک موخر کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کابینہ نے بزنس رولز 1985 کے رول 19 کے تحت زینت بیگم کی 100کنال اراضی جو چار سدہ پنیرک میں واقع ہے کو کورٹ آف وارڈ سے ریلیز کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ درخواست گزار خاتون کو ڈپٹی کمشنر چارسدہ مذکورہ اراضی کی رقوم کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ اسے کوئی بھی اس کے حق سے محروم نہ کر سکے۔خیبر پختون خوا کابینہ نے باچا خان میڈیکل کالج مردان کے لیے مختص 1000 کنال اراضی اپنے مالکان کو واپس کرنے کی منظوری دی۔ یہ اراضی 2009 میں باچا خان میڈیکل کالج کو وسعت دینے کی غرض سے حاصل کی گئی تھی لیکن مختلف مقدمات کے نتیجے میں اس اراضی کی قیمت میں کافی اضافہ ہوگیا تھا اور موجودہ اراضی میں متعلقہ یونیورسٹی احسن انداز میں چلائی جا رہی ہے۔

کابینہ نے محکمہ صحت کے تین افسران کی میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی منظوری بھی دے دی۔ گریڈ 19 کی ڈاکٹر زاہدہ پروین اور ڈاکٹر نصرت بیگم حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جبکہ ڈاکٹر جمال بہادر لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تین سالوں کے لیے ڈیپوٹیشن پر کام کرینگی۔ صوبائی کابینہ نے ویمن اینڈ چلڈرن لیاقت میموریل ٹیچنگ ہاسپٹل کوہاٹ کی تعمیر نو پر خرچ ہونے والی اضافی لاگت کی منظوری دے دی۔ نظرثانی شدہ پی سی ون کے تحت تعمیر نو کی لاگت 1633 ملین سے بڑھ کر 2071ملین روپے ہو گئی ہے۔ اس فیصلے سے مذکورہ ہسپتال کا سالہا سال سے التوا میں پڑے منصوبے کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں مالی سال-24 2023 کے لئے ایف سی پی ایس پارٹ II ٹر ینی میڈیکل آفیسرکی 158 اضافی آسامیوں کے لئے وظائف کی منظوری دی۔ جن پر 178 ملین روپے کا خرچہ آئے گا۔ یاد رہے کہ مذکورہ آسامیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹی ایم آوز سپیشلائزیشن نہیں کر سکتے تھے۔صوبائی کابینہ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت تین سالوں کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کی تشکیل نو کی منظوری دی۔کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کونجی شعبہ سے کسی ایک مزید ممبر کا اضافہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

صوبائی کابینہ نے مقامی طور پر اگائی جانے والی سبزیوں کے بیجوں کے پیدا واری نظام میں بہتری لانے کے لئے اوکاڑہ سیڈ کمپنی سے مفاہمتی یادداشت کے ڈرافٹ اور سیڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن کی مشاورت سے نجی شعبے کی کمپنیوں کو سازگار ماحول اور پرکشش مراعات دینے، تحقیقاتی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور پالیسی پر عمل درآمد کی خاطر مفاہمتی یاداشت کے لئے محکمہ زراعت کو اجازت دے دی۔ صوبائی کابینہ نے مفت (ٹیکسٹ بک) درسی کتب کی طباعت و اشاعت پر اخراجات میں کمی لانے کے لئے سفارشات کی منظوری دی۔ سفارشات پر عمل درآمد سے صوبائی خزانے پر بوجھ میں کمی آئے گی۔ تاہم درسی کتب کے لئے مالی سال-24 2023 کے لئے مختص بجٹ کو برقرار رکھا جائے گاساتھ ہی کابینہ نے ٹیکس بک بورڈ کو آئندہ سال کے لئے درسی کتب کی طباعت کے لئے درکار فنڈز کی بھی منظوری دی۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ تعلیم طلبہ میں سافٹ بکس کی تقسیم کے طریقہ کار و امکانات کا بھی جائزہ لے تاکہ اگر ممکن ہو تو طلبہ کو کم سے کم لاگت پر کتابیں فراہم کی جاسکیں۔اس موقع پر کابینہ نے پولیس پبلک سکول کے اساتذہ کے بقایا جات کی ادائیگی کی منظوری دے دی اورکابینہ نے پہلے سے دیئے ہوئے فیصلے کے ابہام کو دور کرتے ہوئے قرار دیا کہ مذکورہ کمیٹی کی شفارشات کی روشنی میں جن اساتذہ اور سٹاف کے جو واجبات بنتے ہیں وہ جلد ہی ادا کر دیئے جائیں۔یا د رہے کہ مذکورہ ملازمین کا یہ مسلہ گزشتہ 25 سا ل سے مختلف عدالتوں بشمول سپریم کورٹ کے زیر التواتھا ساتھ ہی کابینہ نے ضم اضلاع میں گورنر ماڈل سکولز کے اساتذہ کی دس ماہ سے رکی ہوئی تنخوہوں کی ادائیگی کے لیئے درکار فنڈز کی منظوری دے دی جس کے نتیجے میں تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔ مذکورہ بالا دونوں فیصلوں کے ضمن میں کابینہ نے ہدایت کی کہ کابینہ کے منٹس کے اجراء کا انتظار نہ کیا جائے اور اساتذہ کو ان کے واجبات جلد از جلد ادا کر دئے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
82887