The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 30 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر تشویشناک اثرات اور فوری اقدامات کی ضرورت پر مبنی رپورٹ جاری

خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر تشویشناک اثرات اور فوری اقدامات کی ضرورت پر مبنی رپورٹ جاری
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے صحت پر کلائمیٹ چینج کے اثرات سے متعلق رپورٹ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر تشویشناک اثرات اور فوری اقدامات کی ضرورت پر مبنی رپورٹ کی لانچنگ تقریب پشاور میں منعقد ہوئی۔ لانچنگ تقریب میں مشیر صحت احتشام علی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ کے پی عبدالغفور شاہ، چیف ہیلتھ سیکٹر ریفارم یونٹ کے پی ڈاکٹر خلیل اختر، چیف اکنامسٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ عارف اللہ، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، دیگر سینئر سرکاری عہدیدار، اس رپورٹ کے تکنیکی ورکنگ گروپ کے ارکان، ترقیاتی شراکت دار اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مشیر صحت احتشام علی نے صحت پر کلائمیٹ چینج کے اثرات سے متعلق رپورٹ کے لانچنگ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تغیر سے سب سے پہلے صحت کا شعبہ متاثرہ ہورہا ہے۔ موسمیاتی تغیر کے نتیجے میں آنے والی آفات سے پبلک ہیلتھ کو بڑاخطرہ لاحق ہے۔ سیلاب کی وجہ سے واٹر اور ویکٹر بارن ڈیزیز میں اضافہ ہورہا ہے۔

کلائمیٹ چینج سے ماں اور بچے کی صحت سمیت بچے بوڑھے سب متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے محکمہ صحت میں موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کیلئے کلائمیٹ چینج سیل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ سیزن کے لحاظ سے ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ڈونرز محکمہ صحت کے کلائمیٹ ریزیلئنٹ ہونے میں ہمارا ساتھ دیں۔دور افتاد علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی آگاہی لازمی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عمل پیرا ہوکر محکمہ صحت میں انقلابی اقدامات اُٹھائیں گے۔ ان کے مطابق جنگلات کی کٹائی، بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادکاری اور موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کیلئے بڑے فیصلوں کے نہ ہونے سے محکمہ صحت موسمیاتی تبدیلی سے کافی متاثر ہوا ہے۔ پختونخوا محکمہ صحت پاکستان کا پہلا محکمہ ہے جس نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے والنربلٹی اسسمنٹ کی۔ رپورٹ میں فوری طور پر صوبے کی صحت کی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

موسمیاتی لحاظ سے مضبوط طبی عملہ تیار کرنے کے لیے مالی وسائل میں اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ طبی آلات و مصنوعات کو موسمیاتی آفات کے دوران کمیونٹی تک پہنچانے کے لیے مستحکم سپلائی چینز کے مربوط نظام کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی اثرات کی نگرانی اور بروقت ردعمل کے لیے ڈیٹا سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت ایڈوکیٹ احتشام علی اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا ڈاکٹر سلیم خان نے برطانوی ہائی کمیشن کی ترقیاتی ڈائریکٹر مس جو موئیر کے ساتھ شرکا ء کی موجودگی میں صحت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر رپورٹ کی رونمائی کی- اس رپورٹ کو یو کے ایویڈینس فار ہیلتھ پروگرام کے تعاون سے محکمہ صحت، حکومت خیبرپختونخوا کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے۔ اس جائزے میں خیبر پختونخوا میں موسمیاتی لحاظ سے مضبوط صحت کا نظام تیار کرنے کا واضح راستہ تجویز کیا گیا ہے جو ہمیں صوبے کی آبادی کی صحت کو محفوظ رکھنے اور بہتر منصوبہ بندی میں مدد دے گا۔برطانوی ہائی کمیشن کی ترقیاتی ڈائریکٹر مس جو موئیر نے کہا کہ برطانیہ، خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام کی بہتری کے لیے مدد کر رہا ہے-

یہ رپورٹ خیبر پختونخوا کے کمزور طبقات کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک لائحہ عمل فراہم کرتی ہے، جن میں پہلے سے موجود بیماریوں کے شکار افراد، بزرگ، معذور افراد خواتین اور بچے شامل ہیں۔یہ جائزہ 100 سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مختلف سطحوں پر کی گئی مشاورت پر مبنی ہے، جن میں کمیونٹ ضلع، صوبائی اور قومی سطحوں کے افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 23 دیہی اور شہری صحت کی سہولیات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو صوبے کے مختلف موسمیاتی علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا ڈاکٹر سلیم خان نے کہاکہ اس جائزے کے نتائج سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ خیبر پختونخوا کا مجموعی صحت کا نظام موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے سامنے بہت کمزور ہے۔ اس رپورٹ کی سفارشات ہمیں پانی سے پیدا ہونے والے مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی اور سانس کی بیماریوں کے لیے صحت کے پروگرام تیار کرنے میں مدد دیں گی۔اگلے مرحلے میں، اس جائزے کے نتائج اور سفارشات خیبر پختونخوا حکومت کے لیے ایک قابل عمل ایڈاپٹیشن پلان کا حصہ بنیں گی۔ ایویڈینس فار ہیلتھ پروگرام، جسے برطانوی فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس فنڈ کرتا ہے، وفاق،خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو مضبوط صحت کے نظام کے حصول اور ترقی کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

chitraltimes kp health department launched report on climate change kp health minister chief guest

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
93665